دہشت گردی کے خلاف ’ردالفساد‘ کے نام سے نیا آپریشن

ملک میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کی پہ در پہ وارداتوں میں سو سے زیادہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد منگل کو پاکستان کی فوج نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف ’ردالفساد‘ کے نام سے ایک نیا سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل پاکستانی فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کیا جا رہا تھا۔ اس آپریشن کا آغاز جون 2015 میں کیا گیا جبکہ اس سے قبل سوات اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے گئے تھے۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد بلا کسی تفریق کے ملک سے بچے کچے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان آپریشنز سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنے گی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ، بحریہ، سول فورسز اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی حصہ لیں گے۔

اس آپریشن کے اعلان سے قبل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں لاہور میں سکیورٹی اجلاس ہوا تھا۔
بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں پنجاب میں رینجرز بھی حصہ لیں گے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فوجی آپریشن کے آغاز کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل پنجاب میں رینجرز کو اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کوششوں میں ملک کو اسلحے سے پاک کرنا اور آتشی مادے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
.
فوج کا کہنا ہے کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا بھی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات میں آپریشن راہ حق سنہ 2007 میں کیا گیا تھا.

سنہ 2008 میں باجوڑ ایجنسی میں آپریشن شیر دل کا آغاز کیا گیا تھا۔

سوات ہی میں شدت پسندوں کے قبضے کے بعد آپریشن راہ راست سنہ 2009 میں کیا گیا تھا۔ اس آپریشن کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مقامی افراد نے ملک کے دیگر علاقوں میں نقل مکانی کی۔

سنہ 2009 میں جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ راست کا آغاز کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ خیبر ایجنسی میں گذشتہ کافی عرصے سے شدت پسندوں کے خلاف فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان آپریشنز کو خیبر ون، ٹو اور تھری کا نام دیا گیا تھا۔

پاکستانی فوسرز کی جانب میں ملک میں گذشتہ برس سے کومبنگ آپریشنز کا آغاز بھی کیا گیا تھا جن میں شہروں میں بھی مختلف کارروائیاں کی گئیں اور بڑے پیمانے پر دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

آپریشن ضرب عضب کے چند ماہ بعد دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد پاکستانی حکام نے نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔

20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ تاہم دو برس گزر جانے کے باوجود سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کی جانب سے اس منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے کی جانے والے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے