اسلام آباد میں دی نیوز اخبار کے سینئر صحافی احمد نوارانی پر چاقو سے حملہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے زیرو پوائنٹ میں نامعلوم افراد نے چاقو کے وار کرکے دی نیوز اخبار کے رپورٹر احمد نورانی اور ان کے ڈرائیور کو زخمی کردیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اردو یونیورسٹی کے قریب احمد نورانی اور ان کے ڈرائیور پر چاقو سے وار کیے، جس سے دونوں زخمی ہوگئے۔

واقعے کے فوری بعد زخمیوں کو علاج کے لیے پولی کلینک منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملے میں متاثر ہونے والے افراد کو سر میں زخم آئے ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بنائی جارہی ہے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آٓغاز کردیا۔

بعد ازاں ملک کے سیاست دانوں، نامور صحافیوں اور سماجی شخصیات نے اسلام آباد میں احمد نورانی پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مزمت کی۔

جیو نیوز کے اینکر اور سینئر صحافی حامد میر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے وزیر داخلہ احسن اقبال کے لیے ایک ٹیسٹ کیس قرار دیا .

دی نیوز کے ایڈیٹر انصار عباسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ 6 حملہ آوروں نے احمد نوارانی پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں ان کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔

احمد نورانی کے ساتھی سید طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو ‘شرمناک’ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو لاحق خطرات پر اب تک کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ذمہ داروں کی شناخت کرکے ان کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2017 کے مطابق صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں پاکستان 139ویں نمبر پر ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 15 سال میں اب تک 117 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے جن میں سے صرف 3 کیسز ہی عدالت تک جا سکے۔

گزشتہ روز بلوچستان میں خبر رساں ادارے کے دفتر پر حملے میں 8 افراد زخمی ہوگئے تھے جبکہ آواران کے علاقے میں دہشت گردوں نے اخبار لے جانے والی گاڑی پر حملہ کرکے فائرنگ کی اور تمام اخبارات جلادیئے تھے۔

واضح رہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں نے بلوچستان میں میڈیا ہاؤسز پر ان کے بیانات جاری نہ کرنے پر حملوں کا اعلان کر رکھا ہے۔

علاوہ ازیں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے ایک جاری بیان میں بلوچستان کی صورتحال کو صحافت کی آزادی کے لیے جمہوری نظام کے خلاف قرار دیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے