آزادکشمیرسپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی کے مقبوضہ کشمیر میں داخلےپر پابندی

سپریم کورٹ آف آزاد جموں کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور حسین گیلانی کے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔

اے جے کے ایل او سی ٹریول اینڈ ٹریڈ اتھارٹی نے بھاری مقبوضہ کشمیر کی حکام کی جانب سے موصول ہونے والی ایک ایک میل کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ڈی ۔اے مظفرآباد سری نگر بس سروس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں منظور حسین گیلانی کے لائن آف کنٹرول کے اس پار سفر کرنے کا اجازت نامہ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔

حکم نامے کے مطابق ’منظور حسین گیلانی پرمٹ نمبر 65900 کے تحت21 اگست 2017 کو کمان کراسنگ پوائنٹ کے راستے بھارتی زیر انتظام کشمیر میں داخل ہو ئے تھے ، انہوں نے دوران قیام ضابطہ اخلاق کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے، جس کی بنیاد پر ان کا پرمٹ منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ جسٹس(ر) منظور حسین گیلانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ، ان کے مطابق وہ 2005ٗء میں مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان شروع ہونے والی بس سروس کے ذریعے دس سے بارہ مرتبہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مقیم اپنے عزیزو اقارب سے ملنے جاچکے ہیں ۔

ان کے بقول ان دوروں میں وہاں موجو د اپنے علی گڑھ کے زمانے کے ہم جماعت دوستوں اور عزیزوں سے تفصیلی بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن حکام کی جانب سے کبھی ایسی پابندی نہیں لگائی گئی ۔ منظور حسین گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب بھارتی میڈیا پاکستان میں قید بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کی اس کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کی خبروں کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے ۔

خیال رہے کہ مظفرآباد اور سری نگر کے درمیان سفر کئی برس کی بندش کے بعد 2005ء میں مظفرآباد سری نگر بس سروس کی صورت میں بحال ہوا تھا ، جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب منقسم کشمیری خاندانوں کو ملاقات کا موقع ملا ۔

جب سے بھارت میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ، کشمیری مسافروں کو دوران قیام سخت نگرانی اور پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں میں گہری تشویش جنم لے رہی ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے