اسلام آباد: احتجاج کے سائے میں
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے، وہ شہر جہاں ریاست کے اہم ترین ادارے، پارلیمنٹ، عدالتیں، سفارت خانے اور انتظامی مراکز قائم ہیں۔ لیکن گزشتہ
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے، وہ شہر جہاں ریاست کے اہم ترین ادارے، پارلیمنٹ، عدالتیں، سفارت خانے اور انتظامی مراکز قائم ہیں۔ لیکن گزشتہ
یہ غالباً 2014ء کی بات ہے۔ میری ڈگری کالج چلاس میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے بزرگ پروفیسر جناب اشرف ملک صاحب کالج کے
گزشتہ چند سالوں سے جب بھی مارچ کا مہینہ رخصت ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے ہم نے سیدھے مئی کے سلگتے ہوئے تنور میں
گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑ اور گلیشیئر صرف اس خطے کی خوبصورتی نہیں بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے پانی کے قدرتی ذخیرے
ابھی تو صرف رختِ سفر باندھا ہے، مکہ جانے کی گھڑیاں قریب ہیں، لیکن یہ سوچ سوچ کر ہی آنکھیں بھیگی ہوئی ہیں اور دل
جنوبی ایشیا اس وقت غیر معمولی جغرافیائی اور سفارتی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ پاکستان ایک ہی وقت میں افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، بھارت
ظرفِ لاجواب، کرم بے مثال ہے مجھ جیسا آ گیا ہے مدینہ کریم ہے میں جب بھی مدینہ آتا ہوں، واپس جانے سے بہت ڈر
اس دن چلچلاتی دھوپ اور شدید حبس میں جب میں شہر کی ایک مصروف شاہراہ سے گزر رہی تھی، تو میری نظر”وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم“
باشعور انسان اپنی زندگی میں ایک عجیب سا تأثر اُس وقت محسوس کرتا ہے، جب اُس کی ملاقات کسی ایسی علمی شخصیت سے ہو جو
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے نامور اور کامیاب تعلیمی ادارے مختلف ممالک اور اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے کیمپس