محرم گزر گیا، کربلا نہیں گزری
یہ کالم لکھنے کی وجہ بھی وہی ہے جس نے پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے
یہ کالم لکھنے کی وجہ بھی وہی ہے جس نے پچھلے چند دنوں سے سوشل میڈیا پر طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے
ایک مدت ہوئی ہم نے اپنے گھروں کی دیواروں پر سجے آئینوں سے گفتگو نہیں کی۔ ہم روز ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، لباس
سر پر ہیلمٹ پہنے۔ ہاتھوں میں دستانے۔پیر میں جوگرز اور پنک رنگ کی اسکوٹی پر سوار پاکستان کی بائیکرز لڑکیوں کو دیکھیں تو بہت خوشی
دہشت گردی کے معاصر منظرنامے کو اگر صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود کرکے دیکھا جائے تو اس بحران کی حقیقی ساخت ہماری
اب میں کیا کروں ، بہت سی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں ، مگر ہر دفعہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔
کسی بھی قوم کی ترقی کا سفر صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی سے طے نہیں ہوتا بلکہ اس کے حقیقی
دہشت گردی کی اصل تباہ کاری صرف اس لمحے میں پوشیدہ نہیں ہوتی جب بارود پھٹتا، گولی چلتی یا کوئی معصوم زندگی چراغِ سحر کی
ہنزہ میں ایک ہوٹل میں غیر ملکی سیاحوں کے مخلوط ڈانس کی ویڈیو کیا وائرل ہوئی، فیس بک پر ایسا معرکہ برپا ہوگیا جیسے گلگت
اے آئی کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ اگر انسان کی تخلیق کا کوئی مقصد ہے تو وہ بہرحال مائیکروسافٹ ایکسل پر کام کرنا نہیں۔ انسان شاعری
برادرم یاسر پیرزادہ نے ’ایک ڈاکٹر کی ڈائری ‘لکھ کر اپنی علالت کا احوال بیان کیا تو مجھے بھی اپنا پوشیدہ کرودھ بیان کرنے کا