مولانا صاحب، معافی مانگ لیں!
یار، لوگوں کا اس بات پر بڑا زبردست بلکہ دھواں دار اتفاق ہے کہ "مولانا صاحب کو معافی مانگ لینی چاہیے۔” تو "مولانا صاحب، پلیز
یار، لوگوں کا اس بات پر بڑا زبردست بلکہ دھواں دار اتفاق ہے کہ "مولانا صاحب کو معافی مانگ لینی چاہیے۔” تو "مولانا صاحب، پلیز
سونم وانگ چک کا تعلق لداخ کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے۔عمرتقریباً 59برس ہے۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔گریجویشن کیلئےجموں و کشمیر گئے۔اپنے تعلیمی اخراجات
کئی سال ہوئے کہ مجھے صوبہ سندھ کے قدیم خانوادوں، مدارس اور خانقاہوں میں جا کر بعض قدیم کتب خانوں اور علمی ذخیروں کے دیکھنے
ریاستیں صرف جغرافیائی سرحدوں، قدرتی وسائل یا فوجی طاقت سے مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی اصل قوت ایک مضبوط آئینی نظام، قانون کی حکمرانی
ہر معاشرہ مختلف مزاج اور سوچ رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ انہی میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی کا
ممکن ہے بہت سے لوگ مجھ سے اختلاف کریں، لیکن میرے نزدیک مولانا فضل الرحمٰن ایک کامیاب سیاست دان تو ہیں، مگر ایک کامیاب رہنما
جامعۃ الرشید کراچی، ملک کا ایک معروف اور ممتاز دینی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے رکھی۔ اگرچہ
اِنَّ سُنَنَ التَّارِیخِ لَا تَجْمُدُ عَلٰی صُوَرِہَا، وَلٰکِنَّهَا تَتَجَدَّدُ فِی أَثْوَابٍ مُخْتَلِفَۃٍ۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ تمدنوں کی قسمت کا
یہ ایک عام انسان کی کہانی ہے جو اپنے ایک لاپتہ دوست کو تلاش کرنے گھر سے نکلا تھا لیکن ہزاروں لاپتہ افراد کی کہانیاں
تیسرا حصہ پوری رات میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور رہی۔دل پر ایسی بے چینی طاری تھی کہ ہرگزرتا لمحہ صدیوں پر محیط محسوس ہو