پاکستان کا جیو اکانومک مقدمہ
عصرِ رواں کی ابجد اب جغرافیائی حدود اور عسکری فتوحات کے روایتی ابواب سے آزاد ہو کر ایک ایسے تغیرِ کلی کے دوراہے پر آ
عصرِ رواں کی ابجد اب جغرافیائی حدود اور عسکری فتوحات کے روایتی ابواب سے آزاد ہو کر ایک ایسے تغیرِ کلی کے دوراہے پر آ
ہمارے معاشرے میں کچھ روایات ایسی بھی ہیں جو وقت کے ساتھ بہتر ہونے کی بجائے مزید بوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔ کچھ روایات جو
انسان نے جب پہلی بار آسمان کی طرف دیکھا ہوگا تو شاید اس کے ذہن میں یہی سوال ابھرا ہوگا: "کیا کوئی مجھے سن رہا
آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں؟ میری انگریزی بہت کمزور رہی ہے، اب بھی کمزور ہی ہے، موٹی ہی نہیں ہورہی، مسلسل کمزوری کا شکار
اندلس کے شہر غرناطہ، قرطبہ اور اشبیلیہ میں قدم رکھتے ہوئے انسان صرف تاریخی مقامات کی سیاحت نہیں کرتا بلکہ وہ دراصل ایک ایسی تہذیبی
اپنی زندگی کے مسائل اور غمِ روزگار میں اس قدر الجھا ہوا تھا کہ کافی عرصے سے اپنے ہمنوا شمبو کے گیراج جانے کا موقع
اظہارِ رائے ہر جمہوری معاشرے کی بنیاد اور ہر شہری کا بنیادی آئینی حق ہے۔ یہی حق شہریوں کو اپنے خیالات کے اظہار، حکومتی پالیسیوں
اتوار کی صبح نماز ادا کرنے کے بعد میں نے اپنے ہمسفر کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ جب وہ ناشتہ کرنے لگے تو میں نے
علمی و فکری دنیا میں یہ اصول ہمیشہ سے مسلم رہا ہے کہ ہر شعبے کے فیصلے اس کے ماہرین ہی کیا کرتے ہیں۔ لیکن
اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفر شروع ہوتے ہی ہمارے معاشرے میں مختلف قسم کی باتیں گردش کرنے لگتی ہیں۔ کہیں اس مہینے کو