ضمیر کی آواز

ضمیر کی آواز انسان کے اندر موجود وہ خاموش آواز ہے جسے سننے کے لیے کسی شور کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ آواز تب سنائی دیتی ہے جب انسان دنیا کے سامنے نہیں بلکہ اپنے آپ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ہر انسان کے اندر یہ آواز موجود ہوتی ہے،فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اسے سنتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی خواہشات،انا اور مفادات کے شور میں اسے دبا دیتے ہیں۔

ہم سب کی زندگی میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب ہم کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس سے کسی اپنے کا دل دکھ جاتا ہے۔غصہ ختم ہونے کے بعد جب انسان اکیلا بیٹھتا ہے تو وہی الفاظ بار بار ذہن میں گونجتے ہیں۔دل کہتا ہے کہ شاید مجھے اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کبھی ہم ماں یا باپ کی کسی بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور بعد میں احساس ہوتا ہے کہ وہ ہمیں روک نہیں رہے تھے بلکہ ہمارے بہتر مستقبل کے لیے فکر مند تھے۔کبھی دوست کی ناراضی کو معمولی سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ایک مخلص انسان کو ہم نے اپنی انا کی وجہ سے کھو دیا۔

یہی ضمیر ہے،جو ہمیں ہمارے رویوں کا آئینہ دکھاتا ہے۔

زندگی میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کسی کی مدد کرنے کا موقع ہوتا ہے،مگر ہم یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ کوئی اور مدد کر دے گا۔بظاہر ہم اس واقعے کو بھول جاتے ہیں، لیکن کبھی خود مشکل میں پھنس جائیں تو وہی منظر اچانک یاد آ جاتا ہے۔تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس بے بسی کو ہم نے کبھی نظر انداز کیا تھا،آج ہم خود اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ زندگی بعض اوقات انسان کو دوسروں کا درد سمجھانے کے لیے وہی درد خود محسوس کرا دیتی ہے۔

ہر انسان نے کبھی نہ کبھی پچھتاوے کا ذائقہ ضرور چکھا ہے۔کسی سے معافی مانگنے میں دیر،کسی کی قدر نہ کرنا،کسی کا حق روک لینا، غصے میں رشتہ توڑ دینا یا کسی مخلص شخص پر شک کرنایہ سب ایسی چیزیں ہیں جنہیں انسان وقت گزرنے کے باوجود دل سے مکمل طور پر نہیں نکال پاتا۔بعض اوقات برسوں بعد بھی کوئی واقعہ اچانک یاد آتا ہے اور انسان خود سے کہتا ہے،”کاش میں اس وقت ایسا نہ کرتا۔”

مگر ضمیر صرف ماضی کی غلطیاں یاد دلانے کا نام نہیں۔ یہ ہمیں آج بھی بہتر انسان بننے کا موقع دیتا ہے۔اگر ہم کسی کا دل دکھا بیٹھے ہیں تو معافی مانگ لینا،کسی کا حق مارا ہے تو واپس کر دینا، کسی سے ناانصافی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرنا اور جہاں ممکن ہو اپنی غلطی کی تلافی کرنایہ سب ضمیر کی آواز سننے کی علامتیں ہیں۔

انسان کی سب سے بڑی آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اسے غلط کام کرنے سے روکنے والا کوئی دوسرا موجود نہ ہو۔اگر کوئی شخص تنہائی میں بھی کسی کا حق نہیں مارتا، امانت میں خیانت نہیں کرتا، جھوٹ سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور کسی کمزور کو نقصان نہیں پہنچاتا تو وہ دراصل اپنے ضمیر کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے۔کیونکہ اصل کردار وہ نہیں جو ہم لوگوں کو دکھاتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم تنہائی میں ہوتے ہیں۔

ہم سب میں کمزوریاں ہیں۔ کوئی غصے کا شکار ہے، کوئی انا کا،کوئی لالچ کا، کوئی حسد کا اور کوئی اپنی غلطی تسلیم کرنے سے ڈرتا ہے۔مگر انسان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو پہچان کر خود کو بدل سکتا ہے۔ غلطی کرنا انسان کی فطرت ہے،لیکن غلطی کو غلط نہ ماننا انسان کو اندر سے کمزور کر دیتا ہے۔

کبھی کبھی ہم دوسروں سے معافی تو مانگ لیتے ہیں، مگر خود کو معاف نہیں کر پاتے۔کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے کسی کا دل واقعی دکھایا تھا۔ایسے وقت میں ضمیر ہمیں سزا دینے کے بجائے سبق بھی دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ جو ہو گیا اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، مگر آئندہ وہی غلطی نہ دہرانا تمہارے اختیار میں ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کی مصروفیات میں اپنے اندر کی اس آواز کو خاموش نہ ہونے دیں۔دنیا ہمیں کامیابی،دولت،شہرت اور مقام کے پیمانے سے پرکھ سکتی ہے،لیکن رات کی تنہائی میں ہمارا سکون صرف ہمارا ضمیر طے کرتا ہے۔

آخر میں شاید ہر انسان کو خود سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے۔

اگر ایک دن میرے پاس دنیا کی ہر چیز ہو،لیکن میرا ضمیر مطمئن نہ ہو،تو کیا میں واقعی کامیاب ہوں؟

شاید جواب ہمارے اندر ہی موجود ہے۔

کیونکہ انسان دنیا سے جیت کر بھی ہار سکتا ہے،مگر اگر وہ اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہے تو وہ حقیقت میں زندگی جیت چکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے