کبھی کبھی ایک حادثہ محض ایک حادثہ نہیں رہتا؛ وہ پورے نظامِ زندگی کے چہرے سے نقاب نوچ لیتا ہے۔ اسلام آباد کے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ بلاک میں پیش آنے والی آتش زدگی بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ تیسری منزل کے نرسری وارڈ سے اٹھنے والے دھوئیں نے صرف ایک کمرے کو نہیں گھیر ا، بلکہ اس سوال کو بھی دھوئیں کی طرح ہمارے اجتماعی شعور میں پھیلا دیا کہ جن اداروں کو زندگی کی حفاظت کے لیے قائم کیا گیا ہے، کیا وہ خود زندگی کے لیے محفوظ ہیں؟
وہ ننھی جانیں جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھا بھی نہ تھا، جن کی سانسیں زندگی کے پہلے باب کی عبارت لکھ رہی تھیں، اچانک شعلوں اور دھوئیں کے درمیان بے بسی کی تصویر بن گئیں۔ ایک بچے کی جان بچائی جا سکی، مگر چودہ سے پندرہ نومولود زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے۔ ان بچوں کے لیے موت صرف ایک طبی واقعہ نہیں؛ ان ماؤں کے لیے یہ پوری کائنات کے اچانک ویران ہو جانے کا نام ہے۔ قرآن انسان کی جان کو ایسی حرمت عطا کرتا ہے کہ ایک بے گناہ جان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار پاتا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان معصوم جانوں کی حفاظت ہماری اجتماعی ترجیحات میں کہاں کھڑی تھی؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق آتش زدگی کا آغاز ایئر کنڈیشنر کے شارٹ سرکٹ یا کمپریسر میں خرابی سے ہوا اور آکسیجن کی موجودگی نے شعلوں کو تیزی سے پھیلنے کا ماحول فراہم کیا۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ چنگاری کہاں سے نکلی؛ اصل سوال یہ ہے کہ چنگاری کو قیامت بننے کا موقع کس نے دیا؟
برقی خرابی ایک تکنیکی سبب ہو سکتی ہے، مگر کسی ہسپتال میں حفاظتی نظام کا ناقص ہونا محض تکنیکی مسئلہ نہیں رہتا۔ جہاں آکسیجن موجود ہو، وہاں آگ سے بچاؤ کا خودکار نظام، بروقت انتباہ، مؤثر فائر ڈٹیکشن، تربیت یافتہ عملہ اور ہنگامی انخلا کا واضح منصوبہ بنیادی ضرورت ہیں، اضافی سہولت نہیں۔ اگر یہ انتظامات موجود نہ ہوں یا محض کاغذوں میں موجود ہوں تو حادثہ قدرت کا فیصلہ کم اور انسانی غفلت کا نتیجہ زیادہ بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ اصول سمجھنے کی ضرورت ہے: مادہ بے ارادہ ہوتا ہے، ذمہ داری انسان کی ہوتی ہے۔ آکسیجن کو یہ شعور نہیں کہ وہ آگ کو بڑھا رہی ہے، تار کو یہ علم نہیں کہ اس کی خرابی کسی معصوم کی جان لے سکتی ہے، اور مشین کو اخلاقی ذمہ داری کا ادراک نہیں۔ نیت، تدبیر، احتیاط اور نگرانی انسان کے اختیار میں ہیں۔ اس لیے کسی سانحے کو صرف ’’شارٹ سرکٹ‘‘ کہہ دینا حقیقت کی آخری منزل نہیں؛ یہ تو سوال کے دروازے پر پہنچ کر واپس لوٹ آنا ہے۔
حادثے کے بعد تحقیقاتی کمیٹیوں کا قیام، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے اعلانات اور رسمی بیانات اپنی جگہ ضروری ہو سکتے ہیں، مگر قوم کو محض کمیٹی نہیں، نتیجہ چاہیے؛ محض رپورٹ نہیں، اصلاح چاہیے؛ محض معطلی نہیں، جوابدہی چاہیے۔ اگر ہر سانحے کے بعد ایک کمیٹی بنے، چند اجلاس ہوں، کچھ کاغذات مرتب ہوں اور پھر فائل خاموش الماری میں سو جائے تو تحقیق انصاف کا وسیلہ نہیں، فراموشی کا انتظام بن جاتی ہے۔
اس سانحے کا تقاضا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں، خصوصاً زچہ و بچہ مراکز اور نرسری وارڈز کا جامع حفاظتی آڈٹ کیا جائے۔ برقی نظام، آکسیجن سپلائی، فائر الارم، اسپرنکلر، ایمرجنسی ایگزٹ، انخلا کی مشق، عملے کی تربیت اور ہنگامی نگرانی ہر شعبے کو محض کاغذ پر نہیں بلکہ عملی پیمانے پر جانچا جائے۔ جہاں سنگین غفلت ثابت ہو، وہاں قانون اپنا راستہ اختیار کرے اور ذمہ دار افراد کو واقعی جواب دہ بنایا جائے۔
ریاست کی عظمت اس کی بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں اور شاندار اداروں سے نہیں ناپی جاتی؛ اس کا اصل معیار یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کو کس قدر محفوظ رکھتی ہے۔ نومولود بچہ ریاست کے سامنے کوئی مطالبہ نہیں رکھتا؛ وہ صرف زندگی کا حق لے کر دنیا میں آتا ہے۔ اگر ایک ریاست اس حق کی حفاظت بھی نہ کر سکے تو پھر ترقی کے تمام دعوے محض الفاظ کا ہجوم ہیں۔
پمز کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شفا کا حقیقی مفہوم صرف بیماری کا علاج نہیں، زندگی کی حفاظت بھی ہے۔ اور جس نظام میں احتیاط، امانت، شفافیت اور جواب دہی زندہ نہ رہیں، وہاں شفا کے ایوان بھی کبھی کبھی موت کے خاموش گواہ بن جاتے ہیں۔
یہ وقت صرف ماتم کا نہیں، محاسبے کا ہے؛ صرف تعزیت کا نہیں، اصلاح کا ہے؛ صرف ذمہ دار تلاش کرنے کا نہیں، ایسا نظام تعمیر کرنے کا ہے جس میں آئندہ کسی ماں کی گود انتظامی غفلت کے ہاتھوں اجڑنے نہ پائے۔
پمز کا نوحہ
یہ مسکنِ شفا ہے کہ ابلیس کا دیار؟
ظاہر میں زندگی ہے، کہ باطن میں کارزار؟
عمارت تو جلوہ گر ہے صفا و کرم کے ساتھ
اندر مگر ہے مرگِ مفاجات کا مزار
تھم جا ذرا اے دوست! بتا سوچ کر مجھے
کیا محض اک حادثہ تھا یہ شعلوں کا انتشار؟
نرسری میں جل بجھے جو وہ معصوم نخلِ نو
کیا شارٹ سرکٹ ہی تھا فقط باعثِ نار؟
ہرگز نہیں، وہ چنگاری تو اک عارضی تھی شے
حقیقت کچھ اور ہے، ہے غفلت کا یہ غبار
آکسیجن کا تھا نہ قصور، نہ مواد کا
انسان کی بے حسی نے کیا نیکی کا شکار
مادے میں کہاں ہوتی ہے نیت یا کوئی سوچ؟
انسان کی تدبیر کا ہی ہوتا ہے مدار
پھر کیا ہیں یہ جو بنتی ہیں سرکاری کمیٹیاں؟
کیا سچ کی ہے تلاش، کہ فریبِ روزگار؟
یہ کاغذی کارروائیاں، یہ پریس ریلیز سب
سائے کے تعاقب کا ہے اک کھیلِ ناپائیدار
نتیجہ یہی نکلا اس فکرِ سلیم سے
عہدِ تحفظ ہی ہے ریاست کا وقار
معصوم کو جو دیوِ قضا سے نہ بچا سکے
اس کے شفا کدے ہیں فقط ماتمِ مزار!