خواہشات کی غلامی، اور معاشرتی زوال

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ایک 63 سالہ شخص نے اپنی 58 سالہ بیوی کو صرف اس وجہ سے قتل کر دیا کہ اس نے جسمانی تعلق قائم کرنے سے انکار کیا۔

اطلاعات کے مطابق، اس شخص نے لوہے کے ایک آلے سے اپنی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اس کی جان لے لی۔ سب سے زیادہ تشویشناک اور تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ قاتل نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا اور وجہِ قتل بیان کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ندامت، خوف یا شرمندگی کا کوئی واضح اثر دکھائی نہ دیا۔یہ واقعہ محض ایک گھریلو جھگڑا یا ایک فرد کا ذاتی جرم نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ، روحانی کمزوری، نفسیاتی بحران اور انسانی اقدار کے زوال کی ایک دردناک تصویر ہے۔

یہ سوال صرف قانون یا سزا کا نہیں، بلکہ اس سوچ کا ہے جو انسان کو اس حد تک بے حس بنا دیتی ہے کہ وہ اپنے ہی شریکِ حیات کی جان لینے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔یہاں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ صرف جسمانی تعلق کا نام نہیں ہوتا۔ یہ محبت، احترام، اعتماد، قربانی، برداشت اور باہمی سکون کا رشتہ ہے۔

اسلام نے ازدواجی زندگی کو رحمت اور سکون قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی۔ یعنی نکاح کا مقصد صرف خواہشات کی تکمیل نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے لیے سکون اور حفاظت بننا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان رشتوں کی اصل روح سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے کہ انسان معمولی اختلاف یا انکار برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا؟ آخر کیوں غصہ، خواہشات اور انا انسان کے ضمیر پر اس قدر حاوی ہو چکے ہیں کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھا ہے؟ کیا ہمارے معاشرے میں برداشت ختم ہو رہی ہے؟ کیا روحانی اور اخلاقی تربیت کمزور پڑ چکی ہے؟ کیا ہم نے انسان کو صرف خواہشات کا غلام بنا دیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں مادہ پرستی اور نفس پرستی نے انسان کے اندر سے رحم، حیا اور خوفِ خدا کو کمزور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا، فحاشی، بے مقصد تفریح، اخلاقی آزادی کے غلط تصورات اور دینی تعلیمات سے دوری نے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ لوگ صبر اور برداشت کی بجائے فوری ردِعمل کے عادی ہو چکے ہیں۔ غصہ برداشت نہیں ہوتا، اختلاف قبول نہیں ہوتا اور انکار تو گویا انا پر حملہ سمجھا جاتا ہے۔افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ غصہ، جنون، نفسیاتی دباؤ، احساسِ محرومی اور ذہنی عدم توازن اگر وقت پر قابو میں نہ آئیں تو وہ انسان کو خطرناک حد تک لے جا سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ بظاہر نارمل دکھائی دیتے ہیں، لیکن اندر سے شدید ذہنی انتشار کا شکار ہوتے ہیں۔

ایسے افراد اگر دینی تربیت، اخلاقی شعور اور قانونی خوف سے بھی محروم ہوں تو وہ کسی بھی وقت خوفناک جرم کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گھریلو تشدد ہمارے معاشرے میں ایک خاموش بیماری بن چکا ہے۔ بہت سی عورتیں روزانہ ذہنی، جسمانی اور جذباتی تشدد برداشت کرتی ہیں، مگر خاموش رہتی ہیں۔ بعض لوگ عورت کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں اور اس کی عزت، احساسات اور مرضی کو اہمیت نہیں دیتے۔ حالانکہ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور احترام دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو۔ لیکن افسوس کہ آج کچھ لوگ دین کے نام پر معاشرے میں موجود ہیں، مگر ان کے کردار میں دین کی اخلاقیات نظر نہیں آتیں۔

اس واقعے کا ایک اہم پہلو بڑھاپے میں انسانی رویّوں کا بحران بھی ہے۔ ایک عمر رسیدہ شخص سے معاشرہ سنجیدگی، بردباری اور حکمت کی توقع رکھتا ہے۔ بڑھاپا عام طور پر عبادت، سکون، تجربے اور تحمل کا دور سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان پوری زندگی اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا نہ سیکھے، اپنی شخصیت کی تربیت نہ کرے اور روحانی اصلاح سے دور رہے تو عمر بڑھنے کے باوجود اس کی سوچ بالغ نہیں ہوتی۔ جسم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر نفس جوان رہتا ہے، اور یہی کیفیت بعض اوقات انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔یہ واقعہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں حیا کمزور اور بے حسی مضبوط ہو رہی ہے۔ پہلے لوگ غلطی پر شرمندہ ہوتے تھے، جرم کے بعد خوف محسوس کرتے تھے، مگر اب بعض مجرم اپنے جرائم کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔ قتل جیسے سنگین جرم کے بعد بھی اگر انسان کے چہرے پر ندامت نہ ہو تو یہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں، بلکہ اجتماعی اخلاقی تباہی کی علامت ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہماری تربیت میں کیا کمی رہ گئی ہے؟ کیوں ہمارے گھروں میں بچوں کو برداشت، عورت کے احترام، غصے پر قابو اور اخلاقیات کی تعلیم کم دی جا رہی ہے؟ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری اور روزگار تک محدود کر دیا ہے، جبکہ کردار سازی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اگر انسان تعلیم یافتہ ہو، مگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار بھی اس معاملے میں اہم ہے۔ آج ہر طرف اشتعال، بے پردگی، تشدد اور نفسانی خواہشات کو ابھارنے والا مواد عام ہے۔ نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک ہر شخص مسلسل ایسے ماحول میں جی رہا ہے جہاں صبر، قناعت اور پاکیزگی کی تعلیم کم، جبکہ خواہشات کی ترغیب زیادہ دی جاتی ہے۔ جب معاشرہ مسلسل نفس پرستی کو فروغ دے گا تو اس کے نتائج بھی خطرناک ہی نکلیں گے۔قانونی اعتبار سے بھی ایسے جرائم کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔ اگر قاتل کو سخت سزا نہ دی جائے تو معاشرے میں خوفِ قانون ختم ہو جاتا ہے اور جرائم بڑھنے لگتے ہیں۔ قتل کسی بھی وجہ سے ہو، وہ ناقابلِ قبول ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے کی جان لینے کا حق نہیں رکھتا۔ خصوصاً ایک ایسی عورت کی جان لینا، جس نے زندگی کے کئی سال ساتھ گزارے ہوں، انتہائی سفاکیت اور درندگی ہے۔

لیکن صرف سزا کافی نہیں۔ اصل ضرورت معاشرتی اصلاح کی ہے۔ گھروں میں دینی ماحول پیدا کرنا ہوگا، بچوں کو بچپن سے اخلاقیات سکھانا ہوں گی، عورت کے احترام کو عام کرنا ہوگا، ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور لوگوں کو غصے پر قابو پانے کی تربیت دینی ہوگی۔ علما، اساتذہ، والدین، میڈیا اور ریاست، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ واقعہ ہم سب کے لیے ایک انتباہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی اخلاقی حالت درست نہ کی، اپنے گھروں میں تربیت کا نظام بہتر نہ بنایا اور اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنا نہ سیکھا تو معاشرہ مزید خطرناک واقعات کی طرف بڑھتا جائے گا۔ انسان جب خدا کے خوف، اخلاقیات اور رحم سے خالی ہو جائے تو پھر وہ صرف ظاہری شکل میں انسان رہ جاتا ہے، ورنہ اس کے اعمال درندگی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف اس واقعے پر افسوس نہ کریں، بلکہ اس سے سبق بھی حاصل کریں۔ اپنے گھروں، اپنے بچوں اور اپنی ذات کی اصلاح کریں۔ کیونکہ معاشرے کی تباہی اچانک نہیں آتی، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے دل سے رحم، حیا اور خوفِ خدا ختم ہونے سے شروع ہوتی ہے۔ اور جب یہ چیزیں ختم ہو جائیں تو پھر رشتے بھی محفوظ نہیں رہتے، گھر بھی محفوظ نہیں رہتے اور انسانیت بھی محفوظ نہیں رہتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے