آستانۂ پیر باباؒ پر حاضری: خاکِ پا نہیں، نسبت کا سہارا ہے

ہمارا گاؤں دیر پائیں کے علاقے میدان میں "کمبڑ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اردگرد ہندوکش کے پہاڑوں کا خوبصورت سلسلہ ہے جو جندول اور بنشاہی سے ہوتا ہوا افغانستان اور وسطی ایشیا تک پھیلتا ہے۔ دیر ایک زمانے میں نوابی ریاست تھی جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوئی۔ عید کے بعد کافی عرصے بعد وہاں دو دن گزارنے کا موقع ملا۔ فجر کی نماز کے بعد والدین کی قبور پر حاضری دی اور پھر تیمرگرہ کی طرف روانہ ہوا۔

تیمرگرہ سے چکدرہ بائی پاس اور باریکوٹ و کڑاکڑ کے حسین راستوں سے گزرتا ہوا میں بونیر کے مقام پاچا کلی پہنچا، جہاں پندرہویں اور سولہویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ حضرت سید علی ترمذیؒ، المعروف پیر باباؒ، آسودۂ خاک ہیں۔

بچپن میں ان کے عرس میں جانے کا موقع ملا تھا۔ اب اگرچہ شرکت کم ہو گئی ہے، مگر اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً ان کے دربار پر حاضری کی توفیق عطا فرماتا رہتا ہے۔ عرس کے دنوں میں افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا سے ہزاروں عقیدت مند یہاں حاضر ہوتے ہیں۔ یہ مقام محض کوشش سے نہیں بلکہ اللہ کی عطا، ریاضت، استقامت اور قبولیت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔

تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو ہمارے یہ جدِ امجد ۱۵۰۲ء یا ۱۵۰۳ء کے آس پاس فرغانہ (موجودہ ازبکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان حسینی سید تھا۔ آپ کی روحانی و علمی پرورش آپ کے دادا، عظیم عالمِ دین شیخ سالار رومیؒ نے فرمائی۔ آپ نے تصوف کی بلند ترین منازل طے کرنے کے باوجود کبھی شریعتِ محمدیﷺ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ خیبر پختونخوا ہجرت کے بعد، آپ نے یوسفزئی پشتونوں کے معتبر بزرگ دولت خان کی صاحبزادی سے عقد فرمایا۔ اس دور میں یہاں بایزید پیر روشن کی گمراہ کن "روشنائی تحریک” چل رہی تھی، جس کے خلاف پیر باباؒ نے ایک مضبوط علمی و نظریاتی موقف اختیار کر کے پشتون قبائل کی اصلاح فرمائی اور دیر، سوات و بونیر کی وادیوں کا سفر کر کے مقامی رسم و رواج کو اسلام کے سانچے میں ڈھالا۔

آپ کے دو نامور صاحبزادے، سید حبیب اللہ شاہ اور سید مصطفیٰ شاہ (ترمذی سادات) بعد میں بونیر سے نکل کر دیر کے مختلف علاقوں جیسے جندول، میدان (کمبڑ) اور براول درہ میں آباد ہوئے۔ دیر کے غیور عوام اس خاندان کو "بادشاہ” یا "پیر صاحب” کہتے تھے اور تاریخ و سیاست میں ان کا گہرا اثر رہا۔ اس خاندان کی جڑیں افغانستان کے صوبہ کنڑ کے تاریخی علاقے "شال” سے بھی جڑی ہیں، جہاں انہیں "بادشاہِ کنڑ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ پشتو کے عظیم صوفی شاعر رحمان بابا نے بھی اپنے کلام میں پیر باباؒ جیسے عارفوں کو ہی دنیا کی حقیقی روشنی اور مخلوق کا اصل رہنما قرار دیا ہے۔

وضو کے بعد مزار پر حاضر ہوا۔ آج نصیب اچھے تھے کہ اندرونی حصہ کھلا ہوا تھا۔ قبرِ مبارک کے قدموں کی جانب مؤدبانہ سلام پیش کیا اور دیر تک اسی خاموشی میں کھڑا رہا جہاں لفظ ختم ہو جاتے ہیں اور دل بولنے لگتا ہے۔

یہی وہ صوفیانہ کیفیت ہے جس کی تائید اس مبارک روایت سے ہوتی ہے جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف جانے والا وہ راستہ بتائیے جو بندوں کے لیے سب سے زیادہ نزدیک، اللہ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے آسان ہو۔” حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے علی! تم پر اکیلے میں اور خلوت میں اللہ کا ذکر لازم ہے۔” حضرت علیؑ نے عرض کیا: "سبھی لوگ ذکر کرتے ہیں، میں کوئی خاص طریقہ چاہتا ہوں۔” سیدِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے علی! اپنی آنکھیں بند کر لو اور جو میں کہوں اسے سنو۔” پھر حضور ﷺ نے تین بار بلند آواز سے "لا الٰہ الا اللہ” کہا اور مولا علیؑ سنتے رہے، پھر مولا علیؑ نے تین بار اسی طرح ذکر دہرایا اور حضور ﷺ سنتے رہے۔ (کنز العمال: حدیث 21017)

دل میں حضرت امام حسینؓ اور اہلِ بیتؓ کی عظیم قربانیوں کا ذکر بار بار ابھرتا رہا۔ ان کی سیرت اور صبر انسان کو ایک ایسی روشنی عطا کرتے ہیں جو وقت اور تاریخ دونوں کو بدل دیتی ہے۔ دل پر ایک عجیب سی کیفیت طاری رہی، جیسے عقیدت کے کئی در ایک ساتھ کھل گئے ہوں اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کا وہ لافانی کلام ذہن میں گونجنے لگا:

شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین
دین است حُسین، دین پناہ است حُسین
سر داد، نہ داد دست در دستِ یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حُسین

انسان ہمیشہ اللہ ہی سے مانگتا ہے، مگر اہلِ دل کے لیے اولیائے کرام کی محبت بھی ایک ذریعۂ یاد اور وسیلۂ دعا بن جاتی ہے۔ یہاں ہر چیز خاموش ہے، مگر اس خاموشی میں ایک گہرا اثر ہے جو دل کو جھکا دیتا ہے۔

خانقاہی نظام اور اسی بیعتِ طریقت کی اصل روح حضرت شداد بن اوسؓ کی اس روایت میں ملتی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تمہارے درمیان کوئی غیر (اجنبی یا منافق) ہے؟” ہم نے عرض کیا: "نہیں، یا رسول اللہ ﷺ!” تب آپ ﷺ نے دروازہ بند کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ پھر فرمایا: "اپنے ہاتھ اٹھاؤ اور کہو: لا الٰہ الا اللہ۔” راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے کچھ دیر اسی طرح ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک نیچے کیا اور دعا فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے ہماری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا: "خوش ہو جاؤ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سب کی مغفرت فرما دی ہے۔” (مسند احمد: جلد 4، صفحہ 124)

یہاں ایک بات واضح کرنا بہت ضروری ہے؛ میں کوئی فخر یا بڑائی جتانے مزار پر نہیں جاتا۔ میں تو ایک انتہائی عام اور عاجز انسان بن کر حاضری دیتا ہوں۔ پیر باباؒ تو خود رب کے چنیدہ بندے ہیں، انہیں میرے وہاں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی انہیں میری کوئی ضرورت ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ضرورت تو دراصل مجھے ہے! مجھے ضرورت ہے ان "زیرِ زمین ہیروز” کی جو اللہ کو پسند ہیں اور جن کے آستانوں کی مٹی دلوں کو زندگی دیتی ہے۔ میری روح پیاسی ہے، میرا دامن خالی ہے اور دنیاوی الجھنوں سے نجات کے لیے اس آستانے پر حاضری کی حاجت مجھے خود کھینچ کر لاتی ہے۔

میں سید علی ترمذیؒ کی اولاد میں سے ہوں۔ ہمارے ہاں بزرگوں کے مزارات پر حاضری صرف روایت نہیں بلکہ ایک نسبت، ایک ادب اور ایک روحانی سکون سمجھا جاتا ہے۔ دل میں یہی احساس رہتا ہے کہ ہم ان کے نام کے سائے میں جینے والے لوگ ہیں۔ ہم "خاکِ پا نہیں، نسبت کا سہارا ہے” کے سہارے جیتے ہیں۔ یقین یہی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رحمت سے ہے، اور نیک بندوں کی محبت اسی رحمت تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ہمارے ہاتھ ہمیشہ دعا کے لیے خالی رہتے ہیں۔ ہم خالی دامن لے کر آتے ہیں اور امید، سکون اور قبولیت کی امید لیے واپس لوٹتے ہیں۔ یہی فقیرانہ کیفیت ہماری اصل متاع ہے۔ ان بزرگوں کے در پر حاضری کا لطف لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں انسان اپنے آپ کو بھول کر صرف رب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ زبان خاموش ہو جاتی ہے، مگر دل ایک مسلسل دعا میں مشغول رہتا ہے۔

واپسی کا سفر بونیر کے پہاڑوں، کاتلنگ اور بابوزئی انٹرچینج سے ہوتا ہوا اسلام آباد تک پہنچا، مگر دل وہیں آستانے پر ہی رہ گیا تھا۔ گھر آ کر اللہ کا شکر ادا کیا اور یہ چند سطور قلم بند کیں تاکہ یہ لمحے محفوظ رہ سکیں۔

اللہ تعالیٰ پیر باباؒ کے درجات بلند فرمائے۔ ہمیں ان نیک لوگوں کی نسبت پر ناز نہیں بلکہ شکر عطا فرمائے۔ ہم کمزور ہیں، مسائل اور دنیا کے لالچ کا شکار ہیں؛ خوف آتا ہے کہ اگر کل روزِ محشر اللہ نے اس عظیم خاندانی نسبت کے بارے میں سوال کر لیا، تو ہم گنہگاروں کے لیے جواب دینا بہت مشکل ہو جائے گا۔ بس مصلے پر قبلہ رخ بیٹھے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کا وہ قول ذہن میں گونجتا ہے کہ مومن کا دل ہمیشہ خوف اور امید کے درمیان ہونا چاہیے۔ ہم گنہگار بھی اسی خوف اور امید کے درمیان, اپنے رب کی رحمت کا آسرا لیے بیٹھے ہیں کہ ان کی محبت ہمیں رب کی رحمت کے قریب لے جائے گی۔

دعاؤں کا طلبگار رحیم ابنِ یوسف ترمذی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے