رونے دھونے کی بجائے حل ڈھونڈیں

مینارِ پاکستان کے سائے تلے ہماری ’’نوجوان نسل‘‘ نے ایک خاتون کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، تین چار سو ’’پاکستانی مسلمان‘‘ نوجوانوں نے خاتون ہی نہیں مینارِ پاکستان کی حرمت بھی جس طرح پامال کی اُس پر چیخیں مار مار کر رونے کو جی چاہتا ہے […]

میرے بچپن کے دن! (قسط1تا6)

1947میں ہم لوگ امرتسر سے ہجرت کرکے وزیر آباد آ گئے۔ یہاں میری نانی اپنے سائیں بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں۔ امرتسر میں ہم لوگ سامان سے لدا ہوا ایک نیا مکان چھوڑ کر آئے تھے، اُس کے بدلے وزیر آباد کے گلہ بکریاں والا محلہ لیر چونیاں کے ایک مکان میں ہمارے خاندان کو […]

ٹوٹے

ناقابلِ انتقال بسوں اور لاریوں کی ٹکٹوں پر جلی حروف میں’’ناقابلِ انتقال‘‘ لکھا نظر آتا ہے۔ مجھے اس دعوے پر کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ ارباب اختیار سے اتنی گزارش ضرور ہے کہ وہ صرف ٹکٹوں کے سلسلے ہی میں’’ناقابلِ انتقال‘‘ کی گارنٹی نہ دیں بلکہ اس فہرست میں بیچارے مسافروں کو بھی شامل کریں جو […]

شاہراہِ ’’دوستی‘‘

یہ آج کی نہیں پرانے وقتوں کی بات ہے جب میں ایک شام کو یونیورسٹی کیمپس کی طرف سے گزرا تو طلبہ و طالبات کے جھنڈ کے جھنڈ ایک سڑک پر ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آتے جاتے نظر آئے جس طرح مری کی مال روڈ پر چند منٹوں کے بعد چہرے REPEATہونا […]

عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے

پاکستان کے سابق چیف جسٹس ارشاد حسن خان کی آپ بیتی پڑھنے کے بعد ایک بات کی داد دینا پڑتی ہے اور وہ ہے ان کی صاف گوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ چھپایا نہیں۔ سادہ سی زبان میں اپنی زندگی کی کہانی بیان کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو […]

دلیپ کمار اور سید ضمیر جعفری!

چند عشرے قبل حیدر آباد (دکن) میں دنیا بھر کے مزاح نگاروں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستان سے سید ضمیر جعفری اور راقم الحروف کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ پندرہ دن حیدر آباد میں قیام کے بعد سید ضمیر جعفری اور میں بذریعہ جہاز سیر سپاٹے کے لئے ممبئی روانہ ہو […]

میں اور میری ’’میسنی‘‘!

میں ایک دفعہ پھر اس ’’میسنی‘‘ کے چکر میں آیا ہوں جس کا ذکر میں نے ایک دفعہ اپنے کالم میں کیا تھا۔ واضح رہے ’’میسنی‘‘ وہ ہوتی ہے جو پسِ پردہ سب خرابیوں کی ذمہ دار ہو لیکن بظاہر بےگناہ لگے۔ بس یہی میسنی ان دنوں مجھے چمٹی ہوئی ہے۔ کسی کام میں میرا […]

دانا خرد پوری کے’’اقوال زریں‘‘

مشتاق احمد یوسفی نے اپنے ایک مضمون میں ایک عام آدمی اور بڑے آدمی کے رویے کا فرق بہت دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کےبقول جب ایک عام آدمی قبرستان جاتا ہے تو وہ کہتا ہے، السلام علیکم یا اہل القبور، لیکن بڑا آدمی اگر قبرستان میں قدم رنجہ فرمائے تو کہتا ہے […]

ایک بار پھر نفسیاتی مسائل

پاکستانی قوم کی ذہنی الجھنوں کے حوالے سے چند روز پہلے بھی اور اس سے بھی کئی بار پہلے کالم لکھ چکا ہوں مگر میرے نزدیک اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ دراصل بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمیں یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہم ان کا شکار […]

مرد اپنے قُلوں تک بوڑھا نہیں ہوتا!

پاکستان بھر کی دیواروں پر ’’ہیلتھ سنٹروں‘‘ کی طرف سے تحریر کردہ عبارت ’’مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘ پڑھتے پڑھتے میں بوڑھا ہو گیا ہوں مگر اس کی معنویت آج تک سمجھ نہیں آئی۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا تو اخباروں کو بوڑھوں کی رنگ رلیاں منانے کی خبریں […]