محترم ایڈیٹر صاحب!
محترم ایڈیٹر صاحب (اے او اے) گزارش ہے کہ بندہ نے اپنے کالم کے لئے آپ کے اخبار کو منتخب کیا ہے۔ اِس ناچیز کو صرف اردو پر نہیں، انگریزی پر بھی عبور حاصل ہے، جس کا ایک ادنیٰ سا ثبوت میں نے خط کے آغاز میں ’’اسلام علیکم‘‘ کی بجائے ’’اے۔ او۔ اے‘‘ لکھ […]
جہالت کے کنوئیں!
گزشتہ روز کتابوں کی جھاڑ پونچھ کے دوران میری نظر ایک کتاب ’’نفسیاتی و اعصابی بیماریاں‘‘ پر پڑی جس کے مصنف کا نام ڈاکٹر محمد شعیب شاہد تھا۔ جو کتاب مجھے ملی یہ حصہ دوم پر مشتمل تھی۔ اس کے بعد میں نے اس کتاب کا حصہ اول تلاش کرنے کی بہت کوشش کی مگر […]
دے جا سخیا راہِ خدا!
صبح گھر سے نکلیں تو چاروں طرف فقیر ہی فقیر نظر آتے ہیں، کوئی اپنا ٹنڈ دکھا کر بھیک مانگتا ہے، کوئی کسی کم سن بچی کے کاندھے پر ہاتھ رکھے، کالی عینک لگائے آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتا ہے، کوئی گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہے، کوئی زمین پر گھسٹتا ہوا […]
سرمایہ داری نظام، جیب تراشی کا نظام!
مغربی ملکوں میں جمعہ کی شام کو لانگ ویک اینڈ شروع ہو جاتا ہے اور اتوار کی شام کو اس کا خاتمہ بالخیر، سرمایہ دار ملوں کا صنعتکار بہت چالاک ہوتا ہے وہ جمعہ کی شام کو آپ کو ہفتے بھر کی مزدوری آپ کے ہاتھ میں تھماتا ہے اور اتوار کی شام تک آپ […]
انڈین جاسوس کا صوفی جنرل اسٹور!
ڈاکٹر فرید پراچہ سے میری پرانی یاد ﷲ ہے، جماعت اسلامی کے رہنمائوں میں سے ہیں مگر اس کے باوجود فنونِ لطیفہ سے ان کی کوئی دشمنی نہیں ہے چنانچہ ان سے جب کبھی ملاقات ہوتی ہے ماحول مسلسل خوشگوار رہتا ہے۔ حال ہی میں ان کی آپ بیتی ’’عمرِ رواں‘‘ کے عنوان سے شائع […]
قانون کی حکمرانی یہ ہوتی ہے
ابھی میں نے برادرم یونس جاوید کی بھیجی ہوئی ایک پوسٹ پڑھی ہے اور اس وقت سے ذہن میں خیالات کا ایک بھونچال سا آیا ہوا ہے۔ اس پوسٹ کا تعلق قانون کی حکمرانی سے ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بھاشن تو میں نے بہت سنے ہیں مگر دیکھنے میں کم کم ہی آتی ہے۔ […]
اردو مزاح میں تازہ ہوا کا جھونکا
میں نے بہت کم ایسے مزاح نگار دیکھے ہیں جن کے وجود سے خوشی اور قہقہے پھوٹتے ہوں۔ نوخیز سراپا خوشی سے بھرپور ہے۔ آپ کو اس کی تحریر اور اس کے مزاج میں کمال کی ہم آہنگی نظر آئے گی۔جتنے قہقہے وہ اپنی تحریر سے برآمد کرتاہے اس سے کہیں زیادہ اُس کی محفل […]
مسدس بدحالی
میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے سید ضمیر جعفری کے ساتھ پندرہ دن تک چوبیس گھنٹے ان کی معیت میں گزارے اور انہیں بے حد قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہم حیدر آباد دکن میں بین الاقوامی طنز و مزاح کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ اس حوالے سے بے […]
ایک تھا غلام حسین!
کمشنر صاحب نے مجھے خود فون کیا اور معذرت کی کہ اتنے شارٹ نوٹس پر آپ کو بلایا جارہا ہے، میں نے انہیں بتایا کہ میں نے قلوں میں شرکت کرنی ہے بلکہ میں نے انہیں مرحوم کی انسان دوستی کی صفات سے بھی آگاہ کیا اور اس کے لواحقین کی کسمپرسی کے بارے میں […]
ایک تھا غلام حسین!
مجھے اشفاق گوجر نے اطلاع دی کہ غلام حسین بہت بیمار ہے اور اسے اسپتال میں داخل کروادیا گیا ہے۔ غلام حسین کے ساتھ میری کوئی دوستی نہیں تھی، میں جب اسکول میں پڑھتا تھا تو وہ اسکول کے باہر چنوں کی ریڑھی لگایا کرتا تھا۔ مجھے یہ شخص اس وقت سے اچھا لگتا تھا […]