عمران خان نے کیا فرمایا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور عمران خان عصرِ حاضر کے عظیم ترین سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ مقدر کی لیلا نیاری ہے۔ ایک نے سپاہی اور دوسرے نے کرکٹر کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن دونوں کی بصیرت کے جوہر سیاست میں کھلے۔ فیلڈ مارشل […]

ایک طویل رات کے بعد صبح کی خود کلامی

صحافت ایک شب زاد پیشہ ہے، اصطلاح کی حد تک ہی نہیں، لغوی طور پر بھی صحافت میں رات جاگتی ہے تو خبر کا سراغ لاتی ہے۔ کوئی اس وقت برہمن کی صباحت دیکھے / نکلے جب رات کا جاگا ہوا بت خانے سے۔ آپ تو جانتے ہیں، رات کے ہر روزگار میں خواب کا […]

اپریل ظالم ترین مہینہ ہے

ٹی ایس ایلیٹ کی نظم دی ویسٹ لینڈ (The Waste Land) بیسویں صدی کی معروف ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ 1922 میں شائع ہونے والی اس نظم کا پہلا مصرع عالمی ادب میں ایک خاص طرز احساس کا استعارہ بن چکا ہے۔ April is the cruellest month۔ اس مصرعے کی معنویت سے پہلے نظم […]

قدوسی صاحب کی بیوائیں اور لاوارث بیانیہ

قدوسی صاحب خدا کے فضل سے ابھی بقید حیات ہیں، نبض کی ضرب برابر سنائی دیتی ہے مگر اوبھی اوبھی سانسیں لے رہے ہیں۔ وقت کے جوار بھاٹے سے کس کو رستگاری ہے۔ جرس رخصت کی صدا کاتک کے کہر زدہ چاند کی طرح بالیں پہ لرز رہی ہے، بات کرتے میں گلا رندھ جاتا […]

تاریخ کے چیمبر میں پھنسی گولی

پاکستان میں تاریخ ان دنوں سبک قدم ہو رہی ہے۔ حزبِ اختلاف نے وزیراعظم کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کر رکھی ہے ۔ پارلیمانی طرز حکومت میں تحریک عدم اعتماد دستوری معمول کا حصہ ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دینے والا وزیراعظم اپنے ساتھیوں سمیت اسپیکر کے بائیں ہاتھ والی نشستوں پر آ بیٹھتا […]

کیا عمران خان فسطائی ہیں؟

درویش کو ہرگز علم کا دعویٰ نہیں بلکہ میری رائے میں ایسا دعویٰ بذاتِ خود اپنی ہی تردید کے مترادف ہے۔ سچ کی جستجو، اسے بیان کرنے اور پھر اس پر قائم رہنے کے لیے جس استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، دوسروں میں اس کے آثار دیکھ کر رشک ضرور آتا ہے لیکن اپنی محرومی […]

ٹینس کورٹ اجلاس اور اسپیکر کی کرسی

موسمی طوفان ہو، وبائی آفت ہو یا سیاسی منظر تلپٹ ہونے کا امکان ہو، کالم نگار بھی خلقت شہر کی طرح کہنے کو فسانے مانگتا ہے۔ سیاست دان اور فیصلہ ساز تو اپنے ارادے کھول کے بیان نہیں کرتے مگر تجزیہ کار کو یہ جانتے ہوئے بھی رائے دینا ہوتی ہے کہ مستقبل کا خاکہ […]

لوح وقت پر حرف فریب کی ایک اور ناکامی

دھوپ کا شیشہ گلی میں کندھے سے کندھا ملائے مکانوں کی دیواریں چڑھتا، چوباروں کی کھڑکیاں پھلانگتا اور آرزو بھری چھتوں کی کائی زدہ منڈیروں سے گزرتا بستی کے عقب میں اترچکا تھا۔ اب شام ہو رہی تھی۔ حیرت بھری آنکھوں والے ننھے بچے، اوڑھنی سے بے نیاز بچیاں اور قد نکالتے لڑکے بالے ایک […]

صحافت وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے

مولوی محمد سعید کا نام اس ملک کے صحافیوں کے لیے مرشد باصفات اور گفتہ شیریں مقال کی تاثیر رکھتا ہے۔ ڈان اور سول ایند ملٹری گزٹ جیسے اخبارات سے مدتوں وابستہ رہے۔ پاکستان ٹائمز کے مدیر کے منصب سے پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام کیا۔ اس صحافی کی عظمت میں کیا کلام جسے خالد […]

درویش کے دانتوں کی مجلس شوریٰ

چودہویں صدی عیسوی میں دو نادرِروزگار شاعر پیدا ہوئے، حافظ شیراز اور جیفری چاسر۔ عمر خیام بارہویں صدی میں رخصت ہو چکے تھے۔ اب نہ اصفہان میں رصدگاہ کی جستجو تھی اور نہ صراحی سے چھلکتی چہار سطری رباعیات کی موج ہائے طرب آمیز کا ہنگام تھا۔حافظ شمس الدین شیرازی کو ایران پر تیموری یلغار […]