اپریل ظالم ترین مہینہ ہے

ٹی ایس ایلیٹ کی نظم دی ویسٹ لینڈ (The Waste Land) بیسویں صدی کی معروف ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ 1922 میں شائع ہونے والی اس نظم کا پہلا مصرع عالمی ادب میں ایک خاص طرز احساس کا استعارہ بن چکا ہے۔ April is the cruellest month۔ اس مصرعے کی معنویت سے پہلے نظم کے عنوان سے نمٹ لیں۔ ارض ویران، بنجر زمین یا پھر اہل کراچی کی اصطلاح میں کچرا کنڈی۔ یہ نظم پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاری کے دوران لکھی گئی لیکن اس کا پس منظر محض واقعاتی نہیں۔ انیسویں صدی میں علم کے پھیلتے آفاق، سائنسی ایجادات، صنعتی انقلاب، تمدنی ترقی اور جمہوری آدرشوں کے غلغلے میں یہ گمان عام ہو چلا تھا کہ انسان ازمنہ قدیم کے اوہام اور آلام کے اندھیرے سے آگے نکل آیا ہے۔ سکھ کا گاؤں بس اب ہاتھ برابر فاصلے پر ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں نظریہ اضافت نے محض سائنس کی دنیا ہی تلپٹ نہیں کی، افکار کی قطعیت پر بھی سوال اٹھا دیے۔ عالمی جنگ میں آتش و آہن کی بارش، لہو کی ارزانی اور تاحد نظر پھیلی تاراج بستیوں نے واضح کیا کہ دو پایہ مخلوق ابھی جنگل سے بہت دور نہیں آ سکی۔ امید اور یاس کی اس کشمکش میں ٹی ایس ایلیٹ نے اپریل کا استعارہ انتخاب کیا جو بظاہر مغربی منطقے میں بہار کا موسم ہے لیکن دراصل برگ سبز اور گل تازہ کا واہمہ ہے۔ امید کے اس ظلم سے بڑھ کر کیا المیہ ممکن ہے جو خوش رنگ خوابوں کا خون کرے، جہاں دلفریب امکانات کے پردے میں خوف، وحشت اور رائیگانی کا راج ہو۔ ہم آپ کیسے بھول سکتے ہیں کہ 4 اپریل کی تاریخ پر مارٹن لوتھر کنگ (1967) اور ذوالفقار علی بھٹو (1979) کے لہو کے نشان ہیں۔ اتفاق سے آج کل اپریل کے ابتدائی ایام ہیں اور ہمارا ملک امید و بیم کے ایک اور دوراہے پر کھڑا ہے۔ آئندہ فصلوں کی یافت تو وقت کے بیجوں میں پوشیدہ ہے، کیوں نہ گزرے ہوئے برسوں میں اپریل کی چیدہ ستیزہ کاریوں پر ایک نظر ڈال لیں۔

4 اپریل 1948ء کو وزیراعظم لیاقت علی خان نے بابائے قوم کے موقف کے علیٰ الرغم پاکستان کے دستور کی بنیاد قرآن اور شریعت پر رکھنے کا اعلان کیا۔ 8 اپریل 1950ء کو نئی دہلی میں لیاقت نہرو معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں دونوں ملکوں نے اپنی مذہبی اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق، جان و مال کے تحفظ اور عبادت کی آزادی کی ضمانت دی ۔ 17 اپریل 1953ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر کے عوام پر ریاستی قوتوں کی بالادستی کی بنیاد رکھی۔ 21 اپریل 1954ء کو منیر انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 1953 کے فسادات کو وزیراعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ کی اخلاقی اور مالی معاونت حاصل تھی۔ 23 اپریل 1956ء کو اسکندر مرزا نے ری پبلکن پارٹی قائم کر کے سیاسی کوزہ گری کا دروازہ کھولا۔ 18 اپریل 1959ء کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات پر قبضہ کر کے آزاد صحافت کی بنیاد کھودی گئی۔

یکم اپریل 1960ء کو نواب نوروز خان کے بیٹے سمیت سات افراد کو سزائے موت سنا کے بلوچ ہم وطنوں سے وعدہ خلافی کی روایت قائم کی گئی۔ 7 اپریل 1961ء کو طلبا کے متعلق خبروں کی اشاعت پر پابندی لگائی گئی۔ 3 اپریل 1963ء کو ایوب خان کے سمدھی جنرل حبیب اللہ نے گندھارا انڈسٹری کے نام سے جنرل موٹرز کی ایجنسی خریدی۔ جس پر حبیب جالب نے نظم لکھی تھی، گندھارا ، پوبارہ ۔ اپریل 1971 کی خون آشامی تو ہمارے نقشے پر لکھی ہے۔ 20 اپریل 1972ء کو سپریم کورٹ نے یحییٰ خان کو موثر بہ ماضی غاصب قرار دیا۔ 10 اپریل 1973ء کو پاکستان کا موجودہ آئین منظور ہوا۔ اپریل 1977ء میں کراچی، لاہور اور حیدر آباد میں مارشل لا لگایا گیا۔ اپریل 1984ء میں ہندوستان نے سیاچن گلیشیئر پر قبضہ کیا۔ 15اپریل 1985ء کو ایک حادثے میں طالبہ بشریٰ زیدی کی ہلاکت سے کراچی میں لسانی فسادات شروع ہوئے۔ 10 اپریل 1986ء کو بینظیر بھٹو جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں۔ 14اپریل 1988ء کو جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے۔ 18اپریل 1993ء کو غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو برطرف کیا۔ عمران خان نے 25 اپریل 1996ء کو تحریک انصاف قائم کی۔ یکم اپریل 1997ء کو تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے شق 58(2) بی حذف کی گئی۔ 6اپریل 2000ء کو نواز شریف کو طیارہ اغوا کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 30 اپریل 2002ء کو ریفرنڈم میں جنرل پرویز مشرف 97.49 فیصد ووٹ لیکر صدر قرار پائے۔ 13؍اپریل 2009ء کو قومی اسمبلی نے مولوی صوفی محمد کے ساتھ معاہدے کی منظوری دی ۔

8اپریل 2010ء کو قومی اسمبلی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کر کے پارلیمانی جمہوریت بحال کی۔ 26 اپریل 2012ء کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے الزام میں معزول کیا۔ 19 اپریل 2014ء کو حامد میر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ 24 اپریل 2015ء کو سبین محمود کو قتل کیا گیا۔ 3 اپریل 2016ء کو سامنے آنے والے پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام شامل نہیں تھا لیکن یہ قضیہ بالآ خر ان کی عدالتی معزولی پر منتج ہوا۔ 13اپریل 2017ء کو ولی خان یونیورسٹی مردان میں مشتعل ہجوم نے مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا۔ 13 اپریل 2018ء کو سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دیا۔ عوامی نمائندوں کو نااہل قرار دینے کی یہ مشق ہم نے پروڈا اور ایبڈو سے شروع کی تھی۔ آج تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ عوامی نمائندگی کے بنیادی حق سے انکار اہلیت کی ضمانت نہیں دیتا، نااہلی کے اس طلسمات کا دروازہ کھولتا ہے جہاں سازش، کوتاہ نظری اور زوال کی پرچھائیوں کے سوا کچھ نہیں مل سکتا۔ اپریل 2022ء کی تقویم کھلنا ابھی باقی ہے۔ ماضی میں اپریل کے ظلم کی حکایت آپ کے سامنے رکھ دی… ہمیں ہر ایک رنگ میں خسارہ بہار تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

تجزیے و تبصرے