پرائیویسی کتنی ضروری ہے

یہ شاید 1994 کی بات ہے جب میں پہلی بار برطانیہ گیا تھا۔ پہلی ہی رات میرے میزبان مجھے بریڈ فورڈ کے ایک جوئے خانے میں لے گئے، ویسے تو ولایت جانے والا ہر بند ہ ہی اِس قسم کی جگہوں پر جاتا ہے مگر واپسی پر سفرنامہ یوں لکھتا ہے جیسے حج کرکے آیا […]

ایک الجھن جو دور نہیں ہو رہی

میں ایک الجھن کا شکار ہوں اور الجھن ایسی ہےکہ جس کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے سخت مشکل کا سامناہے،اِس مسئلے پر میرے دل اور دماغ میں ایک جنگ جاری ہے ،مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اِس جنگ میں کس کا ساتھ دوں اور کسے تنہا چھوڑ دوں ۔مسئلہ ہے بلوچستان کے لا پتا […]

یہ لوگ کون ہیں، کہاں رہتے ہیں؟

ہم روزانہ گھر سے باہر نکلتے ہیں، بازاروں میں جاتے ہیں، دفتر۔وں میں حاضری لگاتے ہیں، بچوں کو اسکول چھوڑتےہیں، کوئی بیماری ہو تو اسپتال میں داخل ہوتے ہیں، تفریح کا ارادہ ہو تو ریستوران میں کھانا کھاتے ہیں…یہ تمام کام کرتے وقت ہمیں ارد گرد اپنے جیسے لوگ نظر آتے ہیں، جو بازاروں، دفتروں، […]

سیاحت سے آمدن کیوں نہیں ہوتی؟

اسکردو کی تین خصوصیات ایسی ہیں جو اسے باقی دنیا سے ممتاز کرتی ہیں۔ایک،کٹپناصحرا،دوسری دیوسائی کا میدان اور تیسری بوریت۔اسکردو کاہوائی اڈہ پہاڑوں کے درمیان صحرا میں واقع ہے ، سرد صحرا کے بعد یہ دوسرا عجیب و غریب صحرا تھا جو ہم نے اسکردو میں دیکھا۔ اِس صحرا میں آپ خیمے لگا کر رہ […]

کارل پوپر سے ایک اور ملاقات

ایک نوجوان سے کسی لڑکی نے پہلی مرتبہ ملاقات کی ہامی بھری تو نوجوان نے اپنے جہاندیدہ دوست سے مشورہ کیا کہ اسے ’’ڈیٹ ‘‘ پر کیا کرنا چاہیے۔ دوست نے جواب دیا کہ اسمارٹ عورتیں عموماً تین موضوعات پر گفتگو کرنا پسند کرتی ہیں، اپنے کھانے کی پسند نا پسند کے بارےمیں، گھر والوں […]

میرا فلسفی ’دوست‘ کارل پوپر

مجھےاچھی طرح یاد تو نہیں کہ فلسفے کی لَت کیسے پڑی ، شاید علی عباس جلال پوری کی کوئی کتاب ہاتھ آ گئی تھی،شروع شروع میں زیادہ سمجھ تونہیں آئی البتہ چند بنیادی نوعیت کے تصورات ضرور ذہن میں بیٹھ گئے ، اُس کے بعد جب بھی کتابوں کی کسی دکان یا میلے میں جانا […]

بھارت سے حسد کیوں؟

دو طریقے ہیں۔ پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ بھارت کی کامیابیوں کی فہرست گنوائی جائے، اُسکی کھلے دِل سے تعریف کی جائے، اپنے ملک کا بھارت کے ساتھ تقابل کیا جائے، تجزیہ کیا جائے کہ ہم سے کہاں، کب اور کون سی غلطیاں ہوئیں اور پھر اِس تجزیے کی روشنی میں اپنی روِش بدلنے […]

سقراط کی ایک تقریر

The Apology of Socrates کا اگر ہم اردو میں ترجمہ کریں تو بڑ اعجیب سا لگے گا ’’سقراط کی معافی‘‘۔ یہ کتاب افلاطون نے مکالمے کی شکل میں اُس وقت لکھی تھی جب سقراط کوموت کی سزا سنائی جانے والی تھی اور وہ اپنے دفاع میں’دلائل‘ دے رہا تھا ۔سقراط پر مقدمہ تھا کہ اُس […]

رام چندر اور فاروق حسین کو آزادی مبارک

جون 1947،نسبت روڈ، لاہور: رام چندر کو کئی راتوں سے نیند نہیں آرہی تھی ، ہر لمحے اسے دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں بلوائی اُس کے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل نہ ہوجائیں اور اُس کی دو عدد جوان بیٹیوں کو اٹھا کر نہ لے جائیں ۔ذرا سے کھٹکے پر وہ ہڑبڑا کر […]

ہم شرمندہ ہیں!

اگر کسی کا خیال ہے کہ جڑانوالہ میں مسیحی بھائیوں کے مکانوں اور گرجا گھروں کو آگ لگانے والوں کو قرآن و حدیث کے حوالے دے کر قائل کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غلط اور خلافِ اسلام کا م کیا تو یہ اُس کی خام خیالی ہے ۔ہم سب نے وہ ویڈیوز دیکھی […]