ہفتہ : 11 اپریل 2020 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]کورونا وائرس، اسپین میں اموات میں مسلسل تیسرے روز کمی[/pullquote]

اسپین میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ حکومتی بیان کے مطابق اسپین میں جمعے اور ہفتے کے درمیان مجموعی ہلاکتیں پانچ سو دس ہوئی۔ ان تازہ ہلاکتوں کے ساتھ اسپین میں اس وبا کی وجہ سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں سولا ہزار تین سو ترپن ہو چکی ہیں۔ ہسپانوی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مسلسل دو ہفتے کی بندش کے بعد پیر کے روز سے بعض کمپنیاں دوبارہ فعال ہوں گی، جب کہ مختلف میٹرو اور ٹرین اسٹیشنوں پر ماسک تقسیم کیے جائیں گے۔ ہسپانوی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل جاری رکھیں۔

[pullquote]کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی[/pullquote]

عالمی سطح پر کورونا وائرس سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد بھی سترہ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وائرس سے قریب ستر فیصد ہلاکتیں یورپ میں ہوئی ہیں۔ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکا ہے، جہاں اب تک پانچ لاکھ سے زائد افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ یورپ میں اب تک مجموعی طور پر ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

[pullquote]جرمن وزیرخارجہ کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کا دفاع[/pullquote]

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے جمعے کے روز عالمی ادارہ صحت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ماس نے کہا کہ عالمی وبا کے تناظر میں ڈبلیو ایچ او کا کام غیر معمولی ہے۔ جرمن وزير خارجہ کے مطابق اس عالمی وبا کے خلاف فتح فقط اشتراک عمل سے ممکن ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عالمی ادارے پر شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ممکنہ طور پر امریکا اس ادارے کے لیے سرمایے کی فراہمی روک سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے امریکا کو اس عالمی وبا سے متعلق بہت تاخیر سے خبردار کیا گیا۔

[pullquote]عوام صحت سے متعلق ضوابط کا احترام کریں، روحانی[/pullquote]

ایرانی صدر حسن روحانی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صحت سے متعلق متعارف کرائے گئے پروٹوکولز کا خیال رکھیں۔ ایران میں ہفتے کے روز سے ’کم خطرات کی حامل‘ اقتصادی سرگرمیاں بحال کر دی گئی ہیں تاہم دارالحکومت تہران میں یہ سرگرمیاں 18اپریل سے بحال ہوں گی۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام سماجی دوری سمیت صحت سے متعلق دیگر ضوابط کو نظرانداز کرنا شروع کر دیں۔ واضح رہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں کورونا کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

[pullquote]ٹرمپ نے اٹلی کی مدد کے احکامات دے دیے[/pullquote]

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس سے شدید متاثرہ یورپی ملکی اٹلی کو مدد فراہم کرنے کے احکامات دیے تھے۔ یہ بات اس یادداشت میں سامنے آئی، جو جمعے کی شب شائع ہوئی۔ اس ہدایت نامے میں ٹرمپ نے اٹلی میں موجود امریکی فوج سے کہا تھا کہ وہ اطالوی حکومت کی امداد کے لیے تیار رہیں اور فیلڈ ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ سپلائیز، ایندھن اور خوراک کی ترسیل کے معاملات میں مدد کریں۔ اس ہدایت نامے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی پہلی ترجیح یقیناﹰ امریکی عوام ہیں تاہم اٹلی کی مدد کرنے سے اس بحران کی شدت میں کمی آئے گی۔

[pullquote]جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق بحث[/pullquote]

جرمنی میں اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا ایسٹر کے بعد ملک بھر میں کورونا وائرس کے انسداد کے لیے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے یا نہیں۔ گزشتہ ہفتے جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ فی الحال لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے کسی تاریخ کا اعلان کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ فعل ہو گا۔ جرمنی میں 19 اپریل تک سماجی فاصلہ قائم رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری ہے۔ جرمن وزیر صحت ژینس شپاہن نے بھی ایسٹر کے بعد معمولات زندگی کو عام حالات کی جانب لانے کے خیال کو مسترد کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ رفتہ رفتہ معمول کی جانب بڑھا جائے گا۔

[pullquote]وائرس سے متاثرہ بحری جہاز سے مسافر آسٹریلیا کے لیے روانہ[/pullquote]

یوراگوائے میں کورونا وائرس سے متاثرہ مسافر بحری جہاز سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سو سے زائد شہری ایک خصوصی پرواز کے ذریعے آسٹریلیا روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ مسافر گزشتہ دو ہفتوں سے یوراگوائے میں پھنسے ہوئے تھے۔ کروز شپ پر موجود 217 میں سے 128 مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد اس بحری جہاز کو قرنطینہ کر دیا گیا تھا۔ یوراگوائے اور آسٹریلیا کے درمیان ایک معاہدے کے بعد ان مسافروں کو ایک محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔ یہ افراد طبی سہولیات سے آراستہ ایک اے تھری فائیو زیرو ایئر بس کے ذریعے آسٹریلوی شہر میلبورن لائے جا رہے ہیں۔

[pullquote]کورونا وائرس کی وبا، عالمی سطح پر جرائم میں کمی[/pullquote]

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر کے کئی ممالک میں جاری لاک ڈاؤنز کے نتیجے میں جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی شہر شکاگو، جو پرتشدد جرائم کے لحاظ سے مشہور ہے، میں جرائم میں 42 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔ نیویارک میں بھی جرائم کی سطح 90 کی دہائی کے بعد کی کم ترین سطح پر ہے۔ ادھر جنوبی افریقی پولیس کے مطابق لاک ڈاؤن کے بعد سے جرائم کے واقعات میں غیرمعمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیرو میں گزشتہ ماہ جرائم کی مجموعی شرح میں 84 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

[pullquote]افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر پاکستانی فوج کا چھاپہ[/pullquote]

پاکستانی فوج نے افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے پر حملہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس عسکری کارروائی میں دو فوجی اور سات عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ پاکستانی فوج کے مطابق یہ عسکری کارروائی شمالی وزیرستان کے گاؤن ذاکر خیل میں عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات پر کی گئی۔ واضح رہے کہ سن 2017 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان سے عسکریت پسندوں کے خاتمے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب بھی اس علاقے میں پرتشدد واقعات وقفے وقفے سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

[pullquote]سلامتی کونسل عالمی وبا کے معاملے پر یک جہتی کا مظاہرہ کرے، گوٹیریش[/pullquote]

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریش نے اپیل کی ہے کہ سلامتی کونسل عالمی وبا کے خلاف لڑائی میں یک جہتی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کورونا وائرس کی وبا کو ’ایک نسل کی جنگ‘ قرار دیا۔ اس وبا سے متعلق سلامتی کونسل کے پہلے اجلاس کے موقع پر گوٹیریش کا کہنا تھا کہ کونسل کی جانب سے یک جہتی کا اشارہ اس خوف ناک وقت میں امید کی ایک کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کا ایک بند کمرہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا ہے، جس میں کونسل کے 15 رکن ممالک نے اس عالمی وبا کے خاتمے کے لیے تجاویز دیں۔

[pullquote]رمضان کے اجتماعات شاید نہ ہو پائیں، خامنہ ای[/pullquote]

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے تناظر میں ممکنہ طور پر اس بار رمضان میں اجتماعات پر پابندی لگ سکتی ہے۔ ٹی وی پر اپنے خطاب میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس بار ماہ رمضان میں روایتی عبادتی اجتماعات شايد منعقد نہ ہو پائیں مگر اپنے اپنے گھروں میں اسی طرز کا احساس قائم رکھا جائے۔ واضح رہے کہ اپریل کے آخر میں رمضان کا آغاز ہو رہا ہے تاہم ایران کورونا وائرس کی وبا سے شدید متاثر ہونے والا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ اب تک ایران میں 67 ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جب کہ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے