قانون سازی کا اصل سرچشمہ: معاشرہ، نہ کہ اقتدار

تاریخ کے اوراق میں اگر کسی حکمران کو عوامی فلاح، عدل اور احساسِ ذمہ داری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو وہ حضرت عمر بن خطابؓ کی ذات ہے۔ ان کے دورِ خلافت کے کئی واقعات محض قصے نہیں بلکہ حکمرانی کے سنہری اصول ہیں، جو آج بھی جدید ریاستی نظام کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔

ایک حکمران کی اصل پہچان اس کے محلات، پروٹوکول یا طاقت سے نہیں بلکہ اس کے طرزِ حکمرانی سے ہوتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا طرزِ حکمرانی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قانون سازی محض کتابی عمل نہیں بلکہ ایک زندہ معاشرتی ضرورت کا جواب ہوتی ہے۔

مدینہ کی گلیوں میں رات کی تاریکی میں گشت کرنے والا حکمران دراصل اپنے عوام کے دلوں کی دھڑکن سن رہا ہوتا تھا۔ وہ نگرانی نہیں بلکہ احساس کر رہا تھا۔ ایک عورت کی تنہائی، ایک بچے کی بھوک، ایک معذور کی مجبوری—یہ سب اس کے لیے محض ذاتی مسائل نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داریاں تھیں۔

یہی وہ نقطہ ہے جہاں ایک عظیم اصول جنم لیتا ہے:

قانون اوپر سے مسلط نہیں ہوتا، بلکہ نیچے سے ابھرتا ہے۔

ایک دیہاتی عورت کی فریاد پر فوجی پالیسی بدل جاتی ہے۔ ایک بچے کی بھوک پر فلاحی نظام کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک عام عورت کی دلیل پر حکمران اپنی رائے واپس لے لیتا ہے۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل طاقت عوام کے تجربے، احساس اور ضرورت میں ہوتی ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں قانون سازی اکثر بند کمروں میں ہوتی ہے۔ عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ پالیسی ساز زمینی حقائق سے کٹ کر فیصلے کرتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوانین کاغذوں میں تو اچھے لگتے ہیں مگر عملی زندگی میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے حکمرانی کے اس بنیادی اصول کو فراموش کر دیا ہے؟

ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو سخت قوانین بنائے، بلکہ وہ ہے جو درست قوانین بنائے—اور درست قانون وہی ہوتا ہے جو معاشرے کی حقیقی ضرورت سے جنم لے۔

آج پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجز ایک ساتھ موجود ہیں، ہمیں اسی ماڈل کی ضرورت ہے۔ ایسا ماڈل جہاں حکمران عوام کے درمیان ہو، ان کی بات سنے، اور اپنی پالیسیوں کو زمینی حقائق کے مطابق ڈھالے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آزادیِ اظہار، انصاف، اور عوامی حقوق کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جب ایک عام فرد کو یہ یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جائے گی، تب ہی ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد قائم ہوتا ہے۔

حضرت عمرؓ کے واقعات ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ حکمران کا کام حکم دینا نہیں بلکہ سمجھنا ہے۔ اور جب سمجھ بوجھ کے ساتھ فیصلے کیے جائیں تو وہی فیصلے قانون بن جاتے ہیں—ایسے قوانین جو دیرپا، مؤثر اور عوام دوست ہوتے ہیں۔

آخر میں سوال ہم سب کے لیے ہے:

کیا ہم آج بھی قانون کو اقتدار کا ہتھیار سمجھتے ہیں یا معاشرے کی ضرورت؟

اگر جواب دوسرا ہے، تو ہمیں اپنے نظام، اپنی ترجیحات اور اپنے رویوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
کیونکہ تاریخ گواہ ہے؛

قانون وہی زندہ رہتا ہے جو عوام کے دل سے نکلتا ہے، نہ کہ ایوانوں سے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے