کرم حیدری: پوٹھوہار کی مٹی کا معتبر حوالہ

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے نہ صرف زبان کی آبیاری کی بلکہ اپنے خطے کی ثقافت، تہذیب اور مقامی لہجوں کو بھی عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ انہی قد آور شخصیات میں ایک نام کرم حیدری کا ہے۔ کرم حیدری محض ایک شاعر یا ادیب نہیں تھے، بلکہ وہ ایک ایسے دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں جس نے پوٹھوہار کی سنگلاخ زمین سے ادب کے گلستان کھلائے۔

ان کی ادبی زندگی اردو اور پوٹھوہاری زبانوں کے حسین امتزاج سے عبارت ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں قلم اٹھایا جب علاقائی زبانوں کو وہ علمی مقام حاصل نہیں تھا جو آج ہے، اور انہوں نے اپنی انتھک محنت سے پوٹھوہاری کو گھر کی بولی سے نکال کر "کتاب کی زبان” بنا دیا۔

کرم حیدری کا اصل نام راجہ محمد کرم داد خان تھا۔ وہ 1918 کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں پھروالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق گکھڑ خاندان سے تھا، جو تاریخی طور پر اس خطے میں اپنی بہادری اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور رہا ہے۔ پھروالہ کا قلعہ اپنی تاریخی اہمیت کے باعث مشہور ہے، اور اسی تاریخی ماحول نے کرم حیدری کی شخصیت میں قدیم روایات کی پاسداری اور مٹی سے محبت کا جذبہ پیدا کیا۔ ان کے والد راجہ سلطان علی خان ایک زمیندار تھے، مگر کرم حیدری کا رجحان شروع سے ہی علم و ادب کی طرف تھا۔

کرم حیدری نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی کا رخ کیا۔ ان کے عہد میں برصغیر میں آزادی کی تحریکیں زوروں پر تھیں۔ وہ علی گڑھ تحریک کے اثرات اور اقبال کے فکر سے بے حد متاثر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں جہاں ایک طرف کلاسیکی رچاؤ ملتا ہے، وہاں دوسری طرف جدیدیت اور قومی شعور کی لہر بھی نمایاں ہے۔ انہوں نے فارسی اور اردو ادب کا گہرا مطالعہ کیا، جس نے ان کے شعری ذوق کو جلا بخشی۔

کرم حیدری نے اپنی شاعری کا آغاز اردو سے کیا۔ ان کی شاعری میں غزل اور نظم دونوں اصناف پر یکساں گرفت نظر آتی ہے۔ ان کا اردو کلام روایتی دبستانِ دہلی اور لکھنؤ کے اثرات سے ہٹ کر ایک مخصوص زمینی احساس لیے ہوئے ہے۔ ان کی غزلوں میں تغزل کے ساتھ ساتھ تصوف اور فلسفہِ حیات بھی موجود ہے۔ وہ انسانی جذبوں کی ترجمانی نہایت سادگی مگر پرکاری سے کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک عجیب سی کھنک اور دردمندی پائی جاتی ہے جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔ کرم حیدری کی نظمیں ان کے سماجی شعور کی عکاس ہیں۔ انہوں نے غربت، جہالت، اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی نظمیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کے نوحے ہیں۔

کرم حیدری کی سب سے بڑی خدمت پوٹھوہاری زبان و ادب کی ترویج ہے۔ ان سے پہلے پوٹھوہاری کو صرف لوک گیتوں (ماہیا، ٹپے) کی زبان سمجھا جاتا تھا۔ کرم حیدری نے محسوس کیا کہ جب تک کسی زبان میں علم و تحقیق اور معیاری شاعری نہ ہو، وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔

لوک ورثے کی جمع آوری: انہوں نے گاؤں گاؤں جا کر قدیم پوٹھوہاری لوک گیتوں، قصوں اور محاوروں کو یکجا کیا۔

پوٹھوہاری شاعری کا نیا آہنگ: انہوں نے پوٹھوہاری میں غزل، نظم اور مرثیہ لکھ کر یہ ثابت کیا کہ یہ زبان بھی ہر قسم کے لطیف اور ثقیل جذبات کے اظہار کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پوٹھوہاری نثر: انہوں نے پوٹھوہاری زبان میں تنقیدی اور تحقیقی مضامین لکھ کر اس کے نثری ذخیرے میں اضافہ کیا۔

کرم حیدری کی شہرت میں ریڈیو پاکستان راولپنڈی کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک ریڈیو سے وابستہ رہے۔ ان کی بارعب آواز اور ادائیگی کے مخصوص انداز نے انہیں عوامی سطح پر مقبول بنا دیا۔ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے پوٹھوہار کے دور افتادہ علاقوں کے شعراء اور فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کیا۔ ان کے پروگرام جمہور دی آواز اور دیگر ادبی نشریات آج بھی ریڈیو کی تاریخ کا سنہری حصہ ہیں۔

اردو ادب کے افق پر کرم حیدری ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی خدمات محض شاعری تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے تحقیق، سوانح نگاری اور لوک ورثے کی حفاظت میں بھی گراں قدر کام سرانجام دیا۔ ان کی تصانیف جہاں ایک طرف کلاسیکی اردو روایت کی پاسداری کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف ان میں اپنے خطے کی مٹی اور ثقافت سے گہری وابستگی بھی جھلکتی ہے۔ ان کی علمی و ادبی کتب کا مختصر تعارف کچھ یوں ہے:

خوابِ تمنا

یہ کرم حیدری کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس نے انہیں ادبی افق پر ایک منفرد شاعر کے طور پر متعارف کروایا۔ اس کتاب میں ان کی ابتدائی فکر اور غزل کے روایتی و جدید اسلوب کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔

لهو کی مہک

اس شعری مجموعے میں کرم حیدری کی پختہ کلامی اور فنی مہارت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ اس میں شامل نظمیں اور غزلیں انسانی جذبات اور سماجی احساسات کی گہری ترجمانی کرتی ہیں۔

آتشِ کدہ

یہ ان کی قومی اور ملی نظموں کا مجموعہ ہے جو تحریکِ پاکستان کے جذبے اور حب الوطنی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ ان نظموں میں ملت کے لیے تڑپ اور آزادی کی قدر و قیمت کا احساس نمایاں ہے۔

نِعم

یہ کرم حیدری کا حمد، نعت اور منقبت پر مشتمل مجموعہ ہے جو ان کی روحانی وابستگی اور عشقِ رسول ﷺ کا مظہر ہے۔ ان کے اس کلام میں عقیدت کے ساتھ ساتھ فنِ شاعری کے تقاضوں کا بھی بھرپور لحاظ رکھا گیا ہے۔

سایۂ گل

یہ ان کا ایک اور اہم شعری مجموعہ ہے جس میں فطرت کے رنگ اور انسانی زندگی کے لطیف پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس مجموعے نے شعری حلقوں میں ان کی مقبولیت کو مزید استحکام بخشا۔

سرزمینِ پوٹھوہار

یہ کتاب خطہ پوٹھوہار کی تاریخ، ثقافت اور ادبی ورثے پر ایک جامع اور مستند تحقیقی دستاویز ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے پوٹھوہار کے گمنام گوشوں کو علمی دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔

پوٹھوہاری گیت

اس کتاب میں کرم حیدری نے خطے کے قدیم اور لوک گیتوں کو نہ صرف ترتیب دیا بلکہ ان کا ادبی جائزہ بھی پیش کیا۔ یہ کام پوٹھوہاری زبان اور ثقافت کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑی علمی خدمت ہے۔

پوٹھوہاری لوک کہانیاں

کرم حیدری نے اس کتاب کے ذریعے پوٹھوہار کی قدیم داستانوں اور سینہ بہ سینہ چلنے والے قصوں کو تحریری شکل دی۔ اس کا مقصد نئی نسل کو اپنی مٹی کی قدیم روایات اور اخلاقی درس سے جوڑنا تھا۔

قائد اعظم: شخصیت اور کردار

یہ بانیِ پاکستان کی زندگی پر ایک معرکہ آرا سوانحی کتاب ہے جس میں ان کی سیاسی جدوجہد اور ذاتی اوصاف پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب تاریخی حقائق اور قائد کی بصیرت کو عام فہم انداز میں پیش کرتی ہے۔

پیر مہر علی شاہ: پنجابی اور فارسی کلام

اس کتاب میں انہوں نے گولڑہ شریف کے عظیم صوفی بزرگ کے کلام کو ترتیب دیا اور اس کی علمی تشریح کی۔ یہ کام تصوف اور روحانی ادب کے طالب علموں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔

کرم حیدری نے راولپنڈی کو ادب کا گہوارہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ بزمِ فروغِ ادب اور دیگر انجمنوں کے روحِ رواں تھے۔ ان کے ڈیرے پر ہر شام ادیبوں اور شاعروں کی محفل سجتی تھی جہاں نوآموز لکھاریوں کی تربیت کی جاتی تھی۔ ضمیر جعفری، سیف الدین سیف اور دیگر ہم عصر شعراء کے ساتھ ان کے گہرے مراسم تھے۔

تحقیق ان کا خاص میدان تھا۔ انہوں نے برصغیر کی تاریخ، بالخصوص خطہِ پوٹھوہار کی تاریخ پر گہری نظر رکھی۔ ان کے تحقیقی مقالات مختلف جرائد میں شائع ہوئے جنہوں نے تاریخ کے گمگشتہ اوراق کو وا کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پوٹھوہار صرف جنگجوؤں کی سرزمین نہیں بلکہ یہ علم و عرفان کا گڑھ بھی رہی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قائم ہونے والی رائٹر ہاؤسنگ سوسائٹی کا انتظام جب کرم حیدری اور سید ضمیر جعفری کے سپرد ہوا تو انہوں نے اسے عملی شکل دینے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔ اس سوسائٹی کا بنیادی مقصد لکھنے پڑھنے والے افراد کو ایک باوقار رہائش فراہم کی جائے، تاکہ وہ اپنی تخلیقی اور فکری خدمات کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں۔ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں اس سوسائٹی نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔

کرم حیدری نے نہ صرف مخالفین بلکہ حامی لکھنے والوں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں اسلام آباد جیسے مہنگے شہر میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اہلِ قلم کو پانچ مرلے کے پلاٹس الاٹ کیے گئے۔ یہ اقدام ان کی زندگیوں میں ایک عملی سہارا ثابت ہوا، کیونکہ اس سے قبل بیشتر اہلِ قلم راولپنڈی اور اسلام آباد میں کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے۔ یہ کارنامہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ ان میں وہ لکھاری بھی شامل تھے جنہیں جنرل ضیاء کے دور میں محض قلم اٹھانے کی پاداش میں ملازمتوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔

سی ڈی اے نے بھی اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا اور اہلِ قلم کو ایک ہی جگہ پر جمع کر دیا۔ یہاں ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن اسٹیشن کے سرکاری ملازمین بھی موجود تھے۔ اس طرح ایک ایسا ادبی اور تخلیقی ماحول پیدا ہوا جس میں سرکاری اور غیر سرکاری افراد یکجا ہو کر رہنے لگے۔تقریباً پینتیس سے چالیس اہلِ قلم نے اس سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے اس جدوجہد میں حصہ لیا اور اسلام آباد جیسے شہر میں اپنی رہائش کا خواب حقیقت میں بدلا۔

اردو اور پوٹھوہاری کا یہ عظیم خدمت گزار یکم جون 1994 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا وہ آج تک پُر نہیں ہو سکا۔ تاہم، ان کی تحریریں اور ان کا فکر آج بھی پوٹھوہار کے ذرے ذرے میں مہک رہا ہے۔ ان کی جدوجہد نے نہ صرف اہلِ قلم کو عملی سہارا دیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے یہ پیغام چھوڑا کہ قلم کی طاقت اور اجتماعی کوشش معاشرے میں دیرپا تبدیلی لا سکتی ہے۔ کرم حیدری کی یاد آج بھی ادبی محفلوں اور فکری مباحث میں زندہ ہے، اور ان کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

حوالہ جات

کرم حیدری۔ پوٹھوہاری لوک گیت۔ راولپنڈی: نئیر پبلیکیشنز۔
ضمیر جعفری۔ کرم حیدری: شخصیت اور فن۔ اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان۔
ڈاکٹر نذیر انور۔ پوٹھوہاری ادب کی تاریخ۔ لاہور: عزیز بک ڈپو۔
ڈاکٹر وحید قریشی۔ اردو ادب کا علاقائی پس منظر۔ کراچی: مقتدرہ قومی زبان۔
اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ۔ (جلد 15)۔ یونیورسٹی آف پنجاب، لاہور۔
ڈاکٹر رشید احمد خان۔ خطہِ پوٹھوہار کے مشاہیر۔ راولپنڈی: گندھارا آرٹ کونسل۔
ریڈیو پاکستان آرکائیوز۔ خصوصی دستاویزی پروگرام: یادِ کرم حیدری۔
روزنامہ نوائے وقت۔ کرم حیدری کی ادبی خدمات پر خصوصی ایڈیشن۔
مجله لوک ورثہ۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوک اینڈ ٹریڈیشنل ہیریٹیج، اسلام آباد۔
ڈاکٹر ابواللیث صدیقی۔ جدید اردو شاعری کے رجحانات۔ دہلی: مکتبہ جامعہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے