اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے مطابق شہباز گل کی طبیعت تسلی بخش ہے ، انہیں دل کی تکلیف نہیں ہے۔
چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے شہبازگل کا طبی معائنہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شہباز گل کو بچپن سے سانس کا مسئلہ ہے اور ضرورت پڑنے پر برونکڈیلٹر استعمال کرتےہیں، انہیں سانس لینے میں مسئلہ ہے اور جسم میں کندھے، گردن اور چھاتی کے بائیں جانب درد محسوس کررہے ہیں۔
ڈاکٹرز نے کہا کہ شہباز گل کی گزشتہ رات ای سی جی رپورٹ بہتر نہ تھی ، ان کے دل کی دھڑکنیں رات تیز تھی ،بعض اوقات بے چینی بڑھنے سے بھی دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں اور سانس لینے میں مشکلات آجاتی ہیں، دوبارہ ای سی جی کی جائے گی۔
پمز میڈیکل بورڈ نے رپورٹ میں سفارش کی کہ ملزم کی صحت کے لحاظ سے اس کا مزید معائنہ کرنا ہوگا۔ تفتیش افسر نے میڈیکل رپورٹ اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں جمع کرادی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل کیس میں آئی جی کو فوری طلب کرلیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کے مزید جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسر کو متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ آج ہی دن تین بجے طلب کر لیا ہے۔
عدالت نے آئی جی اسلام آباد، ایس ایس پی انوسٹی گیشن اورایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کر لیا ۔ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی معاونت کے لیے نوٹسز جاری کر دیے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق نے بغاوت کے مقدمہ میں شہباز گل کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
پٹیشنر کی جانب سے فیصل چودھری اور شعیب شاہین ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد کیا جارہا ہے جو غیر قانونی ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تین بجے کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔
آئی جی اسلام آباد ، ایس ایس پی انویسٹیگیشن ، ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو بھی طلب کر لیا جبکہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو بھی ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
شہباز گل پر تشدد کے خلاف درخواست دائر
علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنماؤں اسد عمر اور بابر اعوان نے شہباز گل پر تشدد کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
درخواست میں شہباز گل کے طبی معائنہ کے لیے غیر جانبدار ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس کو شہباز گل پر پریشر ڈال کر اعترافی بیان لینے سے روکا جائے ، شہباز گل پر جسمانی تشدد کی خبریں میڈیا پر بھی آ چکی ہیں ۔
درخواست میں کہا گیا کہ تشدد کے بعد شہباز گل کی جسمانی اور دماغی حالت بہتر نہیں جو اسکی زندگی کے لیے خطرہ ہے، شہباز گل کو حراست میں رکھنے کا مقصد صرف جسمانی تشدد کرنا مقصود ہے، عدالت شہباز گل کے جسمانی تشدد سے روکنے کا حکم جاری کرے۔