صحافت کی تعلیم لینے کے باوجود نارووال کی خواتین صحافت سے دور

نارووال میں صحافت کی ڈگری 2013 سے پڑھائی جا رہی ہے۔ ڈسٹرکٹ یونیورسٹی نارووال ماس کمیونیکیشن کے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ حسیب سرور کے مطابق نارووال سے اب تک 120 خواتین ماس کمیونیکیشن کی ڈگری لے چکی ہیں اور اس وقت نارووال یونیورسٹی میں 60% خواتین ماس کمیونیکیشن کے ڈیپارٹمنٹ میں ذیر تعلیم ہیں لیکن اس کے باوجود نارووال میں مردوں کے مقابلے ایک بھی خاتون صحافت میں نہیں ہیں۔

نارووال سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ امرین کہتی ہیں کہ جب انہوں نے ماس کمیونیکشن میں داخلہ لیا توانہوں نے سوچا تھا کہ ان کا ایک مستقبل ہوگا لیکن صحافت کی ڈگری ختم کرتے ہی ان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑھا کیوں کہ ان کو اپنے علاقے سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی اور ان کے لئے اپنے علاقے میں کوئی بھی نوکری نہ تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ضلع میں کوئی بھی ایسا میڈیا ادارہ نہیں ہے جس کے لئے وہ جاب کر سکیں اور اس کی ان کو تنخوا بھی دی جائے۔

اس کے علاوہ ان کے لئے شہر سے باہر جانا اور میڈیا میں ایک اچھی نوکری تلاش کرنا ایک لمبی جدوجہد ہوگی جو کہ ان کے لئے کرنا آسان نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ابھی ایک اسکول میں ٹیچنگ کی نوکری کر رہی ہیں۔

فریڈم نیٹ ورک کی ایک رپورٹ کے مطابق صحافت کے شعبہ میں اعلی انتظامی عہدوں پر خواتین کی تعداد بہت کم ہے جو کہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں خواتین صحافیوں کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 20،000 صحافیوں میں سے 5 فیصد سے بھی کم خواتین ہیں۔

ملتان سے تعلق رکھنے والی الیشبا چار سال سے صحافت سے وابستہ ہیں اور روہی ٹی وی کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اکثر لوگوں کی باتوں کی وجہ سے خواتین اس فیلڈ میں نہیں آتی ہیں کیوں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اگر لڑکی سڑک پر کھڑی ہوگی یا مختلف ادارواں میں جائیں گی تو اس پر بھی لوگ باتیں کرتے ہیں۔ ملتان میں خواتین صحافی الیکٹرونک میڈیا میں بھی بس تین چار کے قریب ہیں اگر اتنے بڑے شہر میں خواتین صحافیوں کی تعداد کم ہے تو گاؤں میں نہ ہونا بھی ظاہری سی بات ہے۔

اس کے علاوہ اگر آپ کو گھر سے سپورٹ بھی ملتی ہے تو باقی کے خاندان کے لوگ آپ کو باتیں کرتے ہیں۔
اسی طرح اگر آپ روڈ پر کھڑے ہیں فیلڈ میں اور آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہوجاتا ہے تو مختلف چینلز نہ ہی آپ کو سیکورٹی دیتے ہیں اور نہ ہی کچھ کرتے ہیں اور آپ کو اپنی مدد آپ کے تحت سب کچھ ہینڈل کرنا پڑتا ہے”۔
ہمارے معاشرے میں بھی یہ سوچ ہے کہ اگر کوئی لڑکی کیمرے کے آگے آ گئی ہے یا مائک پکڑ کر کھڑی ہے تو لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ لڑکی تو ہے ہی بری۔

اس کے علاوہ کافی دفعہ کوئی آپ کو کچھ کہتا تو نہیں ہے جب آپ فیلڈ میں جاتے ہوں لیکن اس کی نظریں آپ کو ہراساں کر رہی ہوتی ہیں۔اور آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ میں نے آخر کیا کر دیا ہے یہ سب واجوہات بھی آپ کا اعتماد کم کر دیتی ہیں۔

لڑکیوں کو کم تنخواہ بھی دی جاتی ہے اور یہ سب چزیں آپ کو پریشان کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لڑکیاں اس فیلڈ میں آگے نہیں بڑھتیں ۔

نارووال سے ڈان۔نیوز پیپر کے ساتھ منسلک صحافی عابد بیگ کا کہنا ہے کہ نارووال خواتین صحافیوں کا نہ ہونا ایک افسوس کی بات ہے۔ جس طرح ضلع میں ہر ڈیپارٹمنٹ میں خواتین موجود ہیں اور جب کہ صحافت میں نہیں ہیں۔“اس کی ایک بڑی وجہ صحافت میں خواتین کی لئے ہر جگہ رکاوٹیں پیش کرنا ہے اور اگر وہ صحافت کے فیلڈ میں آ بھی جائیں تو دیہاتی علاقوں میں اور معاشرے میں ان کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔اس کی دوسری بڑی وجہ میڈیا اداروں کا خواتین کو دیہاتی علاقوں میں تنخواہ نا دینا بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں ہمارے علاقوں میں یہ سوچ بھی ہے کہ لڑکیوں کی ایک دن شادی کر دینی ہے اس لئے ان کا فیلڈ میں کوئی کام نہیں۔ “اس دقیانوسی سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ معاشرے میں بہتری آ سکے اور لوگ زیادہ سے زیادہ آگاہ ہوں۔

نارووال میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کی ڈائریکٹر مہوش کا کہنا ہے۔ دیہاتوں میں اگر خواتین فیلڈ میں آ بھی جائیں تو ان کو بہت سے چیلنجز در پیش رہتے ہیں ۔ نارووال میں خواتین کے لئے ایک مناسب ٹرانسپورٹ کا نا ہونا بھی ایک مسئلہ ہے اسی طرح یہ سوچ ابھی تک ہے کہ عورت کو گھر میں رہنا چاہیے اور پردے میں ہی رہے۔ بہت سی لڑکیاں ڈگری لینے کے بعد کوشش کرتی ہیں کہ وہ کسی شہر میں جا کر اچھی نوکری کریں لیکن اس بات پر بھی ان پر گھر کی جانب سے پابندی عائد کر دی جاتی ہے ۔

وہ کہتی ہیں کہ ایسے بہت سے کیسز ہیں جہاں اگر کوئی خاتون اپنی مرضی سے پڑھ کر اپنی مرضی کے کوئی بھی فیلڈ میں جاتی ہے تو اس کو معاشرے میں ایک بری لڑکی کہا جاتا ہے یا اس کا ایسا امیج بنا دیا جاتا ہے۔

ضلع نارووال کے ایک بھی پریس کلب میں خاتون صحافی کی ممبر شپ نہیں ہے۔ جب کہ ضلع کے تمام پریس کلبز میں 70 کے قریب ممبرز ہیں جو کہ سب مرد صحافی ہیں۔

اس بارے میں نیشنل پریس کلب کے صدر مالک سید الحق غیر سنجیدگی سے بات کرتے ہوے کہتے ہیں کہ "میڈیا میں بہت سے کرائسس ہیں نہ ہی خواتین کے لئے میڈیا میں نارووال میں مواقع ہیں اور نہ ہی ایسے کوئی پیکجز جس سے وہ اس فیلڈ میں آ جائیں۔ صحافت میں مرد بھی اس فیلڈ کو چھوڑ رہے ہیں خواتین کیسے آئیں گی۔ اگر کوئی خاتون ممبر شپ لینا چاہتی ہے تو ہم اس کو دیں گی۔ تاہم بہت سی خواتین تو بہت سی ڈگری لیتی ہیں لیکن وہ کون سی ان سب فیلڈز میں آ جاتی ہیں وہ تو صرف اپنی شادی کرنے کے لئے ڈگری لیتی ہیں۔

دوسری جانب ڈسٹرکٹ انفارمیشن کے ڈائریکٹر محمد احسن کا کہنا ہے کہ، میڈیا چینلز کو چاہیے کہ جب وہ چھوٹے ضلعوں سے اپنے رپورٹر رکھیں تو وہ کوئی ایسی پالیسی لے کر آئیں جہاں پررپورٹر رکھتے وقت یہ مقرر کیا جائے کہ ان علاقوں سے اتنے فیصد خواتین رپورٹر ہونا بھی ضروری ہے اور ان خواتین رپورٹرزکی تنخوا بھی رکھی جائے۔ ان کو سیکورٹی اور انشورنس بھی دی جائے۔ دیہاتی علاقوں میں خواتین کی تعداد کو بڑھانا اور صحافت کے مواقعے فراہم کرنا پالیسی میکرز کا کام ہے۔

وہ کہتے ہیں صحافت ایک مشکل جاب ہے اور دیہاتی علاقوں میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی بھی ادارے یا کسی کے خلاف خبر لکھ سکیں اور خواتین کے لئے یہ اور بھی مشکل جاب ہے۔ اگر کوئی ایسے اقدامات کئے گئے آپ خواتین کو صحافت میں لانے کے لئے آگاہی دیں تو ہم ضرور اس پر عمل کریں گے تاہم فل حال یہ ہماری جاب نہیں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے