ساشے سائز دانشور کے ساتھ مکالمہ

گاڑی میں بیٹھا آفس جا رہا تھا، پاس بیٹھے شخص نے پوچھا "کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا صحافت کا طالب علم ہوں.

بندہ بولا، سوشل میڈیا استعمال کرتے ہو؟
میں نے کہا جی استعمال کرتا ہوں، سوشل میڈیا سے احوال حاضرہ کا پتہ چلتا ہے، ادبیوں اور دانشوروں سے سیکھنے کو ملتا ہے۔

بندہ بولا ، یار سوشل میڈیا کے ادیبوں اور دانشوروں کی تو بات ہی نہ کرو، ان میں زیادہ تر بددیانت اور پٹواری ہیں۔
میں نے لاحولہ پڑھ کر کہا، اجی ادیبوں اور دانشوروں کے بارے ایسے کلمات اچھی بات نہیں، وہ قوم کے استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

بندہ بولا ، چھوڑو یارا ، پٹواری مائنڈ سیٹ کا بندہ بھی کبھی استاد یا معمار ہو سکتا ہے !
میں نے کہا، آپ کسی حد تک ٹھیک کہہ رہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا مائنڈ سیٹ رکھنے والا اپنی استادی اور دانشوری میں نظریاتی ڈندی مارتا ہے، مگر یہ زیادہ تر وہ لوگ ہوتے ہیں جو کلٹ ٹائپ ہو، ظاہر ہے کلٹ صرف کارکن تو نہیں، رہنما اور دانشور بھی تو کلٹ ہو سکتا ہے۔

بندہ بولا، بھائی آپ کل پنجاب کالج والے معاملے کو ہی دیکھ لیں، بیس بائیس سالہ نوجوانوں کو لاٹھیوں، لاتوں اور مکو سے مارا گیا ہے، مبینہ کیس کی تفصیلات روکنے کیلئے حکومت صحافیوں کو ڈرا دھمکا رہی، میڈیا کو کنٹرول کر رہی۔ جو رپورٹ اور پریس کانفرنس ہوئی اس پہ کئی سوالات ہیں مگر دانشور واویلا کر رہا کہ فیک نیوز پھیلائی جا رہی، حکومت کریک ڈاؤن کرے، بلکہ کچھ مہان لوگوں نے تو پہلے دن ہی کہا کہ یہ یوتھیوں کی واردات ہے فلاں ڈمکاں۔

میں نے کہا ، صاحب دیکھیں معاملہ اتنا بڑا بھی نہیں تھا جتنا سوشل میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اور اتنا چھوٹا بھی نہیں جتنا حکومت بتا رہی۔ دو قسم کے معاملات ہیں، ایک سوشل میڈیائی اور دوسری حکومتی رپورٹس۔ اب سوشل میڈیا پہ معاملے کو بڑھایا چڑھایا گیا، معاملے کو سیاسی رنگ دیا گیا، اور ظاہر ہے یہ کام انصافینز نے کیا۔ دوسری جانب حکومتی معلومات ہیں، جو کنٹرول اور فلٹر شدہ ہیں۔ البتہ دانشور کا صرف سوشل میڈیائی کمپین پہ تنقید کرنا اور حکومتی نااہلی پہ خاموش رہنا بددیانتی ہے۔

بندہ بولا، ہمیں تو دانشور بھی اچھے نہیں ملے، آدھے دانشور پٹواری ہیں۔
میں نے کہا، بھائی صاحب دیکھیں دانشوروں کے بارے ایسا نہ کہیں، آپ نے پہلے بھی یہ بات کہی جو میں نے نظر انداز کی۔ دانشور صرف دانشور ہوتا ہے، البتہ وہ کسی نظریہ کے ساتھ چل سکتا ہے مگر اس حد تک نہیں کہ وہ پٹواری، یوتھیا اور جماعتی وغیرہ کہلائے، بھلا وہ نظریاتی کارکن کے بجائے مزکورہ ٹرم کی حد تک کیوں آئے گا؟

بندہ بولا، دراصل جب سے پی ٹی آئی کو عروج ملا ہے، یہ سوشل میڈیا پہ چھا گئے، ایسے چھا گئے کہ سوشل میڈیا پہ ان کے کانٹیٹ کے علاؤہ کچھ دکھتا اور بکتا ہی نہیں۔ اب پرانا زمانہ تو رہا نہیں کہ دانشور اپنی ٹھرک اخبار اور ریڈیو سے پوری کرے، اس لئے دانشور صاحب کو سوشل میڈیا پہ آنا پڑا، جب کہ سوشل میڈیا پہ لوگ ان کی باتیں سنتے نہیں، کیونکہ قوم یوتھ کو بھاشن فضول لگتے ہیں اور وہ انہیں تھکے ہارے ویلے ریٹائرڈ کہتے ہیں۔ بدلے میں یہ لوگ اپنی دانشوری کا سہارہ لیکر ان کی اخلاقیات کو چینج کر دیتے ہیں۔

میں نے کہا، دیکھیں بھائی ، یہ بات بھی تو بڑی حد تک ٹھیک ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعت کے لوگ کلٹ ہیں، اور وہ پی ٹی آئی کے حق میں حد سے زیادہ پروموشن اور مقابل کے خلاف حد سے زیادہ پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ اس کلٹ کو سمجھانے واسطے دانشور اپنے قلم کو جنبش دے دیتا ہے۔

بندہ بولا، کلٹ کو سمجھانے اور ایک مخصوص سیاسی پارٹی کی مسلسل مخالفت کرنا الگ الگ باتیں ہیں۔ مان لیا کہ 2018 میں دھاندلی ہوئی تھی، مگر 24 میں دھاندلی کے تو نئے ریکارڈ بنے ہیں۔ اب گزشتہ دھاندلی کے بنا پر موجودہ دھاندلی کو جسٹیفائی کرنے والے کو دانشور تو نہیں کہہ سکتے نا۔

دوجی بات، ماضی میں تمام حکومتیں اسٹیبلیشمنٹ کی آشیرباد سے بنی ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں، مگر جس طریقے سے پی ٹی آئی نے اس نظام کو ایکسپوز کیا ہے، وہ کسی اور نے نہیں کیا۔ پرانی جماعتیں تو مار کھا کر چپ چاپ بیٹھ جایا کرتی تھی۔ اب ہونا یہ تو چاہیے کہ موجودہ وقت میں مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہوا جائے، کل کو جب یہ حکومت میں آئے تو انہیں یاد دھیانی کراؤ، یہ ظالم بنے تو ان کی بھی مخالفت کرو، مگر فلحال موجودہ ظالم و مظلوم کو پہچانو۔

میں نے پوچھا، پٹواری دانشور کی دوسری نشانی کیا ہے ؟
بندہ بولا، پٹواری دانشور اور ادیب یک طرفہ اصلاح کرنے کی ناکام کوشش کریگا، مثلاً وہ پنجاب کالج والے معاملے میں قوم یوتھ کو جھوٹا اور پروپگنڈے باز تو بولا ہے، مگر مجوزہ آئینی ترمیم کیلئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اپوزیشن اراکین اور ان کے گھر والوں کے ساتھ بدتمیزی، ڈراؤ دھمکاو پہ خاموش ہے۔ اب بتاؤ سوشل میڈیا پروپیگنڈا بڑا جرم ہے یا کسی کی ماں بہن کو گھر سے اغواء کر لینا ؟ جھوٹ بڑا جرم ہے یا بندوق کے نوک پہ من مرضی کے مطابق حق رائے دہی استعمال کرانا؟
دوجی بات، اگر کوئی جھوٹ بول رہا ہے یا پروپگینڈا کر رہا ہے تو کن کے خلاف کر رہا ہے؟ اور کیوں کر رہا؟ اس کی وجوہات جاننے پہ دانشور صاحب مسلسل کیوں نہیں لکھ رہے؟ (بندہ ہنس کر بولا) یار اگر یوتھیوں سے گلہ ہے، تو انہیں بنایا کس نے ہے؟ پروجیکٹ کس کا تھا؟

میں نے کہا، دیکھیے جی، بہت سے لوگوں نے اراکین اسمبلی پر تشدد کی مذمت کی ہے، اور وہ وقتاً فوقتاً اسٹیبلیشمنٹ کی غلط پالیسیوں پر بھی لکھتے اور بولتے ہیں۔
بندہ بولا، بہت سے نہیں ، بلکہ کچھ لوگوں نے مذمت کی ہے۔ اور کچھ ہی لوگ اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ مگر ان میں بھی کچھ ایسے ہیں جو صرف موقف بیلنس کرنے کے واسطے ایسا کرتے ہیں۔ جبکہ اصل بیلنس تبھی مانا جائے گا جب تسلسل کے ساتھ یہ قائم رہے۔

گاڑی میں پاس بیٹھے اس شخص سے مزید سوالات و جوابات بھی کرنے تھے، مگر ہم منزل پر پہنچ گئے تھے۔
میں نے آخر میں کہا آپ کی باتوں سے جزوی اتفاق اور اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اس کیلئے الگ نشست درکار ہوگی۔

خیر آپ اپنا تعارف تو کراتے جائیں۔
بندہ گاڑی سے اترتے ہوئے کہنے لگا، میں بھی دانشور ہوں،مگر فلحال ساشے سائز میں ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے