شروع کرتا ہوں بابرکت نام والے اللہ سے جو بہت وسعتوں والا بادشاہِ عظیم ہے۔ وہ کبھی دعائیں رد نہیں کرتا اور اپنی تخلیق سے محبت و اکرام والا معاملہ عطا فرماتا ہے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں نے اللہ سے دعا مانگی تھی کہ "اے اللہ! مجھے اپنی دنیا دکھا اور دنیا میں دل نہ لگانا۔ اور اللہ! اپنے انبیاء کے نقشِ قدم پہ چلانا”۔ مطلب جہاں انہوں نے اپنے مبارک قدم رکھے ہیں، مجھے بھی وہاں پہ لے کر جانا۔ ایسا ہی ہوا لیکن اس کے لیے جو اللہ نے اسباب بنائے وہ بہت زبردست ہیں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے قارئین کے ساتھ ان احوال کا تذکرہ باعثِ سعادت و مسرت سمجھتا ہوں۔
میں کئی دنوں سے فار ایسٹ ایشیا (Far East Asia) کا تذکرہ کرنا چاہ رہا تھا، سو آج تھائی لینڈ سے اسٹارٹ کرتے ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا کے مرکز میں واقع یہ خوبصورت ملک، جو اپنے دلفریب جزائر اور سیاحت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، تقریباً 7 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے۔ یہاں بینکاک اور پٹایا جیسے بڑے شہروں میں 10 سے 15 ہزار کے قریب پاکستانی مقیم ہیں، جن میں سے اکثریت کپڑے، ٹورازم اور خصوصاً قیمتی پتھروں و جواہرات کے کاروبار سے وابستہ ہے۔
جنوری 2015 کی بات ہے۔ والدہ کی جدائی نے دل غمگین کر دیا تھا اور بہت بھٹکا ہوا اور اندر سے خالی محسوس کر رہا تھا۔ والدہ کی جدائی نے اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ نجانے سینئر کے ذہن میں کیا آیا کہ میری نامینیشن (Nomination) آ گئی اور مجھے ایک ٹریننگ ورکشاپ پہ تھائی لینڈ بھیجا گیا۔
بات مختصر، بینکاک کے ایئرپورٹ پہ اترنے کے بعد بہت زبردست قسم کی مرسڈیز لینے آئی اور بینکاک کے وسط میں ایک پُرآسائش ہوٹل میں قیام تھا۔ اسی ہوٹل کے قریب میرے رشتہ داروں کی دکانیں بھی تھیں جہاں وہ مختلف قسم کے اوتھر اور جواہرات (Gemstones) کے کاروبار سے منسلک تھے۔ تو دھیان بدلنے لگا۔ سید شریف جان، جو میری چھٹی کلاس تک ایک ساتھ ایک بینچ کے ساتھی تھے، ان سے ملاقات ہوئی اور ٹریننگ ورکشاپ، جو پارلیمانی اسٹاف کے لیے مختص تھی، ساتھ ساتھ چلتی رہی۔
پاکستان کا جھنڈا میرے نام کے سامنے لگا ہوا تھا، بہت خوشی محسوس ہوئی اور پاکستان کو ریپریزنٹ (Represent) کرنا باعثِ فخر و خوشی محسوس ہوا۔ صبح ورکشاپ، شام کو شریف جان عرف "بابو” کے ساتھ گپ شپ۔ بینکاک کی سیر بھی ہوتی رہی۔ ورکشاپ میں ایڈوکیسی (Advocacy) کے حوالے سے اور پارلیمانی اسٹاف کو کیا کرنا ہوتا ہے، قانون سازی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو چلتی رہی۔ اعتماد میں اضافہ ہوا۔ ایشیا پیسیفک اور فار ایسٹ ایشیا سے آئے ہوئے مندوبین کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملا اور بہت کچھ سیکھا بھی۔
ورکشاپ ختم ہونے کے بعد اگرچہ میرا اسٹے مزید بھی ہوٹل میں ہی تھا، مگر بابو کے ساتھ وقت گزارنے کی خاطر میں وہاں سے پہلے چیک آؤٹ کر گیا اور ان کے ساتھ قریب ایک علاقے میں، جہاں وہ رہائش پذیر تھا، شفٹ ہو گیا۔ اسی دوران وہاں پہ فیس بک کے ذریعے ایک تھائی نیشنل (Thai National) کے ساتھ پہلے سے سلام دعا ہوئی تھی، وہ لینے پہنچ آئے اور مجھے بینکاک سے 300 کلومیٹر دور لے گئے۔ وہاں ایک دن گزرا۔ ادھر ہی موجود نیشنل پارک میں جمعہ پڑھا اور ہالی ووڈ کی فلموں کی طرح دریا میں سے کشتی میں گزرتے ہوئے کشتی رانی کی۔ خوب دل بہلا اور واپس بینکاک آ گیا جہاں بابو کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں اور گپ شپ چلتی رہی۔
بابو کے ساتھ شاید ہی بینکاک میں ایسی کوئی جگہ ہو جو نہ دیکھی ہو۔ بابو سوشل میڈیا کے ماسٹر تھے، جگہ جگہ کھڑا کر کے، بٹھا کر وہ میری تصویریں کھینچتا رہا اور نئے نئے کھانے کھلا رہا تھا، جس میں اچار کے ساتھ اور تھائی مصالحوں اور چٹنی کے ساتھ ہاف فرائی انڈے اور سفید چاول مجھے آج بھی یاد ہیں۔ بابو ہمارے اور رشتہ داروں کے ساتھ میری تواضع میں مشغول تھا۔
وقت کم تھا مگر وہ مجھے پٹایا گھمانے لے گئے۔ بابو بینکاک میں رہ گیا اور میں پٹایا نکل گیا۔ وہاں ایک 55 منزلہ عمارت سے زپ لائن (Zip Line) پہ اترنے کا نہایت ہی منفرد تجربہ کرنے کا احساس ہوا۔ ایک رسے کے ذریعے 55 منزلہ عمارت سے کودنا بہت دل گردہ رکھنے والی بات ہے۔ عمارت سے نیچے دیکھا تو والدہ مرحومہ کی بات یاد آ گئی کہ "موت کے لیے ہر وقت باوضو رہنا چاہیے”۔ اس لیے سوچا کہ اگر جمپ میں مر نہ جاؤں تو نیچے آ کر وضو کیا اور پھر جمپ۔
رات کو وہ دوست مجھے اٹھا کر ‘واکنگ اسٹریٹ’ (Walking Street) میں لے کر گیا۔ اللہ جانتا ہے، ہر طرف موسیقی کا شور اور ماحول جیسے میرے اعصاب پر بھاری پڑتا دکھائی دیا اور میں وہاں رات کے کسی پہر آسمان کو دیکھ کر، اپنی والدہ کی یاد میں اللہ سے عرض کرنے لگا: "اے اللہ! یہ آپ مجھے کہاں لے کر آئے ہیں؟ مجھے یہاں نہیں، مکہ مدینے لے چلو!”
والدہ کی یاد میں خلوص سے نکلی یہ دعا مجھے ایسے اڑا کر اگلے ہی جون میں کعبہ کے دروازے پہ لا کر کھڑا کر گئی، کہ میں یہ کہانی پھر کبھی سناؤں گا۔ ہاں! طواف میں گھومتے ہوئے اور کعبے کی رونقوں نے مجھے دو دعائیں مانگنے پر مجبور کیا: "اے میرے رب! میری ماں کے ساتھ جڑے ہر رشتے کو میرا ذریعہ بنا کر کعبہ لے کر جانا اور اپنی دنیا دکھانا۔”
اللہ نے دعائیں قبول کیں۔ تھائی لینڈ اور فار ایسٹ ایشیا اس کے بعد بہت جانا ہوا۔ بابو کے ساتھ ملاقاتیں رہیں، چیانگ مائی (Chiang Mai) اور تھائی لینڈ کے بہت سارے علاقے دیکھے اور کعبہ بیت اللہ کی زیارت بھی چلتی رہی۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی حکمتیں بہت مختلف ہوتی ہیں۔ وہ دین و دنیا کے ساتھ جڑے ہوئے انسان سے محبت کا اظہار کرتا ہے، ہم سمجھ نہیں پاتے۔ اللہ ہمیں اس کی حکمت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، شکر ہے اللہ میرے مہربان رب! یہ اس لیے کہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتے، جب تک دھڑکن چلتی ہے یہ سب چلتا رہتا ہے، بس انسان منزلوں اور راستوں میں اللہ سے عافیت مانگتا رہے۔ منزلیں بھی تو راستے ہی ہوتے ہیں۔