اسفارِ حسینؑ: تاریخ جس کی ہم سفر ہے (قسطِ دوم)

شروع کرتا ہوں اللہ کے بابرکت ناموں سے جو ہر چیز سے واقف ہے اور یہاں تک کہ لمحہ بہ لمحہ محرم کے ان ساعتوں کا آسمان سے اور زمین سے احاطہ کیے ہوئے تھا جب امام اور ان کے قافلے کے جنتوں کے وارث خیمہ زن ہوئے تھے کربلا میں۔

3 اور 4 محرم کے دن حالات سنگینی اختیار کر رہے تھے۔ حکومتِ یزید کے جن لشکروں نے طاقت آزمائی کے لیے دیلمیوں کے خلاف موجودہ ایران میں لڑنا تھا وہ آ کھڑے ہوئے امام حسینؑ اور ان کے نہتے ساتھیوں کے سامنے۔

دیلمی، شمالی ایران کے پہاڑی علاقے گیلان اور مازندران کے وہ اصیل ایرانی قبائل تھے جو صدیوں سے اپنی آزادی اور بہادری کے لیے مشہور تھے۔ حکومتِ اموی کے لشکر انہیں زیر کرنے کے لیے بار بار ان کے پہاڑوں کا رخ کرتے تھے، مگر یہ قوم آسانی سے ہار ماننے والی نہ تھی۔

3 محرم کو عمر بن سعد چار ہزار کے لشکر کے ساتھ کربلا پہنچا، اور 4 محرم کو حکومتِ وقت کی طرف سے بقیہ فوج کو بھی کربلا پہنچنے کا سخت حکم جاری ہوا تاکہ امامؑ کا گھیراؤ سخت کیا جا سکے۔ (الارشاد / تاریخِ طبری، جِلد 5(

4 محرم کا دن تاریخ کے صفحات میں ایک اور المناک موڑ کے طور پر درج ہے۔ اسی روز عمر بن سعد نے ابنِ زیاد کو خط لکھا جس میں امام حسینؑ کی طرف سے صلح کی پیشکش کا ذکر کیا اور لکھا کہ اگر انہیں جانے دیا جائے تو خون بہانے سے بچا جا سکتا ہے۔ ابنِ زیاد نے پہلے اس تجویز پر غور کیا، مگر شمر بن ذی الجوشن نے درباری سیاست کے نشے میں اس امن کے دروازے کو بند کروا دیا اور ابنِ زیاد کو مجبور کیا کہ وہ عمر بن سعد کو لکھے: یا لڑو، یا کمان چھوڑو۔

4 محرم کو عمر بن سعد نے ابنِ زیاد کو صلح کا خط لکھا اور امام حسینؑ کی طرف سے تجاویز پیش کیں کہ واپس مدینہ جانے دیا جائے، کسی سرحدی علاقے میں رہنے دیا جائے، یا یزید سے براہِ راست ملاقات کا موقع دیا جائے۔ ابنِ زیاد نے شمر کے بہکاوے میں آ کر یہ تمام تجاویز مسترد کر دیں اور مزید فوج کربلا روانہ کرنے کا حکم دیا۔ *(تاریخِ طبری، جِلد 5 / الارشاد، شیخ مفید)*

یہ وہ لمحہ تھا جب ظلم نے آخری دروازہ بند کر دیا اور حق کو اپنا راستہ خود بنانا پڑا۔ ہمارے حسینؑ سفارت کاری کو سمجھتے تھے، وہ مکالمے اور امن کے حامی تھے. یہ نہیں کہ وہ امن کو ناپسند کرتے تھے، بلکہ انہوں نے خود صلح کی تجاویز پیش کیں۔ مگر جب ظلم نے ہر دروازہ بند کر دیا اور انہیں میدانِ جنگ تک لا کھڑا کیا۔ تو پھر وہ حسینؑ تھے، جنت کے سرداروں کے سردار، جو نہ کبھی پیچھے ہٹے اور نہ ان کے دیوانے پیچھے ہٹنے والے تھے۔

میرا سر کاٹ دو، نیزے پہ رکھو — کسے پرواہ ہے

حسینی ہوں، مجھے زخموں میں لڑنا اچھا لگتا ہے

تمہیں یزید کی طاقت، گھمنڈ اس کا مبارک ہو مجھے عباس کا علم پکڑنا اچھا لگتا ہے
مجھے عباس کا علم پکڑنا اچھا لگتا ہے

اور ہمارے وقت شناس امام حسینؑ نے وہاں کے مقامیوں سے زمین خرید لی اپنوں کی تدفین کے لیے۔

تاریخی روایات کے مطابق، امامِ عالی مقامؑ نے کربلا کی زمین وہاں کے مقامی قبیلے بنی اسد سے ساٹھ ہزار (60,000) درہم میں خریدی تھی تاکہ شہداء کی تدفین کی جگہ اپنی ملکیتی زمین ہو۔ (مستدرک الوسائل، جِلد 10 / مجمع البحرین)

میں ادنیٰ گناہگار اور مجھ سے بہتر بہت سارے نیک لوگ تا قیامت ویسے ہی تو حسینؑ کے دیوانے نہیں۔

جب کوئی شخص حیات ہوتے ہوئے اپنوں کی تدفین کے لیے زمین خریدے، تو ایسے شاہانہ کردار کے مالک پہ کیوں نہ لاکھوں کروڑوں درود و سلام اور ان کے نام پہ قربان ہونے کو دل کیوں نہ چاہے۔

ہائے میرے حسینؑ! مجھے تو آپ کی شخصیت کے ایک ایک پہلو سے محبت ہے۔

9 اور 10 محرم الحرام ہمارے لیے محض لانگ ویک اینڈ (Long Weekend) کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مگر 8 ذوالحجہ سے 10 محرم تک امام حسینؑ کا یہ سفرِ کربلا بہت کچھ درس و عبرت کا باعث ہے امت کے لیے۔

روایات میں آتا ہے کہ حسینؑ نے یزید کو دمشق میں پہلے بھی دیکھا تھا جب وہ شراب پی رہا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر تم بادشاہ بنے تو میں کبھی تمہاری بیعت یا اطاعت نہیں کروں گا۔

اس تاریخی حقیقت کی گواہی تاریخِ دمشق کے مستند صفحات دیتے ہیں کہ صلحِ امام حسنؑ کے دور میں امام حسینؑ نے دمشق کا سفر فرمایا تھا اور وہاں یزید کے کرتوتوں اور عیاشیوں کو قریب سے دیکھا تھا۔ امامؑ نے دمشق کے اس تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اس کے منہ پر اس کے عیوب بیان کیے۔ آپؑ نے واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا: *”تم امتِ محمدیؐ کے لیے ایک ایسے شخص کو چن رہے ہو جو شراب پیتا ہے اور عیش و عشرت میں مگن رہتا ہے؟” آپؑ نے پہلے ہی دن واضح کر دیا تھا کہ یزید جیسا فاسق اگر بادشاہ بن بھی جائے، تو حسینؑ اس کی اطاعت کبھی نہیں کرے گا۔ (تاریخ ابنِ عساکر / الامامت و السیاست، ابن قتیبہ دینوری)

اپنے اوپر لازم سمجھتا ہوں کہ ان کردار سے گرے ہوئے، اسلام کے چہرے میں چھپے ہوئے بھیڑیوں کی مذمت کروں جو اب بھی منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر یزید کے لیے صفائیاں پیش کر رہے ہوتے ہیں اور جنت کے مالکوں سے، امینوں سے اور حسینیوں سے غداری کر رہے ہوتے ہیں۔

حضرت واصف علی واصفؒ اور ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا: آپ کا مسلک کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اب تو دو مسلک رہ گئے ہیں، ایک یزیدی اور ایک حسینی۔ فیصلہ کرنا ہے کہ کس کے گروپ میں شامل ہونا ہے۔

میں حسینی تھا، حسینی ہوں اور حسینی رہوں گا۔ میرا مسلک، فرقہ و مذہب حسینی تھا، ہے اور رہے گا۔

میں یہ کہتا ہوں حسینؑ کو نہیں ہمیں حسینؑ کی عشق کی ضرورت ہے۔

امام فرماتے ہیں مجھ سے محبت کرو اور خدا کی اطاعت کرو کامیابی اسی میں ہے۔

میرے حسینؑ کے اسفار دیکھو تو بندہ دنگ رہ جائے۔

21 سال کی عمر میں خصوصی طور پر تیسرے خلیفۃ الوقت حضرت عثمانؓ کے دور میں جنگوں میں حصہ لیا۔ موجودہ دور کے طرابلس اور دمشق پہنچے۔

سن 30 ہجری میں سعید بن عاص کے لشکر کے ہمراہ طبرستان (موجودہ ایران) کی مہمات، اور اسی دور میں شمالی افریقہ (طرابلس) اور شام کے محاذوں پر اسلامی لشکر کی آمد و رفت کے دوران آپؑ کے اسفار تاریخ کا حصہ بنے۔ (تاریخِ طبری، جِلد 4 )

میرے حسینؑ کے اسفار دیکھیے 25 مرتبہ مدینہ سے مکہ حج کے لیے آئے۔

امام حسینؑ نے کمالِ بندگی اور تعظیمِ شعائر میں مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے 25 حج پیدل (پاپیادہ) چل کر ادا فرمائے۔ (سیئر اعلام النبلاء، علامہ ذہبی)

میرے حسینؑ کا کردار تو کربلا میں جھلک ہے۔ ان کی پچھلی زندگی اس سے بھی بڑھ کر کردار کے اعلیٰ ترین اسباق کی روداد سناتی ہے۔

میرے حسینؑ کے اسفار تاریخ کا حصہ نہیں ہیں، تاریخ میرے حسینؑ کے اسفار کا حصہ ہے۔

میرے حسینؑ کے خیموں کے گرد پانی روکنا ان کی پیاس نہیں بجھا رہے۔ ذرا غور سے دیکھیں، فرات کو اب تک حسینؑ اور ان کے قافلوں کی پیاس کی دیوانی ہے۔

کربلا سجدہ گزاروں کی تقدس کی زمین

کربلا حسنِ رخِ عرشِ معلیٰ کی امین

کربلا حق کا بدن

نقشہء فردوسِ بریں

کربلا عدل کا دستور مودت کی جبیں

کربلا اب بھی ورا دسترسِ جبر سے ہے

کربلا روکشِ خورشیدِ صدا صبر سے ہے

ملتے ہیں حسینؑ کی محبت کے ساتھ، نم آنکھوں کے ساتھ اگلی قسط میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے