جس معاشرے کی پہلی وحی کا آغاز”اقرا“ سے ہوا ہو، وہاں اگر ڈھائی کروڑ بچے علم کی روشنی سے محروم گلیوں کی خاک چھان رہے ہوں، تو یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک قومی المیہ اور ضمیر کا ماتم ہے۔ یونیسف کی رپورٹس کے مطابق پاکستان سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر آچکا ہے۔ یہ ڈھائی کروڑ بچے صرف اعداد و شمار نہیں ہیں، یہ پاکستان کا وہ مستقبل ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ تاریکی کی نذر ہو رہا ہے۔ اس سنگین بحران کی جڑیں ہمارے بوسیدہ معاشی اور حکومتی ڈھانچے میں پیوست ہیں، جہاں بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے معصوم بچوں کو قلم کی جگہ چائلڈ لیبر کی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔
تاہم، مایوسی کے اس گھنے اندھیرے میں صوبہ پنجاب سے امید کی ایک نئی اور طاقتور کرن ابھری ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں اس وقت صوبے میں جو انقلابی تعلیمی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں، وہ روایتی نعروں سے ہٹ کر عملی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں۔ مریم نواز نے حکومت سنبھالتے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ تعلیم پر خرچ کیا جانے والا ایک ایک روپیہ ملک کی بہترین سرمایہ کاری ہے۔ اسی وژن کے تحت پنجاب حکومت نے پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے ذریعے ہزاروں سرکاری سکولوں کا پورا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے، جس سے اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ترین خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔
ان تمام اصلاحات میں سب سے تاریخی اور دور رس اقدام”نواز شریف سکول آف ایمینس“ (Nawaz Sharif Schools of Eminence – NSSE) کا قیام ہے،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے تعاون سے صوبے بھر میں قائم کیے جانے والے یہ فلیگ شپ اسکول غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہیں،یہ ادارے صرف روایتی سرکاری اسکول نہیں، بلکہ بین الاقوامی معیار کے ایسے جدید لرننگ سینٹرز ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس لیبز، اسمارٹ کلاس رومز، ڈیجیٹل لائبریریز اور جدید ترین سائنس و اسٹیم (STEAM) لیبارٹریز قائم کی گئی ہیں، یہ ماڈل اب تیزی سے پورے پنجاب میں پھیل رہا ہے، جو نجی شعبے کے مہنگے ترین اسکولوں کا مقابلہ بالکل مفت اور اعلیٰ ترین تعلیم سے کر رہا ہے۔
اس تعلیمی وژن کی ایک شاندار اور عملی مثال لاہور کے علاقے نشترکالونی میں قائم ”نواز شریف سکول آف ایمینس نشتر گرلز کیمپس“ کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے، فیروز پور روڈ پر خیابانِ کریم میں واقع یہ اسٹیٹ آف دی آرٹ گرلز کیمپس اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سرکاری سطح پر بھی نجی انٹرنیشنل اسکولوں جیسا ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے، نشتر کالونی کے اس کیمپس میں جہاں ایک طرف ارلی چائلڈ ہُڈ ایجوکیشن (ECE) کے لیے انتہائی دلکش اور تخلیقی پلے لیبز بنائی گئی ہیں، وہیں دوسری طرف طالبات کو اکیسویں صدی کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے لیے جدید روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس لیبز قائم کی گئی ہیں، اس ادارے کا خاصہ یہ ہے کہ یہاں غریب اور متوسط طبقے کی بچیوں کو بہترین اساتذہ کی زیرِ نگرانی، بغیر کسی فیس اور امتیازی سلوک کے، وہ تمام عالمی تعلیمی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن کا خواب ان کے والدین کبھی نہیں دیکھ سکتے تھے،نشتر گرلز کیمپس جیسے ادارے بچیوں کی نہ صرف علمی بلکہ اسپورٹس ٹیچرز اور ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی اخلاقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
”نواز شریف سکول آف ایمینس“ جیسے ادارے ملک میں ایک حقیقی اور پائیدار تعلیمی انقلاب لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان سکولوں کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ یہ معاشرے میں موجود طبقاتی نظامِ تعلیم کا خاتمہ کر رہے ہیں۔ جب ایک پسماندہ علاقے یا عام مزدور کی بیٹی اسمارٹ بورڈ پر پڑھے گی، تھری ڈی پراجیکٹرز کے ذریعے سائنس کے تصورات سمجھے گی اور ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کرے گی، تو وہ خود اعتمادی کی اس بلندی پر پہنچ جائے گی جہاں وہ ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے،یہ سکول صرف ڈگریاں نہیں بانٹ رہے، بلکہ ایسی ہنرمند اور تخلیقی نسل تیار کر رہے ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرے گی۔
مریم نواز شریف کا یہ تعلیمی ماڈل محض وقتی اصلاحات یا روایتی پراجکٹس تک محدود نہیں، بلکہ یہ طویل المیعاد بنیادوں پر پنجاب کے سرکاری نظامِ تعلیم کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ایک سائنسی اور منظم کوشش ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بیوروکریسی، تعلیمی ماہرین اور نجی شعبے کے اشتراک سے ایک ایسا خودکار اور شفاف مانیٹرنگ سسٹم وضع کر دیا ہے جہاں اقربا پروری اور سیاسی مداخلت کا مکمل خاتمہ ممکن ہو چکا ہے۔ اس تعلیمی انقلاب کا ایک اور روشن پہلو اساتذہ کی جدید خطوط پر پیشہ ورانہ تربیت اور میرٹ پر بھرتیاں ہیں، تاکہ اسمارٹ کلاس رومز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کا ذہنی اور علمی معیار بھی بین الاقوامی سطح کے ہم پلہ لایا جا سکے۔ بنیادی ڈھانچے کی اس کایا پلٹ اور انتظامی سختی نے اساتذہ کی غیر حاضری کے دیرینہ مرض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کا سرکاری سکولوں پر اعتماد بحال ہو رہا ہے اور نجی سکولوں کی مہنگی فیسوں سے مجبور والدین اب جوق در جوق اپنے بچوں کا داخلہ ان جدید سرکاری اداروں میں کروا رہے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت تعلیمی بحران سے نکالنے کے لیے اسی”پنجاب ماڈل“ کی ضرورت ہے۔ مریم نواز شریف کی حکومت نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز سے نئے کلاس رومز کی تعمیر، کمپیوٹر لیبز کا قیام اور اساتذہ کی جدید تربیت جیسے جو سنگِ میل عبور کیے ہیں، وہ دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک بہترین رہنما گائیڈ ہیں۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو ایک معاشی اور سماجی طاقت بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر تعلیم پر توجہ دینی ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پورے ملک میں ”نواز شریف سکول آف ایمینس“ جیسے وژن کو پھیلایا جائے۔ حکومتِ پنجاب نے علم کے نور کا جو چراغ روشن کیا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی روشنی پورے پاکستان کے اندھیروں کو مٹانے کے لیے استعمال کی جائے۔ قلم اٹھائیے اور اس تعلیمی انقلاب کا حصہ بنیے، کیونکہ تعلیم پر خرچ کیا گیا ایک ایک روپیہ ہماری بقا کی ضمانت ہے۔