پہلا حصہ۔
پانچ جولائی 2026ء کو سوات ادبی ملگری کے زیرِ اہتمام جہانزیب کالج (نیو کیمپس)، سیدو شریف میں معروف شاعر، ادیب، محقق اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن عطاء کی دو کتابوں، ان کے شعری مجموعے "لپہ لونگ” اور تحقیقی و تنقیدی کتاب "جناب اقبال حسین افکار: فن اور ادبی خدمات” کی تقریبِ رونمائی نہایت وقار، شایانِ شان اور پُروقار انداز میں منعقد ہونا تھی۔ اس باوقار ادبی تقریب میں مجھے اور میرے جیون ساتھی کو، خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں سے تشریف لانے والے ممتاز شعرا، ادبا، صحافیوں، کالم نگاروں اور اہلِ قلم کے ہمراہ شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔
یہ دعوت میرے دل میں ایک عجیب سی خوشی اور والہانہ مسرت بھر گئی۔ میں تصور ہی تصور میں اس خوبصورت ادبی محفل کا حصہ بن چکی تھی، جہاں ادب و ثقافت سے وابستہ نامور شخصیات سے ملاقات، خیالات کا تبادلہ، نئے تعلقات کی بنیاد اور علمی و ادبی گفتگو کا حسین موقع میسر آنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات کی دلکش وادیوں، سرسبز پہاڑوں، ٹھنڈی فضاؤں اور قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کی خواہش بھی میرے دل میں موجزن تھی۔
شدید گرمی کے باوجود اس یادگار سفر کا اشتیاق میری تمام مصروفیات پر غالب تھا۔ میں نے اپنے لیے ملک کے ایک معروف برانڈ سے دو نئے سوٹ منگوائے، انہیں اپنی پسند کے مطابق خوبصورتی سے سلوایا اور بڑی محبت سے سفر کا بیگ تیار کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اپنے جیون ساتھی کے سامان سے پہلے اپنی تمام ضروری اشیا بھی احتیاط سے سمیٹ کر رکھ دیں۔ دل خوشی سے سرشار تھا، آنکھوں میں سوات کے حسین خواب سجے تھے اور ذہن میں اس ادبی تقریب کی دلکش تصویریں گردش کر رہی تھیں۔
مگر انسان منصوبے بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بہترین فیصلے فرماتا ہے۔
عین انہی دنوں میرے بابا جان، جو کچھ مشکلات سے گزر رہے تھے، کا فون آیا۔ انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا: "آپ چھ تاریخ کو اپنا لیپ ٹاپ لے کر میرے پاس آجائیں، مجھے آپ کی ضرورت ہے۔”
یہ سنتے ہی میرے دل کی کیفیت یکسر بدل گئی۔ ایک طرف سوات کے سفر کی بے پناہ خواہش تھی اور دوسری طرف بابا جان کی آواز میں جھلکتی ضرورت اور اعتماد۔ میں نے فوراً گھر فون کرکے تصدیق کی کہ آیا واقعی بابا جان نے مجھے بلایا ہے یا شاید میں نے بات درست طور پر نہیں سمجھی۔ گھر والوں نے بھی یہی بتایا کہ بابا جان نے خاص طور پر آپ کو بلایا ہے، اس لیے آپ کا جانا ضروری ہے۔
میں نے یہ بات اپنے جیون ساتھی سے شیئر کی تو اس نے نہایت محبت اور خلوص سے کہا: "آپ ضرور بابا جان کے پاس جائیں۔ وہ اس وقت مشکل میں ہیں، اور انہوں نے گھر کے دوسرے افراد کے بجائے آپ کو یاد کیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آپ پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور آپ ان کے دل کے بہت قریب ہیں۔ اگرچہ بعض لوگ آپ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور آپ کو ان کی نظروں سے گرانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، مگر ہر بار ناکام ہوئے ہیں۔ اس لیے اس مشکل گھڑی میں آپ کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ سوات کی سیر پھر کبھی ہو جائے گی، میں وعدہ کرتا ہوں کہ مناسب وقت پر آپ کو ضرور سوات کی سیر کراؤں گا۔”
اس کی باتوں نے میرے دل کو سکون بخشا۔ میں نے اپنی خواہش کو مؤخر کرتے ہوئے دل پر پتھر رکھ لیا اور یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا کہ والدین کی خدمت سے بڑھ کر نہ کوئی سفر ہوتا ہے، نہ کوئی تقریب اور نہ ہی کوئی خوشی۔
یقیناً اللہ تعالیٰ جب کسی خوشی کو وقتی طور پر مؤخر کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اس سے کہیں بہتر نعمت عطا فرماتا ہے۔ سوات کی حسین وادیوں کی سیر کا خواب اگرچہ اس وقت ادھورا رہ گیا، مگر بابا جان کی خدمت کا جو اطمینان اور روحانی سکون نصیب ہوا، وہ میرے لیے ہر خوشی، ہر سفر اور ہر تقریب سے کہیں بڑھ کر تھا۔
جاری ہے۔