سابق محبوبہ، بڑی بیگم اور نئی دلہن!

شاہی حرم یورپ کا ہو یا ایشیا کا، مسلم دنیا کا ہو یا عیسائی دنیا کا، جنگلی قبیلے کے سردار کا ہو یا بڑی ریاست کے بادشاہ کا، انکے طور طریقے، آداب، ماحول اور ثقافت کی کہانیاں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ ماضی کی کتاب سے ملی یہ ایسے ہی ایک شاہی حرم کی کہانی ہے کہ جس میں بادشاہ کی بڑی بیگم اپنی سوتن کو نئی دلہن بنا کر حرم میں داخل کرنا چاہتی تھی حالانکہ کون نہیں جانتا کہ سوتنوں کی آپس میں کبھی نہیں بنتی۔

اس کہانی میں مگر بڑی بیگم بہت اعلیٰ کردار کی مالک تھی، بادشاہ اس ملکہ سے بہت خوش تھا ،صدقے واری جاتا تھا۔ بڑی بیگم کو عوام سے بہت محبت تھی وہ ہر روز دس بارہ گھنٹے کام کرتی تھی تاکہ ریاست کے لوگ خوشحال اور مطمئن ہوں۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، بادشاہ اور بڑی بیگم ہر معاملے میں ایک ہی صفحے پر ہوتے تھے معاملہ بیرونی ہو یا اندرونی دونوں کی اس حد تک رائے ایک جیسی ہوتی تھی کہ رعایا سمجھنے لگی کہ بادشاہ اور انکی بیگم کے مشترکہ کارنامے اب نصاب کا حصہ بن جائیں گے۔بادشاہ کی پرانی محبوبہ جو جوانی میں بہت خوبصورت اور مقبول تھی مگر اب جیل میں تھی اوراس محبوبہ سے بادشاہ کے تعلق کو جوانی کی غلطیوں اور نادانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔

بادشاہ اور بڑی بیگم کے تعلقات کار بے حد مثالی تھے بیگم محنتی ضرور تھی مگر وہ اولاد کو جنم دینے اور بادشاہت کیلئےنئی امید پیدا کرنے سے قاصر تھی بادشاہ کی شدید خواہش تھی کہ پہلی بیگم سے اولاد نرینہ ہو جو آئندہ سیاسی وراثت سنبھال سکے۔ پہلی بیگم میں جہاں بے شمار خوبیاں تھیں وہاں وہ ریاست کا معاشی پہیہ چلانے میں بھی ناکام تھی۔ پہلے تو اس نے بادشاہ کے سامنے اپنی مہارت، تجربے اور دور اندیشی کےبڑے دعوے کئے اور معیشت کو بہتر کرنے کا ذمہ لے لیا مگر یہ کام نہ ہو سکا تو رعایا بے چین ہونے لگی ،درباری تک حدت محسوس کرنے لگے ، صحافتی ہرکارے واویلا کرنے لگے۔

بادشاہ بڑی بیگم کی شکایتیں اور غلطیاں نظر انداز کرتا رہا مگر ایک دن اس نے سب سے بااعتماد وزیر کو بلا کر مشورہ کیا کہ نہ رعایا سیاسی طور پر مطمئن ہے اور نہ معاشی طور پر تو پھر بڑی بیگم کا کیا کیا جائے۔ وزیر باتدبیر تھا اس نے پہلے تو بڑی بیگم صاحبہ کی سیرت و کردار کی وہ وہ خوبیاں بیان کیں جو بادشاہ کے علم میں بھی نہیں تھیں، اس پر بادشاہ نے وزیر باتدبیر سے پوچھا کہ اتنی خوبیاں ہونے کے باوجود رعایا کیوں مطمئن نہیں ہے؟

وزیر باتدبیر نے اِدھر اُدھر دیکھ کر سرگوشی سے کہا کہ بڑی بیگم بانجھ، عقیم اور بے اولاد ہیں ہمیں نئی دلہن لانی چاہئے تاکہ سیاسی وراثت آگے چل سکے، نئی دلہن کی اولاد ہوگی تو اسکی برکت سے معاشی پہیہ بھی چل پڑے گا۔ بادشاہ نئی شادی کی تجویز پر متعجب ہوا اور وزیر باتدبیر سے پوچھا کہ نئی دلہن لائیں تو کہیں بڑی بیگم ناراض ہوکر میکے نہ چلی جائےاور وہاں میکے والوں کو میرے خلاف بھڑکانا شروع کر دے۔ وزیر باتدبیر نے کہا کہ عقدثانی بادشاہوں کا رواج اور ریت ہے ۔شاہی حرم کی ملکۂ اوّل بے شک بڑی بیگم رہیں لیکن کاروبار مملکت نئی دلہن چلائے۔بادشاہ نے وزیر باتدبیر کو بڑی بیگم کو نئی دلہن کے بارے میں منانے اور بڑی بیگم کے میکے کی طرف سے ممکنہ منفی ردّعمل کو روکنے کا ٹاسک دیدیا۔

ماضی کی اس کہانی کے مطابق وزیر باتدبیر نے بڑی بیگم سے لمبی لمبی ملاقاتوں میں انہیں قائل کر لیا کہ راج آپ ہی کا رہے گا نئی دلہن سے بادشاہ بھی راضی ہو جائیگا اور رعایا بھی بہل جائیگی، بڑی بیگم پہلےپہل مانتی ہی نہیں تھی مگر وزیر باتدبیر نے بادشاہ کے ناراض ہوکر خود اقتدار سنبھالنے اور سب کیلئے پھر سے مشکلات آنے بالخصوص میکے والوں کیخلاف کارروائیوں سے ڈرایا تو بڑی بیگم نئی دلہن خود لانے پر راضی ہوگئی۔ وزیر باتدبیر بہت سمجھدار تھے رعایا کے سب سے وفادار طبقے کو اعتماد میں لیکر بتایا کہ نظام گر چکا، سب کچھ ناکام ہو چکا یہ بھی کہہ دیا کہ بڑی بیگم بہت شاندار ہے۔

تاہم نئی دلہن لانے سے ہی نظام چلے گا نظام بھی بدلنا پڑے گا اور چہرے بھی۔ سابق محبوبہ کے رشتہ داروں، بڑی بیگم کے میکےوالوں اور بادشاہ کے پڑوسیوں کو بھی ساتھ بٹھا کر نظام بدلنے پر اتفاق رائے کرنا ہو گا۔ ماضی کی کتاب میں لکھا ہے کہ بڑی بیگم نے میکے والوں کو سمجھایا اور کچھ کوڈرایا تووہ بھی نئی دلہن پر تیار ہو گئے۔ پڑوسی اور سابق محبوبہ والےبھی مان گئے اور پھر شان و شوکت سے برات نکلی، عقدثانی ہوا ،براتیوں میں سرخ، سبز اور کالے سب شامل ہو گئے۔

اور یوں ریاست کا نظام بھی بدل گیا اور چہرے بھی بدل گئے، بڑی بیگم بھی حرم میں رہی اور سابق محبوبہ قید سے باہر نکل کرکلیلیاں بھرنے لگی۔ یہاں تک تو کتاب محفوظ تھی اگلے صفحات پھٹے ہوئے تھے آگے کہانی کا کیا ہوا کچھ پتہ نہیں چلتا تاہم اندازہ یہی ہے کہ راوی نے اس کے بعد چین ہی لکھا ہوگا۔

اوپر دی گئی کہانی کا نہ پاکستان سے کوئی تعلق ہے نہ اسکا موجودہ سیاست پر اطلاق ہوتا ہے ۔ اب نونی کہانی سن لیں اور دونوں کہانیوں میں فرق جان لیں ۔ یہاں جمہوری نظام ہے جبکہ اس ملک میں بادشاہت تھی ،یہاں وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو اور باس ہے وہاں بادشاہ نے خوامخواہ بڑی بیگم کو پردھان بناکر سیاست اور معیشت اسکے حوالے کررکھی تھی۔ موجودہ حکومت اور اُسکے محنتی وقابل وزیراعظم کمال ڈھا رہے ہیں ملک دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے، البتہ ملک میں اپوزیشن اور حکومت کے کچھ اتحادی ضرور مخالف آوازیں اٹھا رہے ہیں مگر ان آوازوں میں نہ وزن ہے اور نہ انکی کہیں بھی شنوائی ہے، سب ہرا ہرا ہے، سب ٹھیک ہے۔بہترین گورننس ہے ،زبردست کابینہ ہے، شاندار خارجہ پالیسی ہے ، مقتدرہ اور حکومت میں بے مثال انڈر اسٹینڈنگ اور دوستی ہے، صورِاسرافیل بھی پھونک دیا جائے تو قیامت نہیں آنے والی۔

پہلے آپ نے ماضی کی ایک داستان اور بادشاہ کے عقدثانی کی کہانی سنی پھر آپ نے نونی کہانی جانی اب ذاتی کہانی کی باری ہے۔ یہ ناچیز صحافی، ایک ڈرپوک شوہر ہے شرعی اجازت کے باوجود عقدثانی سے خوفزدہ ہے اِردگرد کے تجربات دیکھ کر نئی دلہن کے بارے میں سوچنے تک کی جرأت نہیں کر پاتا۔ مرحوم و مغفور مولانا سمیع الحق کیساتھ ایک”دن جیو کے ساتھ‘‘ ریکارڈ کرنے گیا تو یہ تجربہ بہت ہی دلچسپ اور یادگار تھا۔ اس ریکارڈنگ کا ایک واقعہ بھلائے نہیں بھولتا۔ مولانا کھلے ڈُلے مولوی تھے اور انکی حِس مزاح بھی با کمال تھی۔

مولانا سے دوسری شادی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ انکی دو شادیاں ہیں اور پھر مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کمال کاتاریخی اور مزاحیہ فقرہ کہا ”دوسری شادی کرنے کی خواہش ہر کسی میں ہوتی ہے مگر عمل کوئی کوئی بہادر ہی کر پاتا ہے‘‘ یہ ڈرپوک صحافی چونکہ بزدل ہے اور عقدثانی سے ڈرتا ہے اسلئے موجودہ سیاسی تجربے میں نظام کی تبدیلی یا حکومت کی تبدیلی اور پھر اسکی بجائے نئی نویلی دلہن کے تجربے سے ڈرتا ہے یہ نہ ہو کہ پہلی بیگم بھی ہاتھ سے جائے اور نئی دلہن تنک مزاج نکل آئے یا بے وفائی پر آمادہ ہو جائے تو پھر اس تجربے کا کیا بنے گا ؟

یادش بخیر، میرے مہربان اور لیڈروں کے لیڈر نوابزادہ نصر اللہ خان کا پس منظر احراری تھا اوروہ مسلم لیگیوں کی بدلتی وفاداریوں کے گواہ رہے تھے اسلئے جب مسلم لیگ ق بنی تو حافظ شیرازی کا یہ فارسی مصرعہ پڑھ کر قہقہہ لگایا ،بقول حافظ ’’ کہ ایں عجوز عروسِ ہزار داماد است‘‘ عروسِ ہزار داماد کا مطلب ہے کہ یہ ہزار دامادوں کی دلہن ہے۔ دیکھنا یہ ہےکہ سیاست میں نئی دلہن آئیگی تو برات وہی پرانی ہوگی یاسرے سے نئی اور واقعی اس نئی شادی سے نظام بھی بدلے گا یا پھر یہ چکی پرانے پاٹ پر ہی چلتی رہے گی۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے