لاہور(ایم اے تبسم سے)پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینزلاہور ڈویژن کو اس وقت شدید تنظیمی دھچکا لگا جب ڈویژنل کوارڈینیٹرچودھری طارق علی کمبوہ نے پارٹی پالیسیوں اور قیادت سے مایوس ہو کر پیپلز پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔
ان کے ہمراہ وسطی پنجاب اور لاہور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں پرانے اور نظریاتی کارکنوں نے بھی پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پنجاب میں پارٹی کا تنظیمی ڈھانچہ بری طرح لڑکھڑا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چودھری طارق علی کمبوہ کا استعفیٰ پارٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری اس نظریاتی جنگ کا نتیجہ ہے جس میں پرانے کارکنوں کا موقف تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے بنیادی منشور”روٹی، کپڑا اور مکان“ اور غریب عوام کی آواز سے دور ہو چکی ہے۔
طارق علی کمبوہ نے اپنے قریبی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے بنی تھی، اب اس کا عوام سے کوئی رابطہ نہیں رہا۔ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا انقلابی عزم اب صرف مفاہمت اور جوڑ توڑ کی سیاست کی نذر ہو چکا ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور، قصور اور گردونواح کے اضلاع میں کمبوہ برادری کے سرکردہ رہنما چودھری طارق علی کمبوہ کا استعفیٰ پیپلز پارٹی کے لیے پنجاب میں بڑا نقصان ثابت ہوگا۔
پارٹی قیادت کی جانب سے طویل عرصے سے کی جانے والی مبینہ”تنظیمی سازی“ دھرے کی دھرے رہ گئی ہے کیونکہ ان کے الگ ہوتے ہی سینکڑوں فعال عہدیداران بھی پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔اس استعفے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مڈل آرڈر قیادت اور دیرینہ کارکنان موجودہ مرکزی فیصلوں سے شدید نالاں ہیں اور پارٹی اب صرف ایک صوبے تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔