4 اگست : یومِ شہداء، قربانی اور قومی شعور کا دن

4 اگست ہمارے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اپنے ان عظیم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے وطن کی سلامتی، عوام کے تحفظ اور امن و امان کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ دن ہمیں ان بہادر سپوتوں کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ ان شہداء میں پولیس، افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، ریسکیو اہلکاروں اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے اپنی جان سے بڑھ کر وطن کی عزت، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی۔

ہمارے ملک میں دہشت گردی،جرائم کے خلاف کارروائیوں، سرحدوں کے دفاع، قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں اور عوامی خدمت کے مختلف شعبوں میں ہر سال بے شمار اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ خصوصاً پولیس فورس،جو عوام کے درمیان رہ کر دن رات اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی ہے،ہر مشکل گھڑی میں شہریوں کی حفاظت کے لیے صفِ اول میں موجود ہوتی ہے۔ایک پولیس اہلکار جب وردی پہنتا ہے تو وہ صرف ملازمت اختیار نہیں کرتا بلکہ قوم کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کا عہد بھی کرتا ہے۔یہی جذبۂ خدمت انہیں ہر خطرے کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔

شہداء کی قربانیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ ہم ایک پرامن، مہذب، منظم اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں۔ قانون کی پاسداری،قومی اتحاد،باہمی احترام،برداشت اور انصاف کے فروغ کے ذریعے ہی ہم ان عظیم قربانیوں کا حقیقی حق ادا کر سکتے ہیں۔ایک باشعور قوم اپنے شہداء کو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کردار،دیانت، محنت اور قومی ذمہ داری کے احساس سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ اگر ہم اپنے روزمرہ معاملات میں ایمانداری،نظم و ضبط اور قانون کی پابندی کو فروغ دیں تو یہ شہداء کے مشن سے حقیقی وفاداری ہوگی۔

4 اگست ہمیں یہ عہد بھی دلاتا ہے کہ ہم شہداء کے خوابوں کا پاکستان بنانے کے لیے علم،اتحاد، محنت اور قانون کی پاسداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ہم نفرت،تشدد اور انتشار کے بجائے امن، برداشت، رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے۔ہماری نئی نسل کو بھی یہ شعور دینا ضروری ہے کہ آزادی،امن اور استحکام بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوتے ہیں،اس لیے ان کی حفاظت ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔نوجوانوں میں حب الوطنی، قومی یکجہتی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔شہداء کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت کی بہترین سہولیات، رہائش،روزگار اور دیگر بنیادی ضروریات کا مناسب انتظام حکومت اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔جو خاندان اپنے پیاروں کو وطن کی خاطر قربان کرتے ہیں، وہ ہماری خصوصی توجہ اور تعاون کے مستحق ہیں۔ان کی عزت، کفالت اور حوصلہ افزائی دراصل شہداء کی قربانیوں کا احترام ہے۔

آئیے، 4 اگست کے موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے،قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں گے، قانون کا احترام کریں گے اور ایک ایسا پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے جس پر ہمارے شہداء کو فخر ہوتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے