اپنوں کی داڑھیاں نوچنے کا ہنر

استاد ابن الحسن عباسی صاحب کو اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔ انہی کی نگرانی اور رہنمائی میں ادبی کتب کے باقاعدہ مطالعے کا آغاز کیا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے سید سلیمان ندویؒ کی شہرۂ آفاق کتاب "یادِ رفتگاں” عنایت فرمائی۔ کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، پھر استاد محترم کے ساتھ اس پر تفصیلی مکالمہ بھی ہوا۔ یوں ایک کتاب سے دوسری کتاب اور پھر تیسری کتاب کا سفر چل نکلا۔

کئی کتابوں کے مطالعے کے بعد ایک دن اسلامی بینکاری کے موضوع پر مرتب کی گئی ایک کتاب مجھے عطا کیا۔ میں نے کتاب دیکھی تو وہ متفقہ فتوی والی کتاب تھی۔

"استاد جی! یہ کتاب نہیں پڑھنی۔”
استاد محترم نے حیرت سے پوچھا: "کیوں؟”

عرض کیا "اس کے مطالعے کے بعد یا تو ذہن شیخ سلیم اللہ خان صاحب کے خلاف جائے گا یا مفتی تقی عثمانی صاحب کے خلاف۔ مجھےاس جھگڑے میں پڑنے کا کیا فائدہ؟”

استاد ابن الحسن عباسی صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ پھر مسکراتے ہوئے پوچھا: "اور کیا کیا نہیں پڑھتے؟”

عرض کیا "استاد جی! حیات و ممات کے لفڑوں میں نہیں پڑتا،یعنی ان موضوعات پر لکھی ہوئی مناظرانہ کتابیں نہیں پڑھتا۔ اسی طرح مودودیت اور دیوبندیت کے تقابلی مباحث پر لکھی ہوئی کتابوں سے بھی گریز کرتا ہوں۔” اور بہت سارے غیر مفید موضوعات ہیں جن کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

استاد محترم خوب ہنسے۔

اللہ تعالیٰ کا خاص کرم رہا کہ اس ابتدائی تربیت نے مجھے اب تک بہت سے موضوعات پر ہونے والی غیر ضروری جنگ و جدل سے محفوظ رکھا۔ اختلافی مباحث سے دامن بچانا ہرگز یہ معنی نہیں رکھتا کہ علمی اختلاف کی گنجائش نہیں، البتہ ہر اختلاف کو اپنی زندگی کا میدانِ جنگ بنا لینا بھی ضروری نہیں۔

میں مولانا اللہ وسایا صاحب کو ذاتی طور پر نہیں جانتا، البتہ اتنا ضرور معلوم ہے کہ ختم نبوت کے میدان میں ان کی تبلیغی اور تالیفی خدمات بہت ہیں۔ آج کل یار لوگوں نے انہیں بھی "ناصبیت” کی نوک پر رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے کچھ عرض کرنے کی گنجائش بھی نہیں، میرے جیسے عام لوگ پہلے سے طعن و تشنیع کی زد ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے، اور ہم سب کو شخصیات اور مسلکی اختلافات کی کشمکش سے زیادہ حق، علم، اخلاص اور حسن ظن کی راہ پر قائم رکھے۔ آمین۔

ہم وہ نسل ہیں جو اپنے ہی لوگوں، بالخصوص اپنے بڑوں اور اکابر کی داڑھیاں نوچنے، ان کی عزت تار تار کرنے اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانے میں بھی کبھی دیر نہیں لگاتے۔ میں نام لینا شروع کروں تو سب کو پسینہ آنا شروع ہوجائے کہ ہم نے کن کن عظیم لوگوں کی پگڑیاں اچھالی ہیں۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم یہ سب کچھ محض غصے، تعصب یا ذاتی و گروہی مفاد کے تحت نہیں کرتے، بلکہ بسا اوقات اسے دین کی خدمت، اسلام کی غیرت اور ثواب کا ذریعہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔

اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بڑوں کی حرمت پامال کرے اور پھر اسی عمل کو عبادت سمجھ کر مطمئن بھی ہو جائے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، احتساب اپنی جگہ، مگر جب اختلاف، احترام کو نگل جائے اور دین کے نام پر اکابر کی عزتیں پامال ہونے لگیں تو مسئلہ صرف افراد کا نہیں رہتا، پورے معاشرتی مزاج کا بن جاتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے