ہر وقت گرم توے پر بیٹھنا

میں آپ سب سے مخاطب ہوں، غرض سب انسانوں سے۔۔۔ ایک بات بتاؤ! کیا ہر وقت گرم توے پر بیٹھنا ضروری ہے؟ یار! زندگی بہت حسین ہے۔۔۔ کچھ ہنس بھی لیا کریں۔ کون سا لفڑا ہے جس پر تم نہیں الجھتے؟ مذہبی، سیاسی، علاقائی اور لسانی لفڑے کیا کم ہیں کہ سیاحت کو بھی لفڑوں […]

مخلوط ڈانس: چلاس بمقابلہ ہنزہ

ہنزہ میں ایک ہوٹل میں غیر ملکی سیاحوں کے مخلوط ڈانس کی ویڈیو کیا وائرل ہوئی، فیس بک پر ایسا معرکہ برپا ہوگیا جیسے گلگت بلتستان کا آخری تہذیبی ، مذہبی اور ثقافتی مسئلہ اسی ڈانس پر منحصر ہو۔ خبر آئی کہ ہوٹل سیل ہوگیا۔ تبصرے شروع ہوئے۔ کسی نے اسے تہذیب کا مسئلہ بنایا، […]

پڑی بنگلہ کا کربلا

جناب وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ صاحب اور جناب حافظ حفیظ الرحمن صاحب! آپ دونوں صاحبان کو بس اتنا بتانا ہے کہ گزشتہ بیس دن سے پڑی بنگلہ کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مائیں اور بہنیں پینے کے پانی کی ایک بالٹی کے لیے دو تین کلومیٹر کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔ […]

مذہبی طبقات کے لفڑے اور قوم کی ضرورتیں

مذہبی طبقات کے ساتھ کلی طور پر جڑنے والوں کے المیے بعض اوقات بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہبی اداروں، گروہوں، جماعتوں اور شخصیات نے اپنے قریب آنے والوں کو عجیب و غریب مخمصوں میں ڈال رکھا ہے۔ ان کے لڑنے، بھڑنے اور الجھنے کے موضوعات بھی عجیب ہیں۔ کبھی مقلد اور غیر مقلد کی […]

اپنوں کی داڑھیاں نوچنے کا ہنر

استاد ابن الحسن عباسی صاحب کو اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے۔ انہی کی نگرانی اور رہنمائی میں ادبی کتب کے باقاعدہ مطالعے کا آغاز کیا تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے سید سلیمان ندویؒ کی شہرۂ آفاق کتاب "یادِ رفتگاں” عنایت فرمائی۔ کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ کیا، پھر استاد محترم کے ساتھ اس پر تفصیلی […]

اسلامی معاشیات

میں سماجی علوم کا طالب علم ہوں، بنیادی طور پر معاشیات میرا موضوع نہیں لیکن علم سیاسیات، علم صحافت اور قرآن و حدیث کیساتھ علم معاشیات یا اسلامی اقتصادیات کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھنے اور بولنے کے لیے اسلامی معاشیات کی بنیادی کنسپٹ جاننا ضروری ہوتا ہے، اس کے […]

دیامر میں استاد اور شاگرد

یہ غالباً 2014ء کی بات ہے۔ میری ڈگری کالج چلاس میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے بزرگ پروفیسر جناب اشرف ملک صاحب کالج کے پرنسپل تھے۔ میں جوائننگ کے لیے چلاس پہنچا تو پروفیسر صاحب نے نہایت محبت اور خلوص سے استقبال کیا، اکرام کیا اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ چونکہ مجھے اسی روز واپس […]

جب جامعات پہاڑوں تک پہنچیں

یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے نامور اور کامیاب تعلیمی ادارے مختلف ممالک اور اپنے ملک کے مختلف علاقوں میں اپنے کیمپس اوپن کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے مختلف مقاصد کارفرما ہوتے ہیں، کہیں معیاری تعلیم کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا مقصود ہوتا ہے، کہیں اپنے علمی و فکری نظام کو […]

پیداواری عصبیت اور ڈاکٹر عادل خان شہید کا رویہ

گلگت بلتستان میں پاکستان کے بڑے دینی مدارس کے ہزاروں فضلاء موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ جامعہ فاروقیہ کراچی اور جامعہ دارالعلوم کراچی کے فضلاء ہیں۔ آج کل اسلام آباد کے مدارس سے بھی بڑی تعداد میں درس نظامی کی تکمیل کرکے فضلاء جی بی تشریف لاتے ہیں۔ یہ فضلاء اپنے اپنے اساتذہ […]

درس نظامی کی تعلیم اور والدین کی ذمہ داری

آج میں ان والدین سے مخاطب ہوں جو اپنے بچوں کو دینی تعلیم (درس نظامی) دلوا رہے ہیں یا مستقبل میں دلوانا چاہتے ہیں۔ آپ اس کو آرٹ آف پیرنٹنگ ہی سمجھیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں، بالخصوص گلگت بلتستان میں، والدین اپنے بچوں کو حفظ قرآن اور درس نظامی کی آٹھ سالہ تعلیم بہترین انداز […]