لائبہ کا آخری میسج ۔۔۔
کبھی کبھی انسان کو غربت نہیں مارتی۔۔۔ بلکہ غربت سے نکلنے کی امید،، کسی کے ہاتھوں لٹ جانے کا دکھ، اور اپنے خوابوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دفن ہوتے دیکھنا بھی مار دیتا ہے۔۔۔
لائبہ نے غربت کے اندھیروں میں تعلیم کا چراغ جلایا۔۔۔ کم وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔۔ اور اپنی محنت سے اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔۔
لیکن شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ جس معاشرے میں وہ اپنے علم سے اپنا مستقبل روشن کرنا چاہتی ہے، وہاں کچھ لوگ اس کے خوابوں کی روشنی بھی بیچ کھائیں گے۔۔۔
لائبہ کے پاس دولت نہیں تھی،، لیکن اس کے پاس ایک ایسا سرمایہ تھا جس کی قیمت دنیا کے کسی خزانے سے زیادہ تھی۔۔
اس کے پاس اس کے باپ کی محبت، ماں کی دعائیں، اور ایک بہتر مستقبل کی امید تھی۔۔
اس کا باپ موٹر سائیکل پر دودھ بیچتا تھا۔۔۔
سوچیے۔۔۔
صبح جب بہت سے لوگ اپنے نرم بستروں میں سو رہے ہوتے ہوں گے،، تب ایک باپ اپنی موٹر سائیکل پر دودھ لے کر نکلتا ہوگا۔ کبھی گرمی، کبھی سردی، کبھی بارش، کبھی تھکن۔۔۔ مگر اس کے قدم نہیں رکتے ہوں گے۔۔۔
کیوں؟
کیونکہ اسے صرف دودھ نہیں بیچنا تھا۔۔۔ اسے تو اپنی بیٹی کے خوابوں کی قیمت ادا کرنی تھی۔اسے اپنی لائبہ کو وہاں پہنچانا تھا جہاں شاید وہ خود کبھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔۔۔
وہ باپ جس کے اپنے ہاتھ محنت کرتے کرتے تھک جاتے تھے،،، اپنی بیٹی کے ہاتھوں میں کتابیں دیکھ کر تمام تھکن بھول جاتا ہوگا۔۔۔
اس کی اپنی زندگی چاہے تنگ دستی میں گزری، مگر اس نے بیٹی کی تعلیم میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔۔۔۔
اس نے شاید اپنے کئی شوق مار دیے ہوں گے،،، اپنی ضرورتیں مؤخر کر دی ہوں گی،،،کئی بار اپنی خواہشات کو یہ کہہ کر خاموش کیا ہوگا کہ، میری بیٹی پڑھ لے، بس میری بیٹی پڑھ لے۔۔۔ اس کی زندگی میری زندگی جیسی نہ ہو۔۔۔
اور پھر ایک دن لائبہ نے وہ کر دکھایا جس کا خواب اس کے باپ نے برسوں سے اپنی آنکھوں میں سجا رکھا تھا۔۔
لائبہ نے اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔۔
یہ صرف ایک میڈل نہیں تھا۔ یہ اس باپ کی محنت کا اعتراف تھا جو موٹر سائیکل پر دودھ بیچتا تھا۔۔۔ یہ اس ماں کی دعاؤں کا ثمر تھا جس نے شاید اپنی بیٹی کی
کامیابی کے لیے راتوں کو جاگ کر دعائیں مانگی ہوں گی۔۔ یہ اس گھر کی فتح تھی جہاں آسائشیں کم تھیں، مگر خواب دیکھنے کی ہمت بہت بڑی تھی۔۔
تصور کیجیے،،، اس دن اس باپ کا سینہ کتنا فخر سے چوڑا ہوا ہوگا۔۔۔۔
اس نے شاید اپنے جاننے والوں کو بتایا ہوگا،
میری بیٹی نے گولڈ میڈل لیا ہے۔۔۔
وہ باپ جو اپنی محنت کی کمائی گنتا ہوگا،، اس دن اپنی بیٹی کی کامیابی گنتے ہوئے نہ تھکتا ہوگا، نہ رکتا ہوگا۔۔۔
اور لائبہ؟
اس کی آنکھوں میں ایک نیا خواب تھا۔۔۔
وہ مزید پڑھنا چاہتی تھی۔۔ اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہتی تھی۔ اپنی محنت سے ایک ایسی منزل حاصل کرنا چاہتی تھی جہاں سے واپس آ کر اپنے والدین کی زندگی آسان بنا سکے۔۔۔۔
شاید اس نے سوچا ہوگا کہ ایک دن وہ اپنے باپ سے کہے گی،،،
ابو،، اب آپ کو موٹر سائیکل پر دودھ بیچنے کی ضرورت نہیں۔ اب آپ آرام کریں۔ اب میری باری ہے آپ کا سہارا بننے کی۔۔۔
شاید اس نے اپنی ماں کے لیے بہتر گھر کا خواب دیکھا ہوگا۔۔۔ شاید اس نے سوچا ہوگا کہ ایک دن اپنے والدین کو ان تمام محرومیوں سے نکال لے گی جن کے درمیان انہوں نے اس کی پرورش کی۔۔۔
لیکن خوابوں کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے اسے ایک ایسے دروازے پر دستک دینی پڑی جس کے پیچھے ایک مبینہ فراڈ کرنے والا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
ایک کنسلٹنٹ نے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر پچاس لاکھ روپے مانگے۔۔۔
پچاس لاکھ روپے۔۔۔۔
یہ رقم ان لوگوں کے لیے شاید محض ایک عدد ہو جو دولت کے انبار رکھتے ہیں۔۔۔
لیکن اس باپ کے لیے؟
جس کی زندگی موٹر سائیکل پر دودھ بیچتے ہوئے گزر رہی تھی؟
جس کے لیے ہر دن کی کمائی میں اپنی ضرورت اور بیٹی کے مستقبل کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا تھا؟؟؟؟
پچاس لاکھ روپے صرف رقم نہیں تھی،، یہ اس کی پوری زندگی کی محنت، اس کی جمع پونجی، اس کی بڑھاپے کی امید اور اس کی بیٹی کے مستقبل کا سوال تھا۔۔۔
مگر جب بات بیٹی کے خواب کی ہو، تو غریب باپ حساب نہیں کرتا۔۔۔
وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ میری اولاد کا مستقبل بن جائے۔۔۔
بتایا گیا ہے کہ لائبہ کے والد نے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی سے خریدا ہوا پلاٹ بھی بیچ دیا۔۔
وہ پلاٹ جسے شاید اس نے زندگی بھر کی محنت کے بعد خریدا ہوگا۔۔ جسے دیکھ کر سوچا ہوگا کہ بڑھاپے میں اس کے کام آئے گا۔ جسے اپنی محنت کی ایک چھوٹی سی نشانی سمجھ کر سنبھال کر رکھا ہوگا۔۔
لیکن جب بیٹی کے خواب اور اپنی ملکیت میں سے ایک چیز چننے کا وقت آیا،،، تو اس نے اپنی ملکیت قربان کر دی۔۔
اور رقم پھر بھی پوری نہ ہوئی۔
تو ماں نے اپنے زیورات بیچ دیے۔
وہ زیورات جو شاید اس نے برسوں سنبھال کر رکھے تھے۔۔ جن کے ساتھ اس کی زندگی کی کئی یادیں جڑی ہوں گی۔ جنہیں وہ کسی خاص دن،، کسی خوشی یا کسی مشکل وقت کے لیے محفوظ رکھتی ہوگی۔۔۔۔۔
مگر اس دن ماں نے اپنے زیورات نہیں دیکھے ہوں گے۔
اس نے اپنی بیٹی کا مستقبل دیکھا ہوگا۔۔۔۔
باپ نے پلاٹ بیچ دیا،،، ماں نے زیور بیچ دیے، اور گھر کے دو سب سے قیمتی انسانوں نے اپنی اپنی زندگی کی کمائی ایک خواب کے نام کر دی۔۔۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے جس دروازے کی قیمت ادا کر رہے ہیں، اس دروازے کے پیچھے شاید منزل نہیں، ایک خوف ناک دھوکا چھپا بیٹھا ہے۔۔۔۔
جب لائبہ نے امریکی یونیورسٹی سے متعلق دستاویزات کی جانچ کروائی، تو مبینہ طور پر وہ سب جعلی نکلیں۔۔۔۔
وہ کاغذات جنہیں دیکھ کر اس نے امریکہ کی یونیورسٹی میں اپنی جگہ کا تصور کیا ہوگا۔۔
وہ دستاویزات جنہیں اس نے اپنے خواب کی پہلی سیڑھی سمجھا ہوگا۔۔۔ وہ وعدے جن پر اس کے والدین نے اپنی عمر بھر کی کمائی داؤ پر لگا دی ہوگی۔۔
سب کچھ ایک لمحے میں بکھر گیا۔
سوچیے،،، اس وقت لائبہ پر کیا گزری ہوگی؟؟؟؟
ایک طرف اس کی برسوں کی محنت تھی، اس کا گولڈ میڈل تھا، اس کی قابلیت تھی، اس کے روشن مستقبل کی امید تھی۔.
اور دوسری طرف اس کے والد کی وہ موٹر سائیکل تھی، جس پر وہ دودھ بیچ کر اس کے خواب خریدنے نکلا تھا۔.
اس کی ماں کے وہ خالی ہاتھ تھے، جن سے زیورات اتر چکے تھے۔ اس گھر کا وہ فروخت ہو چکا پلاٹ تھا، جسے شاید خاندان کا محفوظ مستقبل سمجھا جاتا تھا۔۔
اور ان سب کے درمیان کھڑی لائبہ تھی۔۔۔
کس سے کہے کہ میرے گولڈ میڈل کی تو کوئی قیمت نہیں تھی، لیکن میرے باپ کی زندگی بھر کی کمائی کی قیمت کس نے وصول کی؟؟؟
کس سے پوچھے کہ میری قابلیت کا راستہ دکھانے کے نام پر میرے والدین کی غربت کو کیوں لوٹا گیا؟؟؟؟؟
اور سب سے بڑا سوال۔۔۔
میں اپنے باپ کو کیا بتاؤں؟
اس باپ کو جس نے اس پر یقین کیا تھا۔۔۔
اس ماں کو جس نے اپنے زیورات اس کی خوشیوں کے لیے بیچ دیے تھے۔۔
ان دونوں کو کیسے بتائے کہ جس منزل کے لیے آپ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا،،، وہاں تک پہنچانے کے وعدے کرنے والوں نے ہمیں دھوکا دیا؟؟
شاید لائبہ کو جعلی دستاویزات سے زیادہ اپنے والد کے ٹوٹنے کا خوف تھا۔۔۔
کیونکہ اولاد اپنے دکھ سہہ لیتی ہے، مگر جب اسے محسوس ہو کہ اس کے دکھ سے اس کے والدین ٹوٹ جائیں گے،،، تو اس کا اپنا درد کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔۔
اور پھر اس جملے نے تو میرا دل چیر کر رکھ دیا ۔۔۔
"ابو کو اس فراڈ کا نہ بتانا، وہ مر جائیں گے۔”
لائبہ خود کس کرب سے گزر رہی ہوگی،،، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔۔اس کے اپنے خواب ٹوٹ چکے تھے۔ اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ چکا تھا۔۔
اس کے والدین کی قربانیاں اس کی آنکھوں کے سامنے تھیں۔۔۔
لیکن اسکے آخری میسج میں بھی اسے اپنی فکر نہیں تھی۔۔۔ اسے فکر تھی تو اپنے باپ کی۔۔
وہ باپ جس نے شاید اس کے امریکہ پہنچنے کے بعد کی خوشیوں کے خواب دیکھے ہوں گے۔۔۔وہ باپ جس کے لیے بیٹی کی کامیابی اپنی تمام محرومیوں کا جواب تھی۔
لائبہ شاید یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا باپ یہ جان کر ٹوٹ جائے کہ جس خواب کے لیے اس نے اپنا سب کچھ بیچ دیا،، وہ خواب کسی کے دھوکے کی نذر ہو گیا۔
وہ اپنے باپ کو اس حقیقت سے بچانا چاہتی تھی جس نے خود اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔۔۔
سوچیے، ایک بیٹی اپنے باپ کی زندگی بھر کی کمائی کو لٹتے دیکھنے کا دکھ سہہ رہی ہو، لیکن پھر بھی اپنے باپ کو بچانے کی فکر کر رہی ہو،، وہ کتنی بے بس ہو گی۔۔۔۔
عقیل عباس ایک شعر ہے کہ ،
خدا کو خط لکھوں گا خودکشی کا
کیوں گا میں ریزائن کر رہا ہوں۔۔