میں آپ سب سے مخاطب ہوں، غرض سب انسانوں سے۔۔۔
ایک بات بتاؤ!
کیا ہر وقت گرم توے پر بیٹھنا ضروری ہے؟
یار!
زندگی بہت حسین ہے۔۔۔ کچھ ہنس بھی لیا کریں۔
کون سا لفڑا ہے جس پر تم نہیں الجھتے؟ مذہبی، سیاسی، علاقائی اور لسانی لفڑے کیا کم ہیں کہ سیاحت کو بھی لفڑوں کی نظر کر رہے ہو؟
ہر طرف بحث، ہر طرف مناظرانہ مزاج، ہر طرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ۔۔۔ جیسے دنیا کا واحد مقصد یہی رہ گیا ہو کہ کون کس کو زیادہ غلط ثابت کرسکتا ہے۔
واللہ!
اللہ نے یہ دنیا اتنے گند کے لیے نہیں بنایا۔
خدارا!
کبھی آسمان کی طرف بھی دیکھ لیا کرو،آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ چاند بھی نکلتا ہے، ہاں کبھی پہاڑوں کی خاموشی سن لیا کرو، کبھی دریا کے بہتے پانی سے پوچھ لیا کرو کہ زندگی کیا ہوتی ہے۔
یارو! ہر وقت گرم توے پر پاؤں رکھ کر اچھلنے اور پھدکنے کا کیا فائدہ؟
ہماری بدقسمتی دیکھیے کہ ہمارے لیے فیس بک نعمت نہیں ہوا، نفرتوں کی آماجگاہ بن گیا۔
ہر خبر ایک جنگ، ہر تصویر ایک محاذ، ہر ویڈیو ایک نفرت، ہر اختلاف ایک دشمنی اور ہر تبصرہ ایک فتویٰ!
یارا! سچ بتاؤ! یہ کیا ہورہا ہے؟
دماغ خراب ہو تو علاج کرانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ نظر کمزور ہو تو عینک سے لے کر آپریشن تک کروا لیتے ہیں۔ حسین چہرے پر گلٹی ہو تو گال ہی کٹوا دیتے ہیں، مگر دماغ جیسی اہم چیز خراب ہوجائے تو نہ علاج کرواتے ہیں، نہ کسی سے شیئر کرتے ہیں۔۔۔ بس صرف بک بک کرتے رہتے ہیں۔
اور ہاں دل!
جب دل جیسا ہمارے جسم کا ایک اہم ٹکڑا فاسد ہونا شروع ہوجائے تو سارا جسم فساد برپا کرتا ہے۔ اس کی اصلاح ضروری ہے۔ دل کی صفائی ضروری ہے، نظر کی درستی ضروری ہے، سوچ کی تطہیر ضروری ہے۔
ظالمو!
کبھی تو خدا کی تخلیق کردہ کائنات اس کی نظر سے دیکھ لو۔۔۔ کیوں اپنی غلیظ نظروں سے دیکھ کر اس کو مزید غلاظت سے بھر دیتے ہو؟
یہ یہ کالے کالے پہاڑ دیکھو، یہ بہتے دریا دیکھو، آپ کے ہاں تو جھرنے اور آبشار بھی بہت ہیں اور یہ درخت دیکھو، یہ پھول دیکھو، یہ مسکراتے ہوئے چہرے دیکھو۔۔۔ زندگی میں صرف وہ چیزیں نہیں ہوتیں جن پر جھگڑا کیا جائے، گالیاں دی جائیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھایا جائے۔
یارو! کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جنہیں صرف دیکھا، محسوس کیا اور مسکرا کر گزر جایا جاتا ہے۔
ہنس لیا کریں، ہنسایا کریں۔
ایک بات بتاتا ہوں، مجھے جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں، مشکل ترین وقت میں بھی خوب ہنستا اور اپنے احباب و سامعین کو بھی ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیتا ہوں۔ اور اگلا بندہ کوئی چٹکلا چھوڑ دے یا گفتگو میں مزاح پیدا کرے تو جی بھر کر نہ صرف ہنستا بلکہ قہقہے بھی لگاتا!
آپ کا کیا خیال ہے، میں مشکلات، الجھنوں اور رکاوٹوں کا سامنا نہیں کررہا؟
نہیں یارا۔۔۔!
ان سب چیزوں کی موجودگی میں ہنستا اور ہنساتا ہوں۔ زندگی میں مشکلات نہ ہوں تو شاید قہقہے کی اصل قیمت بھی معلوم نہ ہو۔ آدمی اگر ہر مسئلے کو ماتم بنا لے تو زندگی کہاں بچے گی؟
آپ کو معلوم ہونا چاہیے! دو بیویوں کا شوہر گرم تندور میں ہوتا ہے ہمیشہ، مگر وہیں سے قہقہہ لگاتا ہوں۔
یہ الگ بات ہے کہ کبھی قہقہہ اندر سے نکلتا ہے اور کبھی حالات کے خوف سے باہر ہی نہیں آتا!
تو آپ بھی قہقہے لگانا سیکھو۔۔۔ اور دنیا کو بھی بس جینے دو، اپنے طریقے سے، اپنی ترتیب سے۔
ہر شخص تمہاری مرضی کے مطابق نہیں جئے گا۔ ہر عورت تمہاری پسند کی طرح نہیں چلے گی۔ ہر مرد تمہارے نظریے کا پیروکار نہیں ہوگا۔ ہر علاقے کا آدمی تمہارے مزاج کا نہیں ہوگا۔ ہر مسلک، ہر زبان، ہر سیاسی جماعت اور ہر خاندان تمہارے بنائے ہوئے سانچے میں نہیں ڈھلے گا۔ اور ڈھلے بھی کیوں ؟ تم کیا اس کے خدا ہو؟
اور ایک بات:
"ہونا وہی ہے جو منظورِ خدا ہے۔”
تو پھر تم کیوں خدا کی منظوری پر انسانیت کی زندگی پراگندہ کررہے ہو؟
ذرا سا اختلاف ہوا، تو غصہ۔۔۔
ذرا سا فرق دیکھا، تو نفرت۔۔۔
ذرا سی آزادی دیکھی، تو اعتراض۔۔۔
ذرا سی خوشی دیکھی، تو حسد۔۔۔
اور ذرا سا سکون دیکھا، تو اسے بھی کسی لفڑے میں تبدیل کرنے کی کوشش!
یار، چھوڑو بھی!
کبھی دوسروں کی زندگی کو خدا کے سپرد کرکے اپنی زندگی بھی جیو۔
ہر معاملے کے منصف بننے کی ضرورت نہیں۔ ہر تصویر کے نیچے فیصلہ لکھنا ضروری نہیں۔ ہر شخص کو نصیحت کرنا فرض نہیں۔ ہر اختلاف کو جنگ بنانا عقل مندی نہیں۔
تمہیں معلوم ہونا چاہیے
زندگی بہت مختصر ہے۔
گرم توے سے ذرا نیچے اترو۔۔۔
پاؤں ٹھنڈے کرو، دل ٹھنڈا کرو، دماغ ٹھنڈا کرو۔۔۔ پھر دیکھو، یہی دنیا کتنی حسین ہے!
اور ہاں۔۔۔
قہقہہ لگانا مت بھولنا۔