ہنزہ میں ایک ہوٹل میں غیر ملکی سیاحوں کے مخلوط ڈانس کی ویڈیو کیا وائرل ہوئی، فیس بک پر ایسا معرکہ برپا ہوگیا جیسے گلگت بلتستان کا آخری تہذیبی ، مذہبی اور ثقافتی مسئلہ اسی ڈانس پر منحصر ہو۔
خبر آئی کہ ہوٹل سیل ہوگیا۔ تبصرے شروع ہوئے۔ کسی نے اسے تہذیب کا مسئلہ بنایا، کسی نے سیاحت کا، کسی نے مذہب کا اور کسی نے فوراً چلاس کی پرانی فائل نکال لی۔
یار لوگوں نے چلاس کی بھی ایک ڈانس ویڈیو تلاش کر نکالی، جو پانچ چھ سال پہلے کی ہے۔ ویڈیو میں غیر ملکی سیاح خواتین مردوں کے درمیان چلاسی دھن پر خوب چہرے مہرے مٹکا رہی ہیں، اور تماشائی حضرات بھی تالیاں بجا بجا کر اس بین الاقوامی ثقافتی تبادلے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
اب فیس بک پر باقاعدہ چلاس بمقابلہ ہنزہ شروع ہے۔
ایک طرف ہنزہ کے وکیل، دوسری طرف چلاس کے وکیل۔
ایک طرف "یہ کیا ہوگیا؟”
دوسری طرف "یہ تو ہم پانچ سال پہلے کرچکے ہیں!”
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ڈانس نہیں بلکہ کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ پہلے کس ضلع نے مکمل کیا تھا، اس پر بحث ہورہی ہے۔
میرے نزدیک اس معاملے میں دو باتیں بڑی اہم ہیں۔
پہلی بات
اگر ہنزہ میں آج وہ کام ہوا ہے جو چلاس میں پانچ چھ سال پہلے ہوچکا تھا تو پھر کم از کم مخلوط ڈانس کے شعبے میں چلاس کو قدامت پسند کہنا ناانصافی ہوگی۔ ہر وقت ہم سے یہ طعنے برداشت نہیں ہوسکتے!
بھائی! جس کام کی خبر ہنزہ میں آج آرہی ہے، چلاس والے اس کا عملی مظاہرہ برسوں پہلے کرچکے ہیں۔
اس حساب سے چلاس، ہنزہ سے ڈانس ٹیکنالوجی میں کم از کم پانچ چھ سال آگے ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ چلاس والے ترقی کے اشتہار نہیں لگاتے۔ انہوں نے شاید
"ہم پہلے ہی کرچکے ہیں”
کا بورڈ بھی نہیں لگایا تھا، ورنہ آج معاملہ صرف فیس بک پوسٹ تک محدود نہ رہتا، باقاعدہ سیمینار ہورہا ہوتا جس کا عنوان
"چلاس: ثقافتی جدت پسندی کا علمبردار، ایک مطالعاتی جائزہ”
اور مقررین میں ہم بھی بیٹھے ہوتے! یعنی ایز اے کی گیسٹ اسپیکر،
لہٰذا چلاسیوں پر ہر وقت قدامت پسندی کا لیبل چسپاں کرنا مناسب نہیں۔ ممکن ہے وہ بعض معاملات میں واقعی قدامت پسند ہوں، مگر مخلوط ڈانس کے معاملے میں ان کا تجربہ ہنزہ سے خاصا پرانا نکل آیا ہے۔
دوسری اہم بات
یار لوگ بڑا دلچسپ سوال اٹھا رہے ہیں
"جو چیز چلاس میں حلال ہے، وہ ہنزہ میں حرام کیسے ہوگئی؟”
ارے بابا!
ذرا ٹھہریے۔
فیس بک پر فتویٰ دینے سے پہلے فقہ کا ایک بنیادی اصول سمجھ لیجیے۔
چلاس چونکہ ایک اسلامی علاقہ ہے، اور جن غیر ملکی سیاح خواتین کی مخلوط ڈانس کا ذکر ہورہا ہے وہ بظاہر غیر مسلم ہونگی، تو بعض لوگ یہ استدلال پیش کررہے ہیں کہ غیر مسلم سیاحوں کے لیے مسلم علاقوں میں بعض معاملات میں الگ احکام اور رعایتیں ہوتی ہیں، لہٰذا اس واقعے کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔ اب اس تناظر میں دیکھنے کے بعد یقیناً چلاس والا ڈانس ” حلال” کہلائے گا۔
امید ہے ہنزہ والے دوستو کو کافی و شافی جواب مل گیا ہوگا کہ چلاس میں "حلال” کیوں ہے؟
اور رہی بات چلاس اور ہنزہ کی، تو خدا کے لیے اسے آپس کی لڑائی نہ بنائیں۔
ہنزہ خوبصورت ہے، چلاس بھی خوبصورت ہے۔
ہنزہ کے پہاڑ اپنی جگہ، چلاس کے پہاڑ اپنی جگہ۔
ہنزہ کے سیاح اپنی جگہ، چلاس کے مہمان نواز لوگ اپنی جگہ۔
اب اگر فیس بک والے دونوں کو ڈانس کی بنیاد پر لڑاتے رہے تو بعید نہیں کل کوئی تیسرا ضلع میدان میں آکر کہے
"جناب!
آپ دونوں سے پہلے ہمارے ہاں بھی ایک شادی میں اسے بھی اعلیٰ مخلوط ڈانس ہوا تھا، لہٰذا اصل چیمپئن ہم ہیں!”
پھر گلگت بلتستان میں باقاعدہ ڈانس چیمپئن شپ کرانا پڑے گی۔
چلاس کا دعویٰ
ہم پانچ سال پہلے کرچکے ہیں۔
ہنزہ کا جواب
ہم نے ہوٹل میں کیا تھا۔
چلاس والے کہیں گے
ہم نے بھی سیاحوں کے ساتھ ہوٹل میں کیا تھا۔
پھر کوئی نگر والا کھڑا ہوکر کہے گا
آپ دونوں خاموش رہیں، اصل ثقافتی ورثہ ہمارے پاس ہے۔
اور یوں ایک معمولی ویڈیو سے گلگت بلتستان کی نئی ثقافتی تقسیم وجود میں آجائے گی
چلاس بلاک بمقابلہ ہنزہ و نگر بلاک!
ویسے آج چلاس کے ایک دوست نے ہماری شاندار دعوت کی ہے۔ خوب کھا پی کر ویلا بیٹھا تھا کہ دل نے کہا
جس چلاسی دوست نے آج اتنی محبت سے کھانا کھلایا ہے، اس کے حق میں دو چار سطریں تو بنتی ہیں۔
سو یہ تحریر لکھ دی۔
اب اگر کوئی پوچھے کہ چلاس اور ہنزہ کی ڈانس ویڈیو آج کیوں یاد آگئی تو جواب بہت سادہ ہے
پیٹ بھر جائے تو آدمی کو دنیا کے بڑے بڑے مسائل حل ہوتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اور اگر کھانا چلاسی دوست کا ہو تو پھر قلم بھی چلاسی ہوجاتا ہے!
باقی ہنزہ والے ناراض نہ ہوں، یہ ڈانس کا مقابلہ ہے، رشتہ داری کا نہیں۔
چلاس اپنی جگہ، ہنزہ اپنی جگہ،
اور فیس بک اپنی جگہ
جہاں ہر ویڈیو کے ساتھ ایک مفت منصف، دو مفت مفتی اور چار مفت تجزیہ کار ضرور پیدا ہوجاتے ہیں!
سو ہمیں بھی انہیں میں ایک سمجھیں، یعنی مصنف و مفتی و تجزیہ کار…. تمام صفتیں شکم پروی کے بعد ہمیں حاصل ہوئی ہیں۔