منظور پشتین کا لاہورمیں جلسہ:جومیں نے دیکھا

لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں جانے کے لیے مجھے مال روڈ سے گوگل میپ کی مدد لینی پڑی ۔ گوگل میپ کی ہدایات پر عمل میں چھوٹی سی کوتاہی کی وجہ سے ذرا دیر بھی ہوئی ۔ جب ہم موچی گیٹ کے قریب پہنچے تو وہاں سڑک پر کچھ کنٹینرز دکھائی دیے ۔ پانچ سات پختون نوجوانوں کے جھرمٹ میں لمبے سیاہ بالوں اور بھاری مونچھوں والے علی وزیر جلسہ گاہ کی جانب بڑھتے نظر آئے۔ سلام دعا کے بعد میں بھی ان کے ساتھ ہی موچی باغ کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوا ۔ میرے کندھے کے ساتھ چھوٹا سا بیگ ٹنگا دیکھ کر پشتون تحفظ موومنٹ کے سیکیورٹی پر مامور رضاکارنے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا :اس میں کیاہے؟ میں نے بتایاکہ موبائل وغیرہ ہیں،اس نے قدرے کرخت لہجے میں مجھے بیگ کھولنے کو کہا ، بیگ چیک کرانے کے بعد جلدی سے جلسہ گاہ میں داخل ہو گیا ۔ علی وزیر مرکزی دروازے سے اندر کی جانب بنے چبوترے پر لوگوں سے مل رہے تھے تو اسٹیج سے اُن کی آمد کا اعلان ہوا، اس کے بعد گراؤنڈ میں موجود مجمع اُٹھ کر کھڑا ہوگیا اور علی وزیر اُن کے نعروں کی گونج میں مجمع کے درمیان سے ہوتے ہوئے اسٹیج پر پہنچے۔میں بھی کسی طرح کانٹے دار تار عبور کر کے اسٹیج کے قریب پہنچ گیا۔پشتون تحفظ موومنٹ کی عصمت شاہ جہاں اور دیگر کئی زعماء جلسہ گاہ میں پہنچ چکے تھے لیکن اس وقت تک گراؤنڈ کے پچھلے حصے میں کافی جگہ خالی تھی۔

علی وزیر نعروں کی گونج میں مجمع کے درمیان سے ہوتے ہوئے اسٹیج پر پہنچے

بینرز پر لاپتا افراد کی تصاویر ، ایڈریس اور رہائی کی اپیلیں درج تھیں

یہ موچی دروازہ کے قریب واقع مشہور موچی باغ تھا، باغ کیا ہے، ایک وسیع گراؤنڈ ہے،جس کے تین اطراف تماشائیوں کے بیٹھنے کے لیے کنکریٹ کی زینہ نمانشستیں اور ایک جانب بڑا اونچا اور وسیع اسٹیج ہے ۔سوشل میڈیا پر شکایات تھیں کہ جلسے سے پچھلی رات اس گراؤنڈ میں سیوریج کا پانی چھوڑ ا گیا تھا، کچھ تصاویر بھی وائرل تھیں جن سے واضح تھا کہ جلسہ گاہ تالاب کا منظر پیش کر رہی ہے۔ تاہم دن بھر پشتون تحفظ موومنٹ کے نوجوانوں نے مٹی ڈال ڈال کر اسے خشک کر دیا تھا۔اسٹیج سے تقریباً پندرہ فٹ کے فاصلے پرحفاظتی باڑ(کانٹے دار تار) لگائی گئی تھی، لیکن وہ ایسی نہیں تھی جسے آسانی سے عبور نہ کیا جاسکتا ہو۔ اس کے پیچھے تین یا چار رو میں کرسیاں بچھی تھیں۔کرسیوں کے پیچھے چٹائیاں بچھائی گئی تھیں، لیکن یہ اہتمام صرف گراؤنڈ کے ایک تہائی یا اس سے بھی کم حصے پر تھا،اسٹیج سے مجمعے کی جانب دیکھیں تو بالکل قریب بائیں ہاتھ پر خواتین کے لیے کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ان کرسیوں کے پیچھے لگے دو کھمبوں پرایک سفید اور دوسرا سیاہ جھنڈا لہرا رہا تھا ، درمیان میں لال رنگ کا بڑا بینر تھا جس پر نقیب محسود اور منظور پشتین کی تصویروں کے علاوہ نمایاں طور پر یہ پشتو عبارت درج تھی :’’دا خنگہ آزادی دا‘‘(یہ کیسی آزادی ہے؟)

بینرز پر لاپتا افراد کی تصاویر ، ایڈریس اور رہائی کی اپیلیں درج تھیں

میڈیا کے لیے کوئی خصوصی اسٹیج نہیں تھا،واضح رہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا پاکستانی میڈیا میں غیر علانیہ بلیک آؤٹ چل رہا ہے،شاید اسی وجہ سے میڈیا کے لیے اسٹیج بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔اسٹیج کے سامنے دیوار پر کئی ایسے بینرز لگے تھے جن پر لاپتا افراد کی تصاویر ، ان کے ایڈریس اور ان کی رہائی کی اپیلیں درج تھیں ۔ اسٹیج کے اوپر کم از کم تیس کرسیاں رکھی گئی تھیں۔جلسہ گاہ کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ اس کا اہتمام انتہائی محدود فنڈ سے کیا گیا ہے۔

پولیس اہل کار بیزار تھے، سیکورٹی خدمات رضاکارانجام دے رہے تھے

ساڑھے چار بجے تک جلسہ گاہ کا دوتہائی حصہ بھر چکا تھا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اطراف میں تماشائیوں کے لیے بنی کنکریٹ کی نشستوں پر کھڑی تھی۔پشتومیوزک بج رہاتھاجس میں بار بار ’’دا خنگہ آزادی دا‘‘ کا جملہ سننے کو مل رہا تھا،لوگ نعرے لگا رہے تھے اور جھوم رہے تھے۔جوں ہی کوئی اہم لیڈر یا شخصیت مرکزی دروازے سے داخل ہوتی تو اسٹیج پر سے اسے خوش آمدید کہا جاتا،شرکاء نعروں کی گونج میں اس کا استقبال کرتے۔بائیں جانب خواتین کی نشستوں پر معروف قانون دان حنا جیلانی سمیت لاہور کی انسانی حقوق کی کارکن خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، معروف سماجی کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ ، طاہرہ حبیب جالب ، سلیمہ ہاشمی سمیت درجنوں نوجوان لڑکیاں بھی وہاں موجود تھیں۔لاہور کی بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے نوجوان بھی کافی سرگرم دکھائی دے رہیتھے۔مجمعے میں ہر طرف منظور پشتین کی تصویروں والے سرخ بینرز ، سفید اور کالے جھنڈے اور لاپتا افراد کی تصویروں پر مبنی کتبے دکھائی دیتے تھے ۔موسم مناسب تھا ، گرمی کا زیادہ احساس نہیں ہو رہا تھا،مرکزی گیٹ سے باہر کچھ پولیس اہلکار کھڑے دکھائی دیے لیکن وہ کچھ بیزار سے لگ رہے تھے،چند پولیس والے اسٹیج کے پیچھے بھی موجود تھے اورچند پولیس اہل کار اطراف کی عمارات پر کھڑے دکھائی دے رہے تھے۔مجموعی طور پر یہ تاثر ملتا تھا کہ مجمع بہت پرجوش ہے اور ہر کچھ دیر بعد کسی نئے قافلے کے مجمعے میں آ ملنے کی اسٹیج سے اطلاع ملتی تھی۔ بار باریہ بھی بتایا جارہا تھا کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں اس جلسے کے ساتھ کیے گئے یکجہتی مظاہروں کوپولیس اور انتظامیہ کی جانب سے سختی کا سامنا ہے ، جس پر شرکاء’’ شیم شیم‘‘ کی صدائیں بلندلر رہے تھے۔

پی ٹی ایم کا نغمہ ’’دا خنگہ آزادی دا‘‘ مجمعے کا جوش بڑھا رہا تھا

جب پشتون تحفظ موومنٹ کا مخصوص نغمہ بجنا شروع ہوا تو سارا مجمع ایک دم سے کھڑا ہو گیا، اسٹیج پر موجود افراد نے بھی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کیا اور نغمہ مکمل ہونے تک وہ کھڑے ہاتھ ہلاتے رہے۔ میوزک کے ساتھ لوگ رقص کر رہے تھے اور جھنڈے بھی لہرا رہے تھے۔اس کے بعد ایک نوجوان اسٹیج پر آیا اور اس نے پشتو لہجے میں اردو بولتے ہوئے نظامت شروع کی۔ اس نے مجمعے میں موجود نمایاں لوگوں کے نام لے کر انہیں اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔اسٹیج پر صرف وہی لوگ جا سکتے تھے جن کا نام اسٹیج سے پکارا جاتا تھا یا جسے وہاں کی سیکورٹی پر مامور رضاکار اجازت دیتے تھے۔ میڈیا کے کچھ لوگوں کو بھی جلسے کے دوران اسٹیج پر جانے کی اجازت ملی ۔تقاریر شروع ہوئیں توعصمت شاہ جہاں سمیت پشتون تحفظ موومنٹ کے کچھ افراد نے مختصر خطاب کیے ۔اس کے بعد لاہور کی شخصیات حنا جیلانی وغیرہ نے کافی سخت تقاریر کیں۔انہوں نے لاپتا افراد کے بارے میں گفتگو کی تو لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر ’’ یہ جو دہشت گردی ہے ، اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ کے نعرے لگانے لگے ،لاہور لیفٹ کے رہنما فاروق طارق نے کافی زوردار الفاظ میں پشتون تحفظ موومنٹ کو خوش آمدید کہا : انہوں نے کہا :”میں اصلی لاہوری ہوں جو کئی نسلوں سے یہاں آباد ہے، میں اپنے پشتون بھائیوں کی حمایت کرتا ہوں .مشہور مزاحمتی شاعر حبیب جالب مرحوم کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب کو اپنے والد کی مشہور نظم سنانے بلایا گیا تو انہوں نے اپنے والدہی کی طرز میں ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا ‘‘سنائی اور ان کے ساتھ گٹار ڈاکٹر تیموررحمان بجا رہے تھے۔ تیمور رحمان نے اس سے قبل تقریر بھی کی اور گٹار بجاتے ہوئے نغمہ بھی سنایا. جب طاہرہ جالب ’’ میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا ‘‘ پڑھتیں تو پورا مجمع ان کے ساتھ گنگنانے لگتا تھا، جس سے ایک بھاری گونج سی پیدا ہو رہی تھی۔

مزاحمتی شاعر حبیب جالب مرحوم کی بیٹی طاہرہ حبیب جالب کو اپنے والد کی مشہور نظم سنانے بلایا گیا

جب جلسہ گاہ’’نَر پشتون باتُور پشتون ، منظور پشتون منظور پشتون ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی

یہ کافی پرجوش لمحہ تھا ، جونہی اسٹیج سے منظور پشتین کی آمد کا اعلان ہوا تو یوں لگا کہ مجمعے میں بَرق کی لہر سی دوڑ گئی ہے ۔ڈی جے نے میوزک کی لَے اٹھائی اور لوگ شدید نعرے بازی کرنے لگے۔لوگ ’’نَر پشتون باتوُر پشتون، منظور پشتون منظور پشتون‘‘ (جوان مرد پشتون ، بہادر پشتون ، منظور پشتون )کے نعرے لگا رہے تھے۔ انہی نعروں کی گونج میں منظور کو نوجوانوں کی ایک ٹولی اپنے حصار کے لے کر اسٹیج تک لائی،جب منظور اسٹیج پر پہنچے تو کچھ دیر کھڑے ہو کر ہاتھ ہلاتے رہے اور شرکاء کے نعروں کا جواب دیتے رہے ،مجمع ان کے بیٹھنے تک کھڑا رہا۔منظور اسٹیج کے سامنے نیچے موجود شناسا چہروں کو اشاروں سے سلام بھی کرتے رہے ۔ جب وہ اپنی نشست پر بیٹھے تو تقاریر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

مقررین نے عسکری اداروں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی

کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی کے رہنما طاہر ہزارہ نے زوردار الفاظ میں اپنا دُکھ بیان کیا،وہ ریاست اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ہزارہ کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے میں مسلسل ناکامی پر بہت خفا دکھائی دیے،انہوں نے اپنی تقریر میں عسکری حکام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے کہا کہ پنجاب سے بہت سے شکوے ہیں لیکن دو شخصیات حبیب جالب اور عاصمہ جہانگیر کی وجہ سے ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔انہوں نے عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد ایک عوامی ورکرز پارٹی کشمیر کے رہنما نثار شاہ نے تقریر کر کے پشتون موومنٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں داخلے کے وقت بھی چیک پوسٹوں پر پشتونوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ، انہیں کہاجاتا ہے کہ تم پشتون ہو لہذا یہاں سے آگے نہیں جا سکتے۔

اس کے بعد فضل ایڈوکیٹ کو تقریر کی دعوت دی گئی ۔ فضل ایڈوکیٹ عسکری اداروں پر کڑی تنقید کے حوالے سے جانے جاتے ہیں،گہرے سیاہ بالوں کے ساتھ آنکھوں پر چشمے لگائے فضل محمود ایڈوکیٹ ایک نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ان کے بارے میں اسٹیج سے یہ بھی بتایا گیا کہ ان کا ایک بیٹا 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول سانحے میں جاں بحق ہوگیا تھا ۔ فضل ایڈوکیٹ کی تقریر شروع ہوئی تو مجمع زیادہ متوجہ نہیں تھا،اسی دوران ایک ثانیے کے لیے منظور پشتین مائیک پر آئے انہوں نے شرکاء کو فضل ایڈوکیٹ کی تقریر غور سے سننے کی ہدایت کی،اس کے بعد مجمع پر سکوت طاری ہوگیا۔

فضل ایڈوکیٹ عسکری اداروں پر کڑی تنقید کے حوالے سے جانے جاتے ہیں

فضل محمود ایڈوکیٹ نے فوج بالخصوص جنرل راحیل شریف اور موجودہ آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا،انہوں نے راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے بعد بیدیاں روڈ پر ملنے والی اراضی سے متعلق بھی سوال اٹھایا اورملازمت کے فوراًبعد سعودی عرب کے ایک فوجی اتحاد کی سر براہی کرنے پر بھی تنقید کی ،ایڈوکیٹ فضل نے کہا کہ اے پی ایس سانحے کی تحقیقات کے لیے کوئی جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس اسٹیبلشمنٹ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھا ۔انہوں نے بتایا کہ ’’میں حملے کے دوران 20 منٹ تک اپنے بچے سے رابطے میں تھا ۔ میں 20 منٹ تک زندہ سلامت تھا اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو وہ بچ سکتا تھا۔ انہوں نے چند دن قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ ہم ان چارہزار لوگوں کا حساب بھی لیں گے جو امریکہ کو فروخت کیے گئے ۔انہوں نے راحیل شریف اور آرمی چیف کا نام لے کر کہا کہ آپ ہمیں غدار کہتے ہو،ٓآپ خود غدار ہو،ہمیں کہتے ہو ’را‘ سے اور ’موساد‘ سے پیسے لیتے ہیں ، تم بتاؤ تم کس سے پیسے لیتے ہو‘‘۔

فضل ایڈوکیٹ کی تقریر کے دوران بار بار ’’یہ جو دہشت گردی ہے ، اس کے پیچھے وردی ہے ‘‘کے نعرے گونجتے رہے ۔فضل ایڈووکیٹ نے استیض سے بھی نعرے لگوائے. انہوں نے چیف جسٹس کو بابا رحمتے کہہ کر ان کے سوموٹو نوٹس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ۔پھر ایک نوجوان کی تقریرکے بعد پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کا نمبر آیا ۔محسن داوڑ کی تقریر مختصر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم لاہور میں اس لیے آئے ہیں کیونکہ ہمارے کچھ افسران بہت اونچی آواز سنتے ہیں ، انہیں وزیرستان سے ہمارے آواز سنائی نہیں دیتی‘‘

علی وزیر نے بھی طویل خطاب نہیں کیا لیکن جب تک وہ خطاب کرتے رہے ، مجمع برابرچارج دکھائی دیا ، انہوں نے باقی مقررین کی طرح آرمی پر سخت تنقید کی اور اسٹیج سے نعرے لگائے۔علی وزیرجن کے بارے میں اسٹیج سے بتایا گیا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد فوجی آپریشنوں میں مارے گئے ہیں،ان کی تقریر میں غریب عوام کی مسائل اور بالا دست اشرافیہ کے مفادات کا حوالہ ان کے بائیں بازوکے نظریات کی عکاسی کر رہا تھا۔ علی وزیر نے اوکاڑہ کے ان کسانوں سے بھی اظہار یکجہتی کیا جن کو ان بقول زمینوں پراپنا حق مانگنے کی پاداش میں قید وبند اور دباؤ کاسامنا ہے۔

علی وزیر نے اوکاڑہ کے ان کسانوں سے بھی اظہار یکجہتی کیا

قانون دان حنا جیلانی نے کہا کہ جبری طور پر لاپتا کیے گے افراد کی باحفاظت واپسی کافی نہیں بلکہ ہم یہ بھی جانتا چاہتے ہیں کہ وہ کون ہے جو ہمارے بچے بچیوں کویوں اٹھا کر غائب کر دیتا ہے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے پشتو میں تقریر کی اور اپنا دُکھ بیان کرتے ہوئے لاپتا افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر کئی سال سے لاپتا ہیں اور وہ مسلسل قانون کا دروازہ کھٹکٹھا رہی ہیں۔ آمنہ جنجوعہ نے لاہور اور پنجاب کا شکریہ ادا کیا ، ان کا کہنا تھا کہ
’’میں پشتون ہوں لیکن پنجاب کی بہو ہوں‘‘۔

بہت سے شرکاء کو وقت کی کمی کا عذر پیش کر کے تقریر کا موقع نہیں دیا گیا۔اسٹیج پر کچھ وقت کے لیے ایک دھان پان سے نوجوان لڑکی بھی نظرآئی ، جس نے قافیہ بند نعرے لگوائے ،جن میں ’’آزادی‘‘ کا لفظ بار بار آتا تھا ۔

مقررین میں سے دو تین کے علاوہ کسی نے بھی زیادہ وقت نہیں لیا،ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جلسہ کی انتظامیہ شام ڈھلنے سے قبل ہی جلسہ ختم کرنا چاہتی ہے۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ پختون خوا اور قبائلی علاقوں میں جلسے عموماً دن کی روشنی میں ہوتے ہیں جبکہ پنجاب اور سندھ وغیرہ کا کلچرذرامختلف ہے ۔ مغرب کا وقت قریب تھا ۔اسٹیج سیکریٹری نے منظور پشتین کو خطاب کی دعوت دی۔منظور پشتین جونہی اسٹیج پر آئے تو سب لوگ نعرے لگاتے ہوئے کھڑے ہو گئے، میں نے پیچھے مڑ کر مجمعے پر نگاہ ڈالی تو اندازہ ہوا کہ اب میدان میں کوئی جگہ خالی نہیں تھی،چاروں طرف بھی لوگ کھڑے تھے۔موبائل فونز کی روشنیاں جگنوؤں کی طرح چمک رہی تھیں۔نغمہ’’داخنگہ آزادی دا‘‘ جب تک بجتا رہا تو لوگ کھڑے رہے،منظور پشتین کے نام کے نعرے لگتے رہے ۔

’’ لاہور سے جو امید تھی وہ تو پوری نہ ہوئی لیکن پھر بھی شکریہ‘‘

منظور پشتین نے اردو تقریر شروع کی۔انہوں نے کہا:’’ لاہور سے جو امید تھی وہ تو پوری نہ ہوئی لیکن پھر بھی شکریہ‘‘۔وہ شاید اس سے زیادہ مجمع کی امید رکھتے تھے۔اس کے بعد منظور پشتین نے قبائلی علاقوں میں لاپتا کیے گئے افراد اور جیٹ طیاروں کی بمباری کی نتیجے میں مارے جانے والے خاندانوں کی درد بھری داستان سنائی ۔منظور نے تقریر کے دوران لوگ ’’دہشت گردی اور ودری‘‘ سے متعلق نعرے وقفوں وقفوں سے لگارہے تھے ۔

لال مسجد سانحے کے ذمہ دار(مشرف) کو بھی ملک میں لا کر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے

منظور پشتین نے اپنے خطاب میں ایک ٹُرتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا جو جبری طور پر لاپتاکیے گئے افراد کے بارے میں تحقیق کرے ، انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ وہ آرمی پبلک اسکول کے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے بھی انصاف کی جنگ لڑیں گے۔منظور پشتین نے سامنے مجمعے سے کسی آواز کی جانب توجہ دینے کے بعد کہا کہ لال مسجد سانحے کے ذمہ دار(مشرف) کو بھی ملک میں لا کر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔انہوں نے نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے ملزم سابق ایس ایس ملیر(کراچی)راؤ انوار کی گرفتاری کے بعد کی صورت حال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

’’ہم اس گندگی کو صاف کر رہے ہیں جو تم پھیلا رہے ہو‘‘

منظور پشتین کی تقریر کے دوران مغرب اذان شروع ہوئی تو وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے ۔منظور پشتین نے اپنی تقریر کے دوران ایک کاغذ بھی دکھایا جس پران کے بقول ایک گولی کی تصویر کے ساتھ لکھا تھا :’’ہم تمہیں دیکھ لیں گے‘‘، منظور پشتین کے مطابق نامعلوم افراد نے یہ دھمکی ان کے تحریکی ساتھی کو دی ہے ۔ اس پر ’’شیم شیم ‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ منظور پشتین نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دے کر اظہار آزادی رائے پر لگائی جانے والی قدغنوں پر شدید تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ قانون کی رو سے کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر اندر اسے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا :’’ہم غدار نہیں،آپ غدار ہو جنہوں نے آئین و قانون کی خلاف ورزی کی‘‘، انہوں نے شمالی وزیرستان کے دوبچوں کی کہانی بھی سنائی جن کا والد انہیں ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا لیکن منظور کے بقول آرمی کی بمباری کے نتیجے میں وہ جان سے چلے گئے۔منظور نے جب یہ جملہ کہا کہ اگلے دن ٹی وی پر خبر چلی:’’پاک آرمی نے اتنے دہشت گرد مار دیے‘‘ تو مجمع سے ایک بار پھر’’شیم شیم‘‘ کے نعرے لگنے لگے۔

منظور کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہمارے مطالبوں کی سچائی جاننا چاہتا ہے تو ہمارے دیہاتوں میں جائے اور لوگوں سے پوچھ لے

”آپ نے چار ہزار پاکستانی کتنے میں بیچے ہیں ؟ ”

منظور کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ہمارے مطالبات کی سچائی جاننا چاہتا ہے تو ہمارے دیہاتوں میں جائے اور لوگوں سے پوچھ لے۔ہم آپ کو جگہ ، تاریخ اور مقام سب بتائیں گے، انہوں نے کہا کہ جب پختون امن کی بات کرتے ہیں تومار دیے جاتے ہیں ، ان کے جرگے کے زعما قتل کر دیے گئے اور ان کی جگہ جعلی مشران بنائے گئے ۔ منظور نے سوال پوچھاکہ :’’آپ نے چار ہزار پاکستانی کتنے میں بیچے ہیں ؟  ہم چندہ کر کے انہیں واپس لائیں گے‘‘ خیال رہے کہ رواں ماہ کی 15 تاریخ کو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سامنے  لاپتا افراد کے لیے بنائے گئے کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے انکشاف کیا تھا کہ سابق فوجی آمر جنرل مشرف نے امریکا کو کم سے کم چار ہزار پاکستانی شہری ڈالروں کے عوض فروخت کیے۔ منظور پشتین نے جلسہ گاہ میں سیوریج کا پانی ڈالنے کے واقعے پر طنز کرتے ہوئے کہا ’’ جو گند تم نے پھیلایا تھا ہمارے نوجوانوں نے اسے صاف کر دیا ہے ، ہم اس گندگی کو صاف کر رہے ہیں جو تم پھیلا رہے ہو‘‘۔

منظور پشتین نے فوج کی مخالفت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم فوج کے ان اعلیٰ عہدے داروں پر تنقید کرتے ہیں جنہوں نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے ،وہ فوجی آمر جنہوں نے آئین کو پامال کیا وہی حقیقی غدار ہیں اور انہیں ان کے جرائم کی سزا ملنی چاہیے۔ پھر انہوں نے29مئی کو سوات ، اور12 مئی کو کراچی میں جلسوں کا اعلان کیا۔تقریر ختم کرنے سے قبل منظور پشتین نے پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف بنائے گئے مقدمات خارج کرنے اور یونیورسٹی سے برطرف کیے گئے استاد ڈاکٹر عمار علی جان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔جلسے کے لیے تعاون کرنے والی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔منظور پشتین جب اپنی تقریر مکمل کرنے لگے تھے تو شرکاء نے ان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ پشتو میں بھی بات کریں۔انہوں نے ایک شعر پڑھا اور پھر پشتو میں کچھ دیر خطاب کیا۔اس دوران مجمع بہت پرجوش دکھائی دیا۔منظور پشتین نے میڈیا پر بھی تنقید کی اور شکوہ کیا کہ ان کا موقف نہیں دکھایا جا رہا۔

منظور پشتین نے پنجاب یونیورسٹی  سے برطرف کیے گئے استاد ڈاکٹر عمار علی جان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا

اب آہستہ آہستہ اندھیرا چھارہا تھا ۔ منظور نے نوجوانوں کی سیلفیوں کی فرمائش پوری کرنے کے بعد اسٹیج ہی پر ایک جانب نماز مغرب ادا کی ۔

جلسے میں کون لوگ شریک تھے ؟

لاہور میں منعقدہ اس جلسے میں میرے اندازے کے مطابق 70سے80 فی صد لوگ پشتون تھے جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں اور شہروں سے بھی لوگ اس جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔لاہور کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی اس جلسے میں موجود تھے۔خاص طور پر اسٹیج کے سامنے قافیہ بند قسم کے نعرے لگانے والے نوجوان (لڑکیاں اور لڑکے) لاہور کی مختلف درس گاہوں کے طلبہ تھے۔ پیپلز پارٹی کے مارکسٹ نظریات رکھنے والے کئی افراد سے میری اس جلسے میں ملاقات ہوئی۔یہ لوگ پارٹی پالیسی کے برعکس اپنی ذاتی حیثیت میں اس جلسے میں شریک تھے۔بہت کم تعداد میں ہزارہ کمیونٹی کے لوگ بھی دکھائی دیے۔وہ شاید اپنے لیڈر طاہر ہزارہ کی تقریر سننے آئے تھے۔عوامی ورکرز پارٹی ، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن سمیت بائیں بازو کی پارٹیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایاں چہرے وہاں موجود تھے،لیکن ایسا لگتا تھا کہ ان جماعتوں نے اس جلسے کے لیے اپنے کارکنان میں رابطہ بروقت مہم نہیں چلائی یا پھر ان کے ہاں تنظیمی نظم کی کمی ہے۔میں دو تین صحافیوں نے پوچھا کہ ذرا بتائیے کہ کتنے لوگ ہیں ؟ تو اکثر کا جواب تھا سات سے آٹھ ہزار ۔۔۔

نعرے لگانے والے نوجوان لاہور کی مختلف درس گاہوں کے طلبہ تھے

کیمرے تھے مگر جلسے کا ٹی وی اسکرینوں پر کہیں ذکر نہیں تھا

پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کی کسی بھی ٹی وی چینل پر کسی بھی قسم کی کوریج نہیں ہوئی۔دو نجی ٹی وی چینلز کی گاڑیاں جلسہ گاہ کے باہر ضرورکھڑی تھیں،لیکن کسی بھی پاکستانی چینل کا لوگو مائیک اسٹیج پر نہیں لگایا گیا۔اسٹیج کے بالکل سامنے نیچے تین یا چارکیمرے نصب تھے۔ایک کیمرا بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا تھا ، رائٹرز نے اپنا مائیک اسٹیج پر لگا رکھا تھا ۔جبکہ دوسرے کیمرے کا مجھے آخر ی لمحات میں پتا چلاکہ یہ جیو نیوز کاتھا جس کا مائیک وہیں ٹرائپورڈ میں نیچے ٹنگا ہوا تھا ، واضح رہے کہ جیو نیوز کو گزشتہ دنوں کسی جانب سے شدید دباؤکا سامنا رہا ہے۔اس لیے شاید جیوکے نمائندوں نے منظورپشتین کے سامنے اپنامائیک لگانے کا رسک نہیں لیا۔ڈان ٹی وی کا کیمرہ مین بھی موجود تھا ۔ڈان ٹی وی کے مشہور پروگرام’’ ذرا ہٹ کے‘‘ کے میزبان مبشر زیدی بھی جلسہ گاہ میں موجود تھے ۔انہوں نے اسی وقت ایک ٹویٹ بھی کی جس میں لکھا تھا:’’یہ شہری کے لیے کیے گئے بڑے مظاہروں میں سے ہے‘‘۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے کی کسی بھی ٹی وی چینل پر کسی بھی قسم کی کوریج نہیں ہوئی

وائس آف امریکا کا لاہور کا نمائندہ اسٹیج پر بائیں جانب نمایاں دکھائی دے رہا تھا۔کچھ ویب چینلزاور پورٹلز کے نمائندے پنڈال میں شاٹس لے رہے تھے۔آخر میں اینکر منیزے جہانگیر اپنے ادارے آج ٹی وی کے مائیک اور کیمرا مین کے ساتھ پنڈال میں دکھائی دیں۔جلسے میں بہت سے لوگ ویڈیوز بنا رہے تھے اور کچھ لوگ فیس بک پر لائیو ویڈیوز بھی چلا رہے تھے ۔اسی دوران اچانک موبائل فون پر انٹرنیٹ ڈیٹا کی فراہمی بند کر دی گئی جس پر اسٹیج سے احتجاج کیا گیا۔میں جس ڈیوائس کے ذریعے ویڈیو براڈ کاسٹ کر رہا تھا ، خوش قسمتی سے وہ بند نہیں ہوئی ۔جلسہ گاہ کے پیچھے اونچی عمارت کی چھت پر دونوں جانب دو مسلح باوردی پولیس اہلکار کھڑے تھے جبکہ درمیان میں بغیروردی کے دو تین لوگ بھی آخر تک دکھائی دیتے رہے۔وہ بھی وقفے وقفے سے تصویریں بنا رہے تھے۔اخبارات کے نمائندے مجمع کا حصہ بن کر جلسہ دیکھتے رہے جبکہ کچھ ٹی وی چینلز کے اینکر اور رپورٹرز بھی وہاں گھومتے دیکھے گئے۔ معروف صحافی اور سیفما کے بانی سربراہ امتیاز عالم ایک جانب کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔

جلسے میں منفرد کیا تھا؟

*سب سے پہلی منفرد بات جومجھے محسوس ہوئی ، وہ یہ تھی کہ بغیر کسی منظم تیاری کو سول رائٹس کے لیے موچی باغ کے وسیع احاطے میں محتاط اندازے کے مطابق آٹھ ہزار افراد جمع ہوئے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پراس جلسے کاکہیں ذکر نہیں تھا۔لوگ صرف سوشل میڈیا، فیس بک اور ٹویٹر پر مہم چلاتے رہے،لاہور میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ہمدردوں نے بعض علاقوں میں جلسے سے دو تین دن قبل پمفلٹس تقسیم کیے تھے ، لیکن ایک دن قبل اچھرہ کے قریب واقع ایک ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے جب میں نے وہاں کام کرنے والے ایک پشتون بزرگ سے اس جلسے کے بارے میں پوچھا تو وہ قطعی لاعلم تھے،میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ جلسے میں جائیں گے تو ان کا جواب تھا: ’’ہمیں کہاں ٹائم ملتا ہے‘‘

*دوسری بات اس جلسے میں ہر عمر کی خواتین کی شرکت ہے۔ نوجوان طالبات کافی پرجوش دکھائی دے رہی تھیں، اور کچھ لڑکیاں اسٹیج کے سامنے اپنے موبائل فونز پر ریکارڈنگ کرتی رہیں۔وہ تصاویر بنانے کے لیے مردوں کی نشستوں کے درمیان میں بھی جاتی رہیں لیکن کہیں بھی محسوس نہیں ہوا کہ انہیں کوئی خوف یا عدم تحفظ کا احساس ہے ۔بہت سی لڑکیوں نے منظور پشتین کی ٹوپی مشابہہ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔کچھ نوجوان لڑکیاں لڑکے ایک دائرے کی شکل میں تالیاں بجاتے اور رقص کے ساتھ نعرے لگا رہے تھے۔

نوجوان طالبات کافی پرجوش دکھائی دے رہی تھیں، اور کچھ لڑکیاں اسٹیج کے سامنے اپنے موبائل فونز پر ریکارڈنگ کرتی رہیں

*اس جلسے میں اسٹیج کے سامنے کئی ایسے بینرز ٹیپ کے ساتھ چپکائے گئے تھے،جن پر جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد کی تصویریں،ان کے نام ، ایڈریس اور گمشدگی کی تاریخیں درج تھیں۔ میں نے زرد رنگ کی بھاری پگڑیوں والے دو قبائلی بزرگوں کو اپنے ہاتھوں میں ایک گمشدہ نوجوانوں کی تصاویر والے بینرز تھامے دیکھا ، ایک لاپتا نوجوان کی تصویر والا بینراسٹیج کے بائیں جانب کھمبے پر بہت اونچا کر کے لگایا گیا تھا۔

* ایک منفرد بات یہ تھی کہ اس جلسے میں اوکاڑہ کے کسانوں کے رہنما مہر عبدالستار اور یونس کی تصاویر والے چند بینرز بھی دکھائی دیے ۔ یہ لوگ خاص طور پر اوکاڑہ سے اس جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔

اس جلسے میں اوکاڑہ کے کسانوں کے رہنما مہر عبدالستار اور یونس کی تصاویر والے چند بینرز بھی دکھائی دیے

بہت سارے لوگوں کے ہاتھ میں کچھ ایسے بینرز بھی دیکھے جن پر ایک شخص کا ایساعلامتی چہرہ بنایا گیا تھا جس کے خدوخال غائب(سپاٹ) تھے ۔ میں غور سے دیکھا تو اس پر انگریزی میں درج تھا ’’فائنڈ رضا‘‘۔یہ اس نوجوان کی بازیابی کے لیے احتجاج تھا جولاہور سے چند ماہ قبل لاپتا ہوا اور آج تک اس کی کوئی اطلاع نہیں مل سکتی ۔ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اس کی جبری گمشدگی کے خلاف کئی مظاہرے کر چکی ہے۔

کچھ ایسے بینرز بھی دیکھے جن پر ایک شخص کا ایساعلامتی چہرہ بنایا گیا تھا جس کے خدوخال غائب(سپاٹ) تھے

* جب جلسے کے اختتامی لمحات تھے تو کسی نے کہا کہ’’ انہوں نے پھرپانی چھوڑ دیا ہے‘‘، میں بائیں جانب چلا تو دیکھا کہ واقعی پانی کا ریلا اسٹیج کے پیچھے سے میدان میں داخل ہو رہا تھااورآہستہ آہستہ اسٹیج کے سامنے کیچڑ بنتا جا رہا ہے۔ابھی اس پانی کی مقدار زیادہ نہیں تھی کہ جلسے کا اختتام ہوگیا لیکن یہ سوال البتہ کئی ذہنوں میں اٹک کر رہ گیا کہ ایک بار پھر جلسے میں کس نے اور کیوں پانی چھوڑا؟

’’منظور پشتین کی گفتگو صورت حال سے ہم آہنگ تھی‘‘

یہ درست ہے کہ اس جلسے میں لاہور کے لوگوں کی اتنی زیادہ تعداد نہیں تھی جتنی کہ دیگر سیاسی جلسوں میں ہوتی ہے ۔ اس کی وجوہات سمجھنا مشکل نہیں ۔ دوسری جانب یہ بھی محسوس ہوا کہ شہر میں اس جلسے کے بارے میں کچھ زیادہ بات چیت ہوتی نہیں سنی گئی ۔ جب خبر نشر ہی نہ ہو سکے تو لوگ بھلا کیسے جان پائیں گے،سوشل میڈیا سے جڑے لوگ البتہ آگاہ تھے۔اس اعتبار سے یہ سوشل میڈیا کی قوت کا واضح اظہار تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہو گئے۔تقریروں کے دوران جو شرکاء کی جانب سے جو نعرے لگائے گئے وہ لاہور میں پہلے کبھی نہیں سنے گئے تھے، اس لیے وہ نئی چیز تھی۔ جس نے کئی طرح کے سوالوں کو جنم دیا۔الیکٹرانک میڈیا پر جلسے کی خبر نہ دینے کا نقصان یہ ہوا کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص نے اپنی مرضی کی رپورٹنگ کی جس کے بعد اگلے دن ٹی وی پر کئے گئے بعض پروگراموں میں اور اخبارات میں حقائق سے ہٹی ہوئی چیزیں دیکھنے میں آئیں ۔ جلسے کے بعد سیاسی کارکنوں کے ایک گروپ میں بات چیت جاری تھی تو اسلام آباد سے  آئے ہوئے عاطف نذر نے جلسے کو اس جملے میں سمیٹا کہ ’’کچھ تقریریں تحریک سے کئی قدم آگے کا تأثر دے رہی تھیں لیکن منظور پشتین کی تقریر صورت حال سے بالکل جڑی محسوس ہوئی ہے۔وہ فی الحال ٹھیک رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے