وفاق المدارس العربیہ اور مجمع العلوم الاسلامیہ: مسابقت کا مثبت پہلو

دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جہاں مسابقت اور مقابلے کی گنجائش نہ ہو، وہاں ترقی رک جاتی ہے اور انفرادیت یا ادارہ جاتی ڈکٹیٹرشپ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر کسی بھی میدان میں صرف ایک ہی ادارہ ہو اور اسے کوئی چیلنج نہ کرے تو وہ خود کو بہتر بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ یہی اصول دینی اداروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مسابقت کے بغیر ترقی کا عمل رُک جاتا ہے۔ اگر کسی شہر میں موبائل فون کی صرف ایک دوکان ہو، تو وہ اپنی من مانی قیمتیں وصول کرے گی اور صارفین کو مجبوراً اسی سے خریداری کرنی پڑے گی۔ لیکن اگر تین یا چار دوکانیں ہوں، تو قیمتوں میں کمی اور سروس میں بہتری لازمی ہوجاتی ہے۔یہی اصول تعلیمی اداروں پر بھی صادق آتا ہے۔

ہمارے گلگت بلتستان میں فور جی نیٹ سروس کا ایک ہی نیٹ ورک ہے۔ دوسروں کو اجازت بھی نہیں دیتا اور اپنی سروسز بہتر بھی نہیں کرتا۔ سالوں سے اس کی اجارہ داری قائم ہے اور صارفین بلاناغہ اس پورے ادارے اور اس کی ناکارہ سروسز کو کوستے رہتے ہیں۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ SCO سے بہتر سروس دینے کے لئے دوسرے کسی بھی نیٹ ورک کو اجازت نہیں ہے ۔ جب مسابقت کی فضا ہی نہیں تو سروسز بھی بہتر نہیں ہونگی اور صارفین بھی خوار ہونگے اور ادارہ جاتی ڈکٹیٹرشپ بھی قائم ہوگی ۔

دینی اداروں میں مسابقت کے فوائد

اگر دینی تعلیم کے میدان میں بھی مقابلے کا ماحول ہو، تو ادارے اپنی کارکردگی میں بہتری لانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ اور مجمع العلوم الاسلامیہ اور دیگر بورڈز کا وجود اسی اصول کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تمام ادارے اپنی اپنی جگہ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ اور ہر طالب علم و ادارہ کو یہ موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مزاج، ذوق اور سہولت کے مطابق جس کے ساتھ چاہیے الحاق ہوں اور اپنا کیریئر جاری رکھیں۔

مقابلے کی فضا موجود ہو تو بہت سے فوائد سمیٹے جاسکتے ہیں ۔ ایک دو مثالوں سے وضاحت کرتے ہیں ۔

مثال 1 : نصاب میں بہتری

اگر ایک ادارہ نصاب میں جدید تقاضوں کو شامل کرتا ہے اور معاشرتی ضروریات کے مطابق نصاب کو بہتر بناتا ہے، تو دوسرا ادارہ بھی مقابلے میں اپنا نصاب بہتر کرنے کی کوشش کرے گا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ طلبہ کو زیادہ معیاری اور جدید تعلیم ملے گی۔ اور سماج کی ضرورت پورہ ہوگی ۔

مثال 2 : اساتذہ کی تربیت

اساتذہ کی تربیت اور قابلیت میں بھی مقابلے کی فضا فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر ایک ادارہ اپنے اساتذہ کی تربیت کے لیے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کرتا ہے، تو دوسرا ادارہ بھی ایسا کرنے پر مجبور ہوگا تاکہ اپنے معیار کو بلند رکھ سکے۔

وسعت قلبی کی ضرورت

وفاق المدارس العربیہ اور مجمع العلوم الاسلامیہ کے درمیان اختلافات کو کفر و اسلام یا دینی دشمنی کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ ان اداروں کو کام کرنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ مسابقت کے نتیجے میں طلبہ کو زیادہ معیاری تعلیم مل سکے اور دین کی بہتر خدمت ہو۔

مسابقت ایک مثبت عمل ہے جو دینی، تعلیمی، معاشی اور سماجی تمام میدانوں میں ترقی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں اپنے دینی اداروں میں بھی اسی اصول کو اپنانا چاہیے تاکہ دین کی خدمت مزید منظم اور موثر ہو سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے