موسمیاتی تبدیلی اور ذہنی صحت: ایک نظرانداز پہلو

شاہد علی، ضلع چارسدہ کے ایک کسان، اپنی برباد شدہ زمین پر کھڑے ماضی کی خوشحالی کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

"سیلاب نے میرا سب کچھ ختم کر دیا، میری فصلیں، میرا ذریعہ معاش اور میرا سکون۔ اب جب بھی بارش ہوتی ہے، میرے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ کہیں یہ سب دوبارہ نہ ہو جائے۔ میں رات کو سو نہیں پاتا، ہر وقت بےچینی مجھے پریشان رکھتی ہے۔”

سوات کی ایک اسکول ٹیچر نادیہ اختر بھی اسی طرح کے حالات سے گزر رہی ہیں۔ ان کے کئی طالب علم سیلاب کے بعد بے گھر ہو گئے، اور یہ مناظر ان کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑ گئے۔

"اپنے طالب علموں کو بے سہارا دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں ان کی حفاظت نہیں کر پائی، اور یہ خیال مجھے ہمیشہ پریشان رکھتا ہے۔ اس نے میری مثبت سوچ کو بھی متاثر کیا ہے،” وہ افسوس سے کہتی ہیں۔

یہ کہانیاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ایک کمزور پہلو کو ظاہر کرتی ہیں، جو کہ ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی سانحات اور ان کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی لوگوں کی زندگیوں کو صرف جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی متاثر کر رہی ہے۔

رواں سال ہونے والی کانفرنس آف پارٹیز 29 کے دوران ورلڈ میٹیرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کی سال 2024 کی رپورٹ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی رفتار خطرناک حد تک تیز ہو چکی ہے۔ یہ تیزی فضا میں بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسز کی سطح کے باعث مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2015 سے 2024 کا عرصہ ریکارڈ شدہ تاریخ کی سب سے گرم دہائی ثابت ہوگا۔ اس دوران گلیشیئرز کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، سمندری سطح بلند ہو رہی ہے، اور سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام عوامل دنیا بھر کی کمیونٹیز اور معیشتوں پر تباہ کن اثرات ڈال رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، جنوری سے ستمبر 2024 کے دوران عالمی سطح پر اوسط سطحی ہوا کے درجہ حرارت میں 1.54 ڈگری سیلسیس (±0.13 ڈگری سیلسیس کی حد کے ساتھ) اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ صنعتی دور سے پہلے کی اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس تبدیلی میں گرم ایل نینو (El Niño) کے اثرات نے اہم کردار ادا کیا ہے، اس سے موسم کی شدت میں مذید اضافہ دیکھا جائے گا۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر محمد نفیس کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی شدت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے، اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں پہلے ہی قدرتی آفات کا سامنا معمول کی بات ہے، ان تبدیلیوں سے مزید پیچیدہ مسائل جنم لے رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بارشوں، طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات کی شدت بڑھ رہی ہے، جو معیشت اور انسانی زندگی کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد نفیس نے وضاحت کی کہ پاکستان میں اکثر دریاؤں کے کنارے بسنے والے افراد کے گھر سیلاب کی نذر ہو جاتے ہیں، اور جب کسی کا گھر چند گھنٹوں میں تباہ ہو جائے تو اس کے نتیجے میں نفسیاتی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ انہوں نے 2010 کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس سال تین ماہ تک جاری رہنے والی ہیٹ ویو کی وجہ سے گندم کی پیداوار بری طرح متاثر ہوئی۔ اسی سال آنے والے سیلاب نے جو کچھ بچا تھا وہ بھی بہا لے گیا۔

ان حالات میں، کسانوں نے کھاد اور زمین لیز پر لینے کے لیے قرض لے رکھا تھا، لیکن پیداوار ختم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے قرضے ادا کرنے کے قابل نہ رہے، جس سے ان کے ذہنی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر نفیس نے بتایا کہ پچھلے سال خراب موسم کے باعث ضلع بونیر، ضلع سوات، ضلع ملاکنڈ اور ضلع لوئر دیر میں آلو بخارا، خوبانی اور آڑو کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ پیداوار نہ ہونے کے برابر رہی، جس سے ان علاقوں کے کسان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئے۔

انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ افراد کو فوری طور پر ذہنی صحت کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ ان چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں موسمی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

یونیورسٹی آف میلان کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور اور ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان ایک واضح تعلق موجود ہے۔ 2012 سے 2022 کے دوران کیے گئے مطالعات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں شعور رکھنے والے افراد زیادہ تر ڈپریشن، بےچینی، ایکو اینزائٹی، اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے خیالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سارہ خان، جو کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں، اس بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں:

"جو لوگ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں زیادہ آگاہ ہوتے ہیں، وہ اکثر بحران کی شدت اور اپنی بے بسی کی وجہ سے شدید دباؤ اور بےچینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ذہنی امراض کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔”

یہ جذباتی بوجھ ان لوگوں کے لیے اور بھی بڑھ جاتا ہے جو براہ راست ماحولیاتی آفات کا سامنا کرتے ہیں۔ شاہد کے لیے اپنی فصلوں کا نقصان ایک مستقل پریشانی کا باعث ہے۔

"اب میں مستقبل کے بارے میں کچھ سوچ بھی نہیں سکتا،” وہ کہتے ہیں۔ "ایسا لگتا ہے کہ جو بھی فیصلہ کروں گا، وہ کسی بھی وقت ایک اور آفت کی نذر ہو جائے گا۔”

دوسری طرف، نادیہ خود کو بےبس محسوس کرتی ہیں؛

"میں اپنے طالب علموں کی مدد کرنے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن جب میں خود پریشان ہوں تو یہ مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ میں ایک ٹیچر کے طور پر ناکام ہو رہی ہوں،” وہ کہتی ہیں۔

ڈاکٹر اقبال خان، جو ٹراما اور ذہنی صحت کے ماہر ہیں، وضاحت کرتے ہیں کہ موسمیاتی آفات کے متاثرین میں بے بسی کا احساس عام ہے۔”ماحولیاتی صدمات کے مسلسل سامنا کرنے سے لوگوں میں ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈرز اور یہاں تک کہ پی ٹی ایس ڈی (پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) پیدا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ذہنی صحت کی سہولیات محدود ہیں، یہ صورتحال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے،” وہ کہتے ہیں۔

یونیورسٹی آف میلان کی تحقیق اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موسمیاتی منصوبہ بندی میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ عوامی آگاہی مہمات کے ساتھ آسان اور مؤثر مشاورتی خدمات فراہم کی جائیں تاکہ متاثرہ کمیونٹیز ان چیلنجز کا بہتر سامنا کر سکیں۔

شاہد اور نادیہ دونوں کے لیے، کمیونٹی سپورٹ نے ان کی بحالی میں مدد کی ہے۔”ایسے لوگوں سے بات کرنا جنہوں نے میرے جیسے حالات کا سامنا کیا ہو، مجھے کم تنہا محسوس کرواتا ہے،” شاہد کہتے ہیں۔ نادیہ بھی اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں، "درخت لگانے جیسے چھوٹے چھوٹے اقدامات اٹھانے سے مجھے امید ملتی ہے اور دوسروں کو بھی متاثر کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔”

یہ کہانیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا اثر نہ صرف زمین پر بلکہ انسان کے ذہن پر بھی گہرے نقوش چھوڑ رہا ہے۔ ایسے میں ذہنی صحت کی بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمتی اقدامات کو ایک ساتھ لے کر چلنا ایک بہتر معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے