جہاد معاشروں کو ظلم کے خلاف زندہ رکھتا ہے ۔ عمران خان

اسلام آباد میں فاؤنڈیشن برائے بنیادی حقوق نے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے متاثرین کے بارے میں رپورٹ جاری کی۔

drone1

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی ہلاکت کا معاملہ پارلیمنٹ اور عدالت میں اُٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جہاد کو بدنام کر دیا ہے تاہم جہاد ایک مقدس فریضہ ہے ، اس کے زریعے اللہ ہمیں بتایا ہے کہ ظلم کے خلاف معاشروں کو کس طرح زندہ اور قائم رکھنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کبھی بھی اپنے آپ کو انڈر اسٹیمیٹ نہ کریں ۔ عمران خان نے کہا کہ ہم پر بزدل اور مال بٹورنے والے مسلط ہیں اور یہ طبقہ کبھی بھی عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتا ۔ آئی بی سی اردو سے گفت گو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے متاثرین کو ابھی تک معاوضہ نہیں دیا گیا اور یہ انتہائی شرم کی بات ہے ۔

تقریب سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ اُن کی جماعت نے امریکی ڈرون حملوں میں معصوم شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا اور بھرپور آواز اُٹھائی ہے اور وہ اس معاملے کو دوبارہ اسمبلی میں اُٹھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے معصوم شہریوں کے لواحقین کو معاوضہ دے۔

ڈرون حملوں پر غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2004 سے امریکہ نے پاکستان میں ڈرون حملے شروع کیے۔ ادارے کے ڈائریکٹر بیرسٹر شہزاد اکبر نے آئی بی سی اردو سے گفت گو میں کہا کہ اب تک 421 حملوں میں مجموعی طور پر چار ہزار افراد ہلاک ہوئے جن میں 200 بچے شامل ہیں۔

Shehzad akbar adv

عمران خان نے کہا کہ ’ناانصافی پر خاموش رہنا شرمناک بات ہے اور ڈرون حملوں کے متاثرین کو معاوضہ دلوانے کے لیے اگر عدالت میں بھی جانا پڑا تو وہ جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ امریکہ نے اُس وقت تک ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم نہیں کیا جب تک امریکی مغوی ڈرون حملے میں مارے نہیں گئے۔

عمران خان نے کہا کہ امریکہ نے خود کہا تھا کہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے پاکستان کی معاونت سے ہوتے ہیں اور پاکستان نے ان حملوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے نام تک ظاہر نہیں کیے ہیں۔

پاکستان نے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کی ہمیشہ سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اُس کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے اس کی خود مختاری کی خلف ورزی ہے لیکن خفیہ دستاویزات کے مطابق دونوں ملک باہمی تعاون سے ڈرون حملے کرتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے