انسان اور انسانیت

جب انسان کی تخلیق ہو رہی تھی تو ملائک محو حیرت تھے کہ بالآخر اس میں وہ کون سی خصوصیت ہے؟ جس کی بنا پر اسے کائنات میں سب سے اونچے مقام پر بٹھایا جا رہا ہے. خلاق فطرت نے ملائکہ کا استعجاب دور کرنے کیلئے آدم ع کو باغ جہاں میں بھیج دیا جہاں ہر شے ایک خاص انداز سے رکھی گئی تھی اور کسی کو مجال نہ تھی کہ اس میں ذرا سی بھی تبدیلی پیدا کر سکے.

آدم ع نے صحن چمن پر ایک تیرتی ہوئی نگاہ ڈالی. اسے اس کی ترتیب کچھ پسند نہ آئی. اس نے اپنے دل میں کہا کہ یہ پیڑ وہاں ہونا چاہیے، وہ روش یوں ہونی چاہیے، اس پھول کا رنگ ایسا ہونا چاہیے، اس پھل کے ذائقے میں یہ تبدیلی ہونی چاہیے. وہ ابھی ان تبدیلیوں کا خیال ہی کر رہا تھا کہ جانب عرش عظیم سے آواز آئی کہ آدم ع! ہماری دی ہوئی ترتیب میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے. آدم ع نے سر اٹھایا اور نہایت تمکنت سے کہا کہ معاف فرمائیے! جس جگہ مجھے رہنا ہے اس کی ترتیب میری پسند کے مطابق ہونی چاہیے.

آدم ع کے اس جواب پر صحن چمن سے دور ایک طرف سے بلند قہقہے کی آواز اٹھی جس میں ابلیسانا سرکشی کی گرج سی محسوس ہو رہی تھی. فضائے چمن پر سناٹا چھا گیا. معصوم فرشتے سہم کر کونوں گوشوں میں جا چھپے. ہر شے اپنی اپنی جگہ ساکت و صامت انگشت بدنداں کھڑی ہو گئی.

اس سکوت کو ایک دلکش آواز نے یہ کہتے ہوئے توڑا کہ یہی وہ اختیار و ارادہ کی قوت ہے جو آدم ع کی سرفرازی اور سربلندی کا موجب ہے. اسی سے یہ مسجود ملائک اور مخدوم خلائق ہے. کشمکش حیات میں پرکیف جاذبیتیں ہیں تو اسی سے اور کشاکش زندگی میں رنگیں کیفیتیں ہیں تو اسی کے دم سے، بربط ہستی کے خوابیدہ نغمے بیدار ہوتے ہیں تو اسی کے مضراب سے اور مینائے حیات کے سادہ پانی میں کیف رنگ و تعطر کی ارغوانی موجیں اٹھتی ہیں تو اسی کے جوش سے.

تم کائنات کی دوسری چیزوں پر غور کرو اور پھر انسان کی اس خصوصیت کبری کو دیکھو بات سمجھ میں آ جائے گی کہ اُن میں اور انسان میں کیا فرق ہے؟

اب فرشتوں کو معلوم ہوا کہ اس پیکر آب و گل میں وہ کون سی قوتیں خوابیدہ ہیں جن کی بنا پر اسے کائنات میں یہ مقام عطا ہوا ہے. اس احساس سے ان کی نگاہیں تعظیم کے لیے جھک گئیں.

یہ حضرتِ انسان، یہ مہ و تین کا مجموعہ، یہ آب و گِل کا سنگم، یہ کچھ پانی اور کچھ مٹی کا پتلا، یہ زمین پر جال بن کر بچھ گیا، زمین اس نے نہ بچی، آسمان اس سے نہ بچا، ہوا اس سے نہ بچی، فضا اس سے نہ بچی، سمندر کی ہیبت ناکی کو چیلنج کر کے اس نے اُس کی موج سے موج ٹکرا دی، اس نے جوِّ فلک پہ اڑتے ہوئے طائروں کو بسمل کر کے زمین پر پھینک دیا، حباب کے دل توڑ دئیے،،آب رواں کی چادر کو تباہ کر دیا، یہ لوہے کو آکاش پہ اُڑا رہا ہے، یہ دانے کو دھرتی سے اٹھا رہا ہے، یہ موتی کی آبرو کو بچا رہا ہے یہ ذرے کا جگر چیر کو اُس میں سے ایٹم نکال رہا ہے. ایٹم کا جگر چیر کر اُس میں سے الیکڑان، پروٹان اور نیوٹران نکال رہا ہے، یہ زمین کو ناقابلِ رہائش سمجھ کر چاند پر ڈیرے ڈالنے جا رہا ہے، فرشتوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے جس میں جبرائیل ع ارشاد فرما رہے ہیں؛ فرشتو! ہوشیار، یہ وہی جنت سے نکالا ہوا پھر واپس آ رہا ہے.

آج انسان کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ اس کے پاس کھانے کے لئے بے مثال خوراکیں، پہننے کے لیے نو بہ نو پوشاکیں ہیں، اس کے پاس بادہ گلفام بھی ہے اور جادہ آرام بھی ہے. تمام تر چیزیں اس ترقی یافتہ انسان کے پاس ہیں بس سچی خوشی نہیں ہے. آج کا ترقی یافتہ انسان چیخ اٹھتا ہے کہ بالآخر مجھے سکون کیوں نہیں ملتا؟ چین اور اطمینان کیوں نہیں ملتا؟ یہ انسان ٹھیک کہتا ہے کہ اسے اطمینان نہیں ملتا، کیوں کہ ہمیں ان دولت کدوں میں انسان نہیں ملتا.

آج جدھر آنکھ اٹھتی ہے انسان کی بستیوں میں بے چینی، بے اطمینانی، بے سکونی، ہر آنکھ اشکبار، ہر دل بے قرار، ہر روح سوگوار، ہر دماغ بدحواس. حیات اور اس کی برنائیاں، جوانیاں اور اس انگڑائیاں، حسن اور اس کی حشر زائیاں، تمام زندگی ایک عمر رفتہ سازش کستہ انسان کی زندگی ایک بھٹکا ہوا قدم بن گئی ہے. اسے معلوم ہی نہیں ہے میں کہاں سے آیا تھا، میں کہاں جا رہا ہوں؟ میں کیا کرنے آیا تھا، میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

جب اس صورتحال کو دیکھ کر ہم پیچھے تو اِس انسان کا تعارف خالق نے کچھ اس طرح کروایا تھا کہ بے شک ہم نے اس انسان کی تخلیق نہایت احسن طریقے سے کی اور پھر پلٹا کر بدترین شکل میں پیش کر دیا.

اب بات سمجھ میں آ جائے گی. یہ انسان اچھا بھی بہت اچھا ہے، برا بھی بہت برا ہے. جب یہ برا ہوتا ہے تو پرندے اس سے گھبرانے لگتے ہیں، جانور کو اس سے خوف آنے لگتا ہے، حیوان اس سے شرمانے لگتے ہیں. یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان سے حیوان کیوں شرمانے لگتے ہیں؟ شیر درندہ ہے لیکن شیروں کے لیے نہیں، بھیڑیا خون آشام ہے لیکن بھیڑیوں کے لیے نہیں، سانپ زہریلا ہے لیکن سانپوں کے لیے نہیں زہریلا. آپ نے آج تک نہیں سنا ہو گا کہ سانپ نے سانپ کو ڈسا اور سانپ کے ڈسنے سے سانپ مر گیا. تمام دوسروں کے لیے زہریلے، خوش آشام اور باخدا یہ اس قسم کے وحشی ہیں لیکن جب انسان بری منزل پہ آتا ہے تو یہ اپنے ہی بھائی کا لہو پیتا ہے. اپنے ہی بنی نوع کی ہڈیاں چباتا ہے، لیکن پھر تاریخ کہتی ہے کہ جب یہ اچھا ہوتا ہے تو کبھی شہسوار برق رفتار ہوتا ہے کبھی انجم شکار ہوتا ہے، کبھی تہذیب کا دیوتا ہوتا ہے کبھی ارتقاء کا پروردگار ہوتا ہے، بلند ہوتے ہوتے اتنا بلند ہو جاتا ہے یہ حضرت انسان، کہ یہاں سے آگے وہ منزل آ جاتی ہے اس انسان کی بلندی کی کہ جہاں سے آگے جبرائیل ع کے پر جلیں وہاں سے آگے اس کی نعلین جاتی ہے.

کبھی فرشتے سجدہ کرنے لگتے ہیں کبھی حیوان شرمانے لگتے ہیں، احسن تقویم کی بلند ترین چوٹی اور احسن تقویم کی پست ترین گہرائی کی دو منزلوں کے درمیان اپنے اختیار و ارادے سے سفر کرنے والی خالق کی اشرف مخلوق کو انسان کہتے ہیں.

اب انسانیت کی طرف آئیے! جس طرح انسان بنیادی طور پر چار اجزاء کا مرکب ہے. ہوا، پانی، آگ اور مٹی. ان چار اجزاء میں جب تک امن رہے گا، انسان زندہ رہے گا اور جوں ان کے درمیان کشمکش شروع ہو گئی انسان موت کے منہ میں چلا جائے گا.

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

اسی طرح انسانیت بھی چار عناصر کا مجموعہ ہے. حکمت، شجاعت، رفعت اور عدالت.چیزوں کی حقیقت کو اسی طرح جاننا جس طرح خالق نے ان کی حقیقتوں کو بنایا ہے. یہ حکمت ہے. شجاعت کیا ہے؟ عیش اور طیش میں اپنے بپھرے ہوئے جذبات پر قابو پانا.اپنی ضرورت سے زیادہ جو چیز بھی ہو وہ کسی ضرورت مند کو دے دینا، یہ رفعت ہے. جس چیز کا جو مقام ہے، اُسے اس مقام پر پہنچانا، یہ عدالت ہے. ان چار عناصر کی موجودگی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فلاں انسان کے پاس انسانیت جیسی دولت محفوظ ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے