مآخذِ علم و ولایت: نجف سے خیبر تک کا سفرِ عشق

سچی بات تو یہ ہے کہ حسین ابنِ علی علیہ السلام کا تذکرہ تو میری زبان پر نہ بھی ہو، تب بھی وہ ہر لمحہ دل میں دھڑکتا رہتا ہے، مگر علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام و رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہوئے اکثر و بیشتر مجھ میں لکھنے کی جرات ہی نہیں ہو پاتی۔ آج صبح سویرے مولائے علی علیہ السلام کی شان میں ایک کلام سماعت کرنے کا شرف ملا، تو دل نے کہا کہ اللہ کا نام لے کر اس کی اس عظیم ترین تخلیق کے حوالے سے کچھ قلم بند کر ہی لیتا ہوں، یقیناً یہ کوشش آخرت میں کام آئے گی۔ اسی کیفیت میں یہ اشعار دل پر دستک دے رہے ہیں:

دلدارِ کبریا و محمدؐ ہو تم علی
اصحابِ مصطفیٰؐ کے بھی مولا ہو تم علی
مشکل میں کیوں علیؑ کو پکارے نہ زمانہ
خیبر میں مصطفیٰؐ نے پکارا ہے یا علیؑ

واللہ! لکھتے لکھتے زندگی میں پہلی دفعہ ہاتھ کانپ رہے ہیں کہ مجھ جیسا گناہ گار بھلا مولا علیؑ کے بارے میں کیا لکھ پائے گا!

مجھ پر وہ منظر آج بھی سحر طاری کیے ہوئے ہے جب میں نجفِ اشرف میں مولا علیؑ کے دربار پر حاضری کے لیے جا رہا تھا اور وہاں نجف کے اس عظیم ترین قبرستان ‘وادیِ السلام’ سے گزرا، جہاں روایات کے مطابق لاکھوں نفوس کے ساتھ ساتھ انبیاءِ کرام علیہم السلام بھی تشریف فرما ہیں۔ اللہ کریم کا اپنے نبی کریم ﷺ کے اصحاب پر رحمتوں کا شانِ نزول قیامت تک رہے گا، مگر علیؓ سب سے مختلف تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ میں جب ان کے مزارِ اقدس پر حاضر ہوا، سلامِ عقیدت پیش کیا، تو ایک عجیب کیفیت تھی۔ نجف سے کربلا واپسی کے سفر پر ایک بھائی سے گفتگو کے دوران میں نے ان سے امام حسینؑ سے اپنی بے پناہ محبت کا تذکرہ کیا، تو وہ مسکرا کر کہنے لگے: "مولا علیؑ تو ان کے والدِ گرامی ہیں!”۔ یہ سن کر دل کانپ اٹھا کہ جو حسینؑ کی ملنگی میں خود کو مکمل محسوس کرتا ہو، وہ مولا علیؑ کی جلالتِ شان سے کیونکر نہ ڈرے! یہ کالم لکھتے ہوئے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے میں ایک بار پھر ان کے مزارِ اقدس کے سامنے کھڑا ہوں: السلام علیک یا مولا علی۔ ویسے بھی محرم الحرام کے دن قریب ہیں اور مولا علیؑ کے دل پر امام حسینؑ کے غم کی شدت کا جو عالم ہوگا، اس کا تصور ہی روح کو رلا دیتا ہے، مگر اس غم کے سائے میں بھی مولا علیؑ کی شان کا اعتراف لازم ہے۔

پھر مجھے خیبر جانے کا اتفاق بھی ہوا۔ وہ خیبر جو مدینہ منورہ سے تقریباً دو سو کلومیٹر دور واقع ہے اور جس کی زمین آج بھی مولا علیؑ کا نام سن کر کانپتی ہے۔ ظہر کی نماز کا وقت قریب تھا، میں خیبر کی وادی کے انہی تاریخی مقامات پر حیرت زدہ کبھی ایک عمارت تو کبھی دوسری عمارت کو تکتا، چلتا جا رہا تھا۔ اچانک ذہن میں خیال آیا کہ یہاں کی مسجد میں اذان دیتا ہوں۔ میں سیدھا مسجد کی طرف گیا اور دل کی گہرائیوں سے اللہ کی تکبیر بلند کی، نبی مکرم ﷺ کی رسالت کی شہادت دی اور اذان کے کلمات کے ساتھ دل میں اس سچائی کا اقرار کیا کہ علیؑ اللہ کے ولی ہیں۔ وہاں نماز ادا کی، خیبر میں کچھ وقت گزارا اور پھر آگے مدائن صالح کی طرف چل پڑا، جس کی کہانی پھر کبھی سہی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہجرت کی اس رات (لیلتہ المبیت) جب مولا علیؑ نبی کریم ﷺ کے بسترِ مبارک پر لیٹے ہوں گے اور اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں لوگوں کی امانتیں سپرد کر کے فرمایا ہوگا کہ صبح یہ لوٹا کر مدینے آ جانا، تو اس رات کی نورانیت، تحفظ اور ماحول کا کیا عالم ہوگا! (جیسا کہ سیرتِ ابنِ ہشام اور تفاسیر میں منقول ہے)۔ یا پھر وہ دن جب مولا علیؑ بالکل کم عمری میں مکہ کے اس عیسائی عالم اور راہب ورقہ بن نوفل کے پاس اس ماحول کے گواہ بن کر موجود تھے، جب اللہ کے نبی ﷺ پر پہلی وحی کا نزول ہوا تھا اور حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے ہمراہ جب وہاں پہنچے تو اس عیسائی عالم نے نشانیاں دیکھ کر گواہی دی تھی کہ یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جو موسیٰؑ پر اترا تھا اور یہ نبوت کا پیش خیمہ ہے (صحیح بخاری: 3)۔ ان تمام احوال میں مولا علیؑ ایمان لانے والوں میں صفِ اول میں شامل تھے۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم نے حسینؑ کی ملنگی تو اختیار کر لی ہے، مگر مولا علیؑ کی جلالت اور ملنگی کا وہ رعب اور زور سہنے کی اپنی اوقات نہیں ہے، میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ بس حسینؑ سے محبت کرتا رہوں گا تو مولا علیؑ کی رضا خود بخود مل جائے گی۔ میں اعترافِ عجز کرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کرتا ہوں کہ میری پہنچ، میری حیثیت اور میری برداشت ان کے مقامِ جلال کو سمجھنے کی نہیں، اسی لیے مزارِ نجف پر حاضری کے بعد میں پھر سے کربلا چلا گیا تھا اور حسینؑ کے پیروں میں پناہ لے لی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مولا علیؑ کے علم, حکمت اور دانش کو سمجھنے اور اسے سہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تاریخِ انسانی میں بہت کم، بلکہ شاید صرف مولا علیؑ کی ہی وہ واحد ذات ہے جو بیک وقت طاقتور ترین جنگجو بھی تھے اور علم و روحانیت کی آخری حدوں پر پہنچے ہوئے بھی۔ یہ جو ہم جیسے بھٹکے ہوئے مریدین روحانیت کا علم لیے پھرتے ہیں نا، اس کا منبع اور سرچشمہ کوئی اور نہیں، خود مولا علیؑ کی ذات ہے۔

اللہ کے نبی کریم ﷺ ان سے کتنی بے پناہ محبت کرتے تھے! کیا محبت اور کیا شفقت ہوگی ان کے درمیان۔ غدیرِ خم کے مقام پر جب میرے نبی ﷺ نے سب کا ہاتھ تھام کر فرمایا تھا: **«مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ»** یعنی "جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے” (جامع الترمذی: 3713)، تو یہ محبت کا سب سے بڑا اعلان تھا۔

کبھی مولا علیؑ کے اس دکھ کا تصور تو کیجیے، جب وہ رسول اللہ ﷺ کی تدفین اور غسل کی مقدس ذمہ داریاں نبھانے کے بعد پہلی دفعہ مدینے کی گلیوں میں نکلے ہوں گے اور وہاں ان کے سامنے رسولِ پاک ﷺ کی ظاهری ہستی موجود نہیں ہوگی! یا جب وہ بچپن میں حسینؑ کو دیکھتے ہوں گے اور ان کے سامنے غیب کے پردوں سے کربلا کے وہ سارے معاملات ہوتے ہوں گے کہ یہی امت ان کے پیارے حسینؑ کو شہید کر دے گی! ہم نے کبھی مولا علیؑ کی شان کو اس گہرائی سے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی، یا شاید ہماری اوقات ہی نہیں ہے۔ اللہ کی پاک ہستیوں کی تعداد بے شمار ہے، نبی پاک ﷺ کا ایک ایک صحابی ہدایت کا چمکتا ہوا ہیرا ہے، سب کا اپنا بلند مقام ہے، مگر مولا علیؑ کا ایک بالکل الگ اور منفرد مقام ہے۔ ذرا سوچیے، کوئی انہیں زخمی کر دے، شہید کر دے، اور وہ اپنے قاتل ابنِ ملجم کے ساتھ بھی رحم و کرم کا معاملہ کرنے کی وصیت فرمائیں کہ اسے وہی کھانا کھلایا جائے جو وہ خود کھاتے تھے! کس کی جرات اور سینے کی فراخدلی ہوگی اتنی؟ کسی کا مقام ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ آخر وہ کیوں نہ ہوتے، جن کے لیے غزوہ تبوک کے موقع پر زبانِ رسالت ﷺ سے یہ لازوال سند جاری ہوئی تھی: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» یعنی "تم مجھ سے وہی نسبت رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں” (صحیح بخاری: 4416)۔

السلام علیک یا مولا علیؑ، آپ کا مقامِ جلیل انسانی سوچ کی پرواز سے بہت بلند اور ورا الوراء ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے