اسفارِ مشرق بعید: قسط نمبر 2سفر

آزمائش، انتخاب اور فطرت کی پکار

اللہ کے بابرکت ناموں سے آغاز کرتا ہوں جو بہت مہربان اور ہر شے پر قادر ہے۔ وہ ہر انسان کو ایک خاص زاویے سے بناتا ہے، پھر اس کی خواہش اور نفسانیت کے مطابق اس کی تقدیر اور نصیب لکھتا ہے۔ ساتھ ہی وہ انسان کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے نصیب میں لکھے گئے معاملات کو راہِ نعمت کی طرف لے جائے یا اپنے لیے باعثِ عذاب بنا لے۔

اسی منطق کا اطلاق اسفار پر بھی ہوتا ہے۔ یا تو انسان سفر میں اپنے معاملات کو اللہ پاک کے سپرد کر دے اور دائرہِ سحر میں دعاؤں کے ساتھ اسے اپنے لیے رضائے الٰہی کا ذریعہ بنائے، یا پھر اس کو اپنے لیے مسائل اور آزمائش کا سبب بنا لے۔ اللہ کے نبی ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ "سفر بالذات خود ایک آزمائش ہے، لہٰذا اپنے کام جس مقصد کے لیے جاؤ، سمیٹ کر واپس اپنے گھر لوٹ جاؤ کیونکہ انسان کے سونے کی جگہ اور کھانے پینے تک ہر معاملے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔” میں نے اللہ کی توفیق سے اسفار کی صورت میں جتنی تھوڑی بہت دنیا دیکھی ہے، اوپر بیان کردہ حقائق سے میرا بہت گہرا واسطہ پڑا ہے۔

بہرحال، اسفارِ فار ایسٹ ایشیا (مشرقِ بعید) میں جتنے ممالک دیکھے ہیں، ان پر تبصرہ جاری رکھتے ہیں۔ جب ہم "فار ایسٹ” کی بات کرتے ہیں تو جغرافیائی اعتبار سے اس میں مشرقی ایشیا کے ممالک جیسے چین (بشمول ہانگ کانگ اور مکاؤ)، جاپان، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، منگولیا اور تائیوان شامل ہیں۔ تاہم، وسیع تر تعریف میں جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک جیسے فلپائن، ویتنام، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، سنگاپور، میانمار، کمبوڈیا، لاؤس اور برونائی بھی اس کا حصہ مانے جاتے ہیں، جبکہ روس کا مشرقی حصہ (Russian Far East) بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔

گذشتہ قسط میں ہم نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کا ذکر کیا تھا۔ یہ ایک بالکل مختلف قسم کا ملک ہے۔ وہاں اترتے ہی آپ کو ہوا میں پھیلی ایک ایسی مخصوص خوشبو یا بو کا احساس ہوتا ہے جو پاکستان کے ماحول سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ یہ فرق آپ کو وہاں کے کھانوں کے ذائقوں میں بھی واضح طور پر محسوس ہوتا ہے۔ مجھے بھی بینکاک کی دھرتی پر قدم رکھتے ہی یہ احساس ہوا تھا، مگر بار بار جانے سے وقت کے ساتھ یہ احساس تھوڑا کم ہو جاتا ہے۔

اگرچہ تھائی لینڈ میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں آباد نہیں ہیں، لیکن جو وہاں رہتے ہیں، وہ انتہائی مخلص، بااخلاق اور دین کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ اس بات کا عملی احساس مجھے پٹایا (Pattaya) میں قائم ایک بہت بڑے تبلیغی مرکز میں ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مرکز عین اس مقام کے نکڑ پر بنا ہوا تھا جو اپنی بے پناہ عیاشی اور نائٹ لائف کے لیے مشہور ہے۔

جب میں وہاں پہنچا تو عصر کی اذان ہو چکی تھی اور نماز کے لیے اقامت کہی جانے والی تھی۔ میں نے تیزی کا مظاہرہ کیا اور تکبیرِ اولیٰ کے شوق میں اقامت کے لیے آگے بڑھ گیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہاں اقامت لاؤڈ اسپیکر پر دی جاتی ہے۔ جیسے ہی میں نے اقامت شروع کی، صفوں میں کھڑے مقامی ساتھیوں کے چہروں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ان کی مسکراہٹ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ مجھ سے کوئی نادانستہ غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہاں لاؤڈ اسپیکر پر اقامت نہ کہنے کا رواج ہے، مگر کسی نے بھی برا نہیں منایا بلکہ محبت سے رہنمائی کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم سمندر کے ساحل پر گئے اور خوب سیر سپاٹے کیے۔

تھائی لینڈ میں مجھے کافی شہر اور قصبے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں کے لوگ عموماً خوش مزاج ہیں اور کھانے پینے کے بے حد رسیا ہیں۔ وہ مرچیں، چٹنیاں اور طرح طرح کے سوسز (Sauces) کھانے کے بے حد شوقین ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ ہڈی اور پٹھے کے جوڑوں کی مالش (Massage) کے بھی ماہر مانے جاتے ہیں۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ان پیشہ ورانہ مالش کرنے والوں کے آرٹ کو پیسے کی ہوس میں کافی معاشرتی بدامنی اور اخلاقی گراوٹ کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، لیکن اگر عمومی تجزیہ کیا جائے تو سمندروں اور ساحلوں سے بھرپور یہ ملک ایک بہترین سیاحتی مرکز (Touring Destination) ہے۔ لوگوں کے اپنے طرز کے مسائل ہیں، مگر حکومت میں بادشاہت کا عنصر ہونے کے باوجود ویلفیئر (عوامی فلاح و بہبود) کا رواج بھی قائم و نافذ ہے۔ یورپ اور مغرب سے بہت سے گورے یہاں اپنی چھٹیاں گزارنے آتے ہیں، خوب ہلا گلا کرتے ہیں اور یہاں کی قدرے سستی ٹورازم سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

مجھے ان کی ٹورازم کی سب سے خاص بات جگہ جگہ پر ایڈونچرز (Adventures) کا ہونا لگی۔ جہاں کہیں کوئی پہاڑ یا اونچی عمارت ہوتی ہے، یہ وہاں فوراً زپ لائن (Zipline) لگا دیتے ہیں، یا پھر کشتی رانی اور دوسرے قسم کی رائیڈز سے آئے ہوئے سیاحوں کو مشغول رکھتے ہیں۔ اخلاقی انداز میں "سوا دیکا” یا "کاپون کاپ” (جس کا مطلب خوش آمدید اور شکریہ ہے) کہتے ہوئے وہ آپ کو احساس دلاتے ہیں کہ آپ ان کے لیے بہت اہم ہیں۔

یہاں کے لوگوں کا جواہرات اور پتھروں کے ساتھ حد سے زیادہ لگاؤ ہے۔ یہ لگاؤ اس حد تک ہے کہ اگر بخار ہو جائے تو کون سے پتھر کی مالا یا انگوٹھی پہنی جائے، اور اسکن (جلد) کو گورا یا سانولا کرنے کے لیے کون سا پتھر استعمال کیا جائے۔ مختلف بازاروں میں آپ کو لاوے (Lava) سے بنے ہوئے مختلف قسم کے جواہرات بھی ملیں گے۔ چونکہ ہمارے رشتہ دار بھی وہاں اسی روزگار سے منسلک تھے، اس لیے وہ کافی باریک بینی سے ان تفصیلات کا ذکر کرتے تھے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ ان قیمتی پتھروں اور نوادرات کے کاروباری حضرات وہاں کے بڑے بڑے ماڈلز کو اچھی خاصی رقم دے کر اپنے پروڈکٹس کی مارکیٹنگ کرواتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں جہاں ایک طرف دریا، سمندر اور ساحل ہیں، वहीं دوسری طرف کچھ مقامات جیسے "چانگ مائی” (Chiang Mai) میں اسلام آباد کی طرز کے خوبصورت پہاڑ بھی نظر آتے ہیں۔ میں چونکہ ٹھہرا پہاڑی آدمی، اس لیے چانگ مائی کے ان مناظر سے بہت متاثر ہوا۔ ایک وقت تھا جب ابتدائی اسفار میں اونچی عمارتیں اور روشنیاں متاثر کرتی تھیں، مگر جب اسفار کی تعداد بڑھی تو دل پھر سے اپنی اوقات پر آکر پہاڑوں اور نیچر (فطرت) سے مستفید ہونے کی پوری کوشش کرتا ہے۔

پٹایا کے ساحل پر ایک موقع پر میں نے کشتی سے بندھی رسی کے سہارے، سمندر کے اوپر ہوا میں اڑتے ہوئے پیرا سیلنگ (Parasailing) بھی کی اور اس ایڈونچر سے خوب لطف اندوز ہوا۔ اب تو وقت کے ساتھ ان ایڈونچرز سے تھوڑا ڈر لگتا ہے، البتہ جب کہانی سنانے یا اس کو قلمبند کرنے کا وقت ہو، تو یہ یادیں آج بھی رگوں میں خون دوڑا دیتی ہیں۔

فار ایسٹ ایشیا کے اسفار کے احوال کے ساتھ ملتے ہیں اگلی قست میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے