مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت (1)

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (IPS) اسلام آباد پاکستان کا ایک ممتاز تحقیقی اور فکری ادارہ ہے، جس کی بنیاد معروف ماہرِ معیشت اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمدؒ نے رکھی۔ یہ ادارہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اسلامی فکر، عوامی پالیسی، معیشت، تعلیم، سماجی مسائل اور بین الاقوامی امور پر تحقیق، مکالمے اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) ایک بین الاقوامی انسانی ادارہ ہے جو مسلح تنازعات اور ہنگامی حالات میں متاثرہ افراد کی مدد، جنگی قیدیوں کی فلاح، خاندانوں کے باہمی رابطے اور بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ غیر جانب داری، غیر سیاسی وابستگی اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے تحت اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔

آئی پی ایس اور آئی سی آر سی کے اشتراک سے گزشتہ چند سالوں سے، یعنی 2022ء سے، ہر سال جون کے مہینے میں دینی صحافت سے وابستہ حضرات کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام کا انعقاد تسلسل کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس پروگرام کا عنوان "مسلح تصادم اور ہنگامی حالات میں صحافت” ہے۔ منتظمین کی کوشش ہوتی ہے کہ پروگرام کو مفید بنانے کے لیے ایسے متنوع موضوعات کا انتخاب کیا جائے جو ایک طرف مرکزی موضوع سے مطابقت رکھتے ہوں اور دوسری طرف دینی حلقوں سے وابستہ افراد کی فکری اور عملی ضروریات کو بھی پورا کریں۔

علماء کرام اور دینی صحافت سے وابستہ حضرات اپنے اپنے علاقوں میں بڑا حلقۂ اثر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریر و تقریر لوگوں تک پیغام پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے ان موضوعات کو سمجھنا اور پھر آگے منتقل کرنا ان کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔

اس سال بھی یہ پروگرام 16 اور 17 جون کو شنگریلا ہوٹل مری میں منعقد ہو رہا ہے۔ آج اس ورکشاپ کا پہلا دن تھا۔

منتظمین پروگرام کو ہر لحاظ سے مفید بنانے کے ساتھ ساتھ شرکاء کی راحت کا بھی بھرپور خیال رکھتے ہیں۔ معیاری رہائش، عمدہ کھانا اور بہترین انتظامات اس کا واضح ثبوت ہیں۔

پہلے سیشن میں تعارفی گفتگو سید ندیم فرحت گیلانی صاحب نے کی۔ آپ بھی بڑی خوبیوں کے مالک اور بڑے اچھے منتظم ہیں۔ انہوں نے پروگرام کا تعارف کرایا، اس کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو اس حوالے سے یاددہانی کے ساتھ ضروری آگاہی دی۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ ہر سال اس پروگرام میں اپنے اپنے علاقوں کے ممتاز علماء، اہلِ قلم اور بااثر شخصیات شریک ہوتی ہیں۔ اس سال بھی ملک کے چاروں صوبوں سے علماء کرام، پی ایچ ڈی اسکالرز اور صاحبِ علم و قلم حضرات کا ایک خوبصورت گلدستہ جمع ہے۔

دوسرا لیکچر ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب نے دیا، جو آئی سی آر سی کے ریجنل شرعی ایڈوائزر ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک صاحبِ علم، سنجیدہ اور باوقار شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنے موضوع کے حوالے سے نہایت نپی تلی اور جامع گفتگو فرمائی۔

گفتگو کے ابتدائی حصے میں انہوں نے آئی سی آر سی کا تعارف اور اس کے دائرۂ کار پر روشنی ڈالی۔ خصوصی طور پر اس کی فنڈنگ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دنیا کی مختلف حکومتیں اس ادارے کو فنڈنگ فراہم کرتی ہیں، لیکن آئی سی آر سی کسی بھی قسم کی مشروط فنڈنگ قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ ادارہ روایتی این جی اوز کی طرح نہیں ہے اور نہ ہی اس کا اقوامِ متحدہ کے ساتھ کوئی تنظیمی تعلق ہے، بلکہ یہ اپنی الگ حیثیت اور شناخت کے ساتھ کام کرتا ہے۔

ان کی گفتگو کا دوسرا حصہ بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آئی سی آر سی اس قانون کی ترویج اور تشہیر کا کام کرتا ہے۔ موجودہ حالات، خصوصاً فلسطین میں اسرائیلی مظالم اور حالیہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قانون کی حیثیت اور افادیت کیا رہ گئی ہے، کیونکہ طاقتور ریاستوں نے کئی مواقع پر اس قانون کو بری طرح پامال کیا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے یہ نکتہ بیان کیا کہ اگرچہ اس قانون پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو پاتا، لیکن "کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے” اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت برقرار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے تحت شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا، زیرِ حراست افراد کے ساتھ ناروا سلوک کی اجازت نہیں، اسپتالوں اور طبی مراکز پر حملے ممنوع ہیں، زخمیوں کی دیکھ بھال کی جائے گی، لاشوں کا احترام کیا جائے گا اور خواتین و بچوں کے خلاف جنسی تشدد یا دیگر مظالم کی ممانعت ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی سی آر سی جنگی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کرتا ہے۔ ان کی ملاقاتوں کا انتظام کرتا ہے، اہلِ خانہ سے فون پر رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے اور دیگر ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات سے شہری آبادی کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے بھی کام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس قانون کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم اس کے نفاذ کی ذمہ داری آئی سی آر سی کے پاس نہیں ہے۔ ادارے کا کام اس قانون کی تشہیر، ترویج اور متعلقہ فریقوں کو اس کی یاددہانی کرانا ہے تاکہ انسانی جان اور وقار کے تحفظ کو ممکن بنایا جا سکے۔
جاری ہے…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے