دوسرے لیکچر کے بعد چائے کا وقفہ ہوا۔ اس کے بعد جناب ڈاکٹر ثاقب جواد صاحب نے خطاب فرمایا۔ آپ سول جج ہیں اور قانون کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں، جبکہ بین الاقوامی قانونِ انسانیت آپ کا خصوصی موضوع ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے بین الاقوامی قانونِ انسانیت پر نہایت جامع، اور علمی گفتگو کی۔ ابتدا میں انہوں نے اس کی تعریف، پس منظر اور ارتقا پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد اس کے بانی اور ’’کمیٹی آف فائیو‘‘ کا تعارف کرایا، جس نے اس نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے تناظر میں علتُ القتال اور آدابُ القتال کا بھی تذکرہ کیا اور بتایا کہ جنگ کے دوران بھی بعض اخلاقی اور قانونی حدود و قیود کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ بعد ازاں بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے بنیادی اصول، احتیاطی تدابیر اور اس کی مختلف ذیلی اقسام کو تفصیل سے بیان کیا۔
لیکچر کے دوران مختلف بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ اور ارتقائی مراحل کا بھی جائزہ پیش کیا گیا۔ اسی طرح مسلح تصادم کی مختلف صورتوں، ان کی درجہ بندی اور ان پر لاگو ہونے والے قانونی ضوابط پر گفتگو ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب نے بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے قائم اداروں کا بھی تعارف کرایا، جن میں سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، عالمی عدالتی نظام اور بین الاقوامی فوجداری قانون کے مختلف ادارے شامل ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کے اختیارات، دائرۂ کار اور عملی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔
گفتگو کے اختتام پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر عائد ہونے والی مختلف سزاؤں اور پابندیوں کا ذکر کیا گیا۔ اس ضمن میں یہ وضاحت بھی کی گئی کہ اگرچہ اقوامِ متحدہ ہمیشہ براہِ راست کارروائی نہیں کرتی، تاہم مختلف بین الاقوامی اداروں اور ریاستی نظاموں کے ذریعے قانونی، سیاسی اور بالخصوص تجارتی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ ایک علمی، اور مفید گفتگو تھی، جس سے بین الاقوامی قانونِ انسانیت کے بنیادی تصورات، دائرۂ کار اور عملی نفاذ کو سمجھنے میں خاصی مدد ملی۔
اس کے بعد چیئرمین آئی پی ایس جناب خالد رحمن صاحب نے موضوع کی اہمیت اور احساسِ ذمہ داری پر گفتگو فرمائی، پھر فرمایا کہ آپ علماء ہیں، آپ کی بڑی ذمہ داری ہے، اس لیے آپ حضرات اس علم کو درست معنوں میں استعمال کریں۔ جنگیں بھی پرانی ہیں اور یہ موضوع بھی قدیم ہے، تاہم موجودہ دور میں دنیا بھر میں مسلح تصادم کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناروے کے ایک تحقیقی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اس میں 1946ء سے 2025ء تک کی جنگوں کا ذکر ہے، اور 2025ء کو سب سے خطرناک سال قرار دیا گیا ہے۔ یعنی دنیا میں ہر تین میں سے ایک ملک مسلح تصادم کا شکار رہا ہے۔
ہنگامی حالات اور مسلح تصادم کے دوران صحافتی اصولوں پر جناب طارق حبیب صاحب نے عمدہ لیکچر دیا۔ آپ سینئر صحافی ہیں اور سنو نیوز سے وابستہ ہیں۔
آپ نے مغربی میڈیا کا چہرہ اور اس کی جانبداری پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں رپورٹنگ کے فوائد بیان کیے کہ اس کے نتیجے میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ نے 2005ء کے کشمیر زلزلے کے دوران اپنی شارٹ اسٹوریز کا بھی ذکر کیا، جن کی وجہ سے دنیا کی توجہ اس سانحے کی جانب مبذول ہوئی۔ آپ نے اس پہلو پر بھی روشنی ڈالی کہ ان حالات میں کوئی صحافی مکمل سچ قوم کے سامنے نہیں رکھتا، جس کی مختلف وجوہات اور مجبوریاں ہوتی ہیں۔ سیاسی دباؤ اور سوشل میڈیا کے الگورتھمز بھی خبروں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
اس کے بعد عمیر حسین نے گفتگو کی، جو اسلامک ریلیف سے وابستہ ہیں۔ آپ نے ایک طویل عرصے تک جنگ زدہ ممالک میں ان حالات کو قریب سے دیکھا ہے۔ آپ نے انسان دوست خدمات کی فراہمی میں صحافتی اور رفاہی اداروں کے کردار پر اپنے تجربات اور مشاہدات بیان کیے کہ کس طرح افغانستان، صومالیہ اور میانمار میں صحافیوں اور رفاہی اداروں نے اپنا کردار ادا کیا۔
مولانا اسد اللہ خان پشاوری کی دعا سے پہلے دن کے سیشن کا اختتام ہوا۔
جاری ہے…