نئے سال کا آغاز، مقصدِ زندگی کا شعور اور کاروانِ عشق کی داستان
اللہ کے نبی ﷺ سے ملاقات ہوگی، وہ پوچھیں گے: "میرے حسین کو روئے تھے؟” اگر انہوں نے پوچھ لیا تو کیا کہیں گے؟ کچھ اشک بہا کے جانے ہیں، کچھ لمحے سوچ کے جانا ہے، گواہی کے لیے کچھ تو ہو!
نبی ﷺ کی آل سے محبت والو محرم شروع ہو گیا ہے۔
اللہ نیا سال امن و سلامتی والا بنائے اور برکتیں نازل فرمائے۔ کیوں نہ نئے سال کا آغاز ان اسفار سے ہو جو حضور ﷺ کے جگر کا ٹکڑا تھے، مثلِ محمد ﷺ تھے۔ حسین کے اسفار میں زندگی کا مقصد نمایاں ہے، واضح ہے۔ ان کا راستہ جنت کا راستہ ہے۔ ان کا راستہ اور منزل اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے راستے ہیں۔ وہ سیاسی شخصیت تھے، وہ امام تھے، وہ مہربان تھے، وہ خوبصورت تھے، وہ علی و فاطمہ کے فرزند تھے۔ ان سے اللہ کو محبت تھی، ان کا سفر ایک ایسی قربانی اور لازوال محبت کی داستان ہے جو اللہ سے کوئی نہ کر پائے گا تا قیامت۔ وہ اسلام کو حقیقی معنوں میں زندہ کر گئے ہیں، کر گئے تھے۔
حسین کی یاد میں حسین کے گھر والوں کی یاد بھول نہ جانا۔
اس موضوع کو خدارا مسلکوں اور تفریقوں کی بھیٹ مت چڑھانا۔
اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم اہل سنت والجماعت کے نمائندے ہیں یا اہل بیت کے شیعہ۔
ہم کلمہ و توحید کے پاسدار ہیں۔ اصحابِ نبی ﷺ سب امت کے ستارے ہیں۔
حسین کا الگ مقام تھا، ہے اور رہے گا۔
محرم شروع ہو گیا ہے، مت بھولیے گا کہ پیارے کریم آقا ﷺ نے فرمان جاری کیا تھا: "میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہے۔” یہ دو چار لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے، یہ ایک فلسفہ، یہ محبت و عقیدت ہے۔
یہ پیغام ہے کہ جیسے محبت مصطفیٰ کریم آخر الزماں کے ساتھ ہم روا رکھیں، وہی محبت، وہی اخلاص و جذبہ اور اسی عشق کا حقدار ہے میرے حسین، آپ کے حسین، ہم سب کے حسین۔
کربلا کے اسفار سے پہلے یہ جان لیں کہ امام کے رشتہ دار اور اہل بیت کون تھے۔ امام حسین علیہ السلام کے پاک خاندان (اهلِ بیت) میں ان کی ازواجِ مطہرات میں سیدہ ربابؓ اور سیدہ لیلیٰؓ شامل تھیں؛ سگے بہن بھائیوں میں امام حسنؑ، سیدہ زینبؑ اور سیدہ ام کلثومؑ جبکہ سوتیلے بھائیوں میں حضرت عباس علمدارؓ، محمد بن الحنفیہ، عبداللہ، جعفر، عثمان، عمر اور ابوبکر شامل تھے؛ اور آپ کے بیٹوں میں حضرت علی اکبرؓ (جوان بیٹے)، حضرت علی اصغرؓ (6 ماہ کے معصوم)، امام زین العابدینؑ (بیمار بیٹے جو زندہ رہے) جبکہ بیٹیوں میں سیدہ سکینہؑ اور سیدہ فاطمہ صغریٰؑ نمایاں ہیں۔ جو اہل بیت ہوئے وہ نہ تھے مگر باقی سب حسین کے قافلے کے ساتھ جا رہے تھے۔
مقدس قافلہ عراق میں کوفہ کے قریب "قصرِ بنی مقاتل” نامی تاریخی پڑاؤ پر موجود تھا۔ "تاریخِ طبری” (جلد 5، صفحہ 406) آپؓ نے اس رات یہیں قیام کیا اور اگلی صبح یعنی 2 محرم کو وہاں سے روانہ ہو کر کربلا کی سرزمین پر پہنچے، جو موجودہ عراق کے دارالحکومت بغداد سے تقریباً 100 کلومیٹر دور ہے۔
مکہ سے ذوالحجہ میں شروع ہونے والا سفر کربلا تک کئی دنوں اور راتوں پر مبنی تھا۔ ذوالحجہ 60 ہجری کو آپ اور آپ کا قافلہ نکلا تھا مکہ سے۔
اہل بیت سے محبت کرنے والو! آج سے 1387 سال قبل امام حسینؑ کی ملاقات عبید اللہ بن حر جعفی سے ہوئی تھی، جہاں امامؑ نے انہیں اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے معذرت کر لی تھی۔ اسی دوران امام حسینؑ کے قافلے کا سامنا حر بن یزید ریاحی کے لشکر سے بھی ہو چکا تھا، جو یزید کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر امامؑ کا راستہ روکنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
اس دن امام حسینؑ کے قافلے میں ان کے اہلِ خانہ (اہلِ بیت) اور وفادار ساتھی شامل تھے۔ مکہ سے نکلتے وقت اس قافلے میں تقریباً 82 افراد تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ بعد میں راستے میں کچھ اور ساتھی بھی ساتھ مل گئے۔ اس مقدس قافلے کے اہم افراد کے نام درج ذیل ہیں:
1۔ امام حسینؑ کے بھائی اور بھتیجے:
حضرت عباس بن علیؓ (امام حسینؑ کے بھائی اور قافلے کے علمدار)
حضرت علی اکبرؓ اور حضرت علی اصغرؓ (امام حسینؑ کے بیٹے)
حضرت قاسم بن حسنؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ (امامؑ کے بھتیجے اور بھانجے)
2۔ خواتین اور بچے:
سیدہ زینب بنت علیؑ (امام حسینؑ کی بہن)
سیدہ ام کلثومؑ (امام حسینؑ کی دوسری بہن)
سیدہ سکینہؑ اور سیدہ فاطمہ صغریٰؑ (امام حسینؑ کی بیٹیاں)
3۔ وفادار ساتھی (اصحاب):
حضرت حبیب بن مظاہرؓ
حضرت زہیر بن قینؓ
حضرت مسلم بن عوسجہؓ
میں نے اب تک اپنے اسفار پہ لکھا ہے، اب حسین کے اسفار کا تذکرہ ضروری ہے، لازم ہے۔ ایسے اسفار صرف حسین کر سکتے ہیں۔
میں نے بھی حسینؑ کے عمرے کی نیت باندھی تھی مدینہ سے۔ رات کو ایک ٹیکسی میں بیٹھا تھا، اتنا مشکل راستہ تھا اس رات مدینے سے مکہ کا کہ میں بتا نہیں سکتا۔ رات ختم نہیں ہو رہی تھی اور مجھے حسینؑ امام کی فکر و شدت سے یاد آ رہے تھے کہ کیسے گزری ہوگی ایک ایک رات۔
میرا دل شدتِ غم سے پھٹ نہ جائے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں سنتِ محمدی کی طرح غمِ حسین میں شریک ہوں، تھا اور رہوں گا۔ مجھے صفِ حسین میں گننا، میں دینِ حسین پہ ہوں۔
یہ کسی اور کی بات نہیں ہو رہی، جنت میں سب جوان ہوں گے اور ان کے سردار کی بات ہو رہی ہے۔ اف دنیا کیا اور اس کی حقیقت کیا، جو حسین سے ایسا رویہ رکھ چکے ہیں، ہم تو گلہ ہی نہ کریں۔
ملتے ہیں نم آنکھوں کے ساتھ، "اسفارِ حسین” میں اگلی قسط کے ساتھ۔