اسفارِ حسینؑ: حق کے مسافر کا شاہراہِ عام پر سفر (قسط نمبر ۳)

اللہ کے بابرکت نام سے آغاز کرتا ہوں، جس نے حسینؑ جیسی ہستی کو تخلیق کر کے انسانیت پر احسان فرمایا، اور جو دنیا و آخرت کا مالک، ہر چیز سے باخبر اور حکمت والا ہے۔

ہجرت اور سفر، اہلِ بیتِ رسول اللہﷺ کا شیوہ رہا ہے۔ خود رسول اللہﷺ جب مکہ چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر رہے تھے، تو مڑ مڑ کر مکہ کو دیکھ کر فرماتے تھے: "اے وادیِ مکہ! مجھے تم سے محبت ہے، مگر یہاں کے لوگ مجھے رہنے نہیں دیتے۔” بعد ازاں، علی ابنِ ابی طالبؑ نے مدینہ اور پھر عراق کا رخ کیا۔ اہلِ بیتِ اطہارؑ کے اسفار کا یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

حسینؑ کی زندگی بھی انہی اسفار کا ایک حسین مجموعہ ہے۔ وہ مدینہ کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود عاجزانہ زندگی گزارنے والے اشراف میں سے تھے۔ ۴ ہجری میں مدینہ میں پیدائش ہوئی۔ نبی کریمﷺ نے انہیں گود میں اٹھایا، کندھوں پر بٹھایا، نماز کے دوران پشت پر بیٹھنے دیا اور سجدے کو طویل کر دیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں مدینے کے محتاجوں میں کھانا تقسیم کرتے اور وراثت میں ملنے والی زمینیں صدقہ کر دیتے۔ انہوں نے جمل، صفین اور نہروان کی جنگوں میں اپنے والد حضرت علیؑ کے ساتھ شرکت کی۔ اپنے بھائی امام حسنؑ کے صلح نامے کی پاسداری کی اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے جب لوگوں نے انہیں خفیہ راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تو آپؑ نے فرمایا: "میں شاہراہِ عام سے نہیں ہٹوں گا، اللہ جو چاہے گا۔”

جوش ملیح آبادی کے یہ اشعار اس سفر کی کیفیت کو بخوبی بیان کرتے ہیں:

کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسینؑ
چرخِ نوعِ بشر کے تارے ہیں حسینؑ
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حسینؑ

مغربی مفکرین نے جب حسین ابنِ علیؑ کی سیرت کا مطالعہ کیا، تو انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ مدینہ سے مکہ اور پھر عراق و کربلا تک کا سفر امامؑ نے بالکل عام راستوں پر کیا۔ جب کسی کو حکومتِ وقت سے خوف ہو تو وہ چھپ کر اور راستے بدل کر نکلتا ہے۔ ایسا قافلہ تب ہی حرکت کرتا ہے جب اسے کسی کا خوف نہ ہو اور حق پر ہونے کا کامل اعتماد ہو۔ یہ بے خوفی اور اعتماد مجھے اسفارِ حسینؑ کی سب سے بڑی خوبی لگتی ہے۔

بعض مؤرخین ۲۶ سے ۳۰ ہجری کے دوران مصر، شمالی افریقہ اور ایران کی طرف امامؑ کے اسفار کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ چونکہ کربلا کا سفر اتنا وسیع اور فکر انگیز ہے کہ ان ابتدائی اسفار کی طرف دھیان کم ہی جاتا ہے۔

مولا علیؑ فرات کے کنارے سے گزرتے ہوئے ایک حدیث کی طرف اشارہ فرماتے ہیں: "یا ابا عبداللہ! صبر کرنا۔” یہ وہی روایت تھی جس میں رسولِ کریمﷺ کو کربلا کی مٹی دکھائی گئی تھی اور آپؐ اشک بار تھے۔

معذرت کے ساتھ، ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ ایک مخصوص طبقہ تب تک کسی سچائی کو تسلیم نہیں کرتا جب تک اس پر مغربی دانشوروں کی مہر نہ لگی ہو۔ اسی احساس کو سامنے رکھتے ہوئے، میں نے ضروری سمجھا کہ کچھ مغربی مفکرین کے نظریات بھی شریک کروں۔ ڈاکٹر کرس ہیور (Dr. Chris Hewer) اپنی تحقیق میں لکھتے ہیں کہ حسینؑ مدینے کے محلات کے نہیں، بلکہ مدینے کے مضافات میں وادیِ ینبع کے تپتے صحراؤں کے باسی تھے۔ وہ وہاں ایک محنتی کسان کی طرح کام کرتے، کنویں کھودتے اور جو کماتے اسے یتیموں اور غریبوں میں بانٹ دیتے۔ ایک ایسا شہزادہ جو زمین کے سینے سے رزق نکالتا ہو، وہ اقتدار کا بھوکا کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ سادگی ان کے کردار کا پہلا سفر تھا۔

۳ اور ۴ محرم کے واقعات گزشتہ قسط میں بیان ہو چکے ہیں، مگر ۵ اور ۶ محرم کو حالات نے مزید سنگینی اختیار کر لی۔ فوج بڑھتی گئی، خیموں کا محاصرہ سخت ہو گیا اور پانی کا راستہ بند کر دیا گیا۔ کوفہ کے گورنر ابنِ زیاد نے یزیدی لشکر کے کمانڈر عمر ابنِ سعد کے پاس شمر بن ذی الجوشن کو بھیجا۔ احکامات واضح تھے: یا تو بیعتِ یزید کی جائے یا جنگ۔

ایسے کٹھن حالات میں امام حسینؑ کے دیرینہ رفیق حبیب ابنِ مظاہرؑ سخت نگرانی کے باوجود کربلا پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی آمد نے قافلۂ حق کے حوصلوں کو تقویت بخشی۔ محسن نقوی شہید کی یہ رباعی اس منظر کی بہترین عکاسی کرتی ہے:

بڑھتی ہے برہمی سی ذرا نورِ عین میں
ملتا ہے اضطراب یونہی دل کے چین میں
سیلاب دیکھتا ہوں تو آتا ہے یہ خیال
پانی بھٹک رہا ہے تلاشِ حسینؑ میں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے