تذکرہِ اہل بیت ؑ: سندِ ایمان اور معیارِ حق
جنت کے جوانوں کے سردار: محبت کے رشتے تاریخی اقوال کی روشنی میں
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت برکت والا اور انسانوں سے بے پناہ محبت کرنے والا ہے۔ یقین جانیے، جن سے اللہ محبت کرتے ہیں، ان کے لیے آزمائش بھی شاید اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما اسلام کی وہ روشن نشانیاں ہیں جن کی اہمیت ازلی ہے اور ابدی رہے گی۔ ان کا مقام کیا ہے اور یہ کس قدر عظیم ہیں، اسے سمجھنے کے لیے ہم ان مقدس ہستیوں کے اقوال کی طرف رجوع کرتے ہیں جن کی زبانیں وحی کی روشنی سے منور تھیں۔
رسول اللہ ﷺ کے حضرت حسین ؓ سے تعلق کو سمجھنا ہو تو بس یہ ایک جملہ کافی ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں”۔ یہ رشتہ صرف خون کا نہیں، دین کا، دعوت کا، اور قربانی کا رشتہ بھی ہے۔ نبوت کی میراث اور حسینیت کا سفر ایک ہی نور کے دو نام ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے رب کے حضور دعا فرمائی: "اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما”۔ یعنی حسین ؓ سے محبت ایک ایسی زنجیر ہے جو سیدھی اللہ کے دربار تک پہنچتی ہے۔ آپ ﷺ نے اس امت کو ایک ابد تک یاد رہنے والا اعزاز سنایا جب فرمایا: "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں”۔ اور پھر معیار بھی قائم کر دیا: "جس نے حسن اور حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا”۔
حدیثِ کساء میں آپ ﷺ نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ ؓ کو اپنی چادر میں لے کر دعا فرمائی: "اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے گندگی دور فرما اور انہیں پاک کر”۔ حدیثِ ثقلین میں فرمایا: "میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی اہل بیت”۔ حدیثِ مودت میں جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ تو آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ "قربیٰ” سے مراد علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں۔ آپ ﷺ حسین ؓ کو دیکھ کر فرماتے: "یہ میرا بیٹا ہے، اس کی خوشبو جنت کی خوشبو ہے”۔ اور کئی ماہ تک حضرت فاطمہ ؓ کے گھر کے پاس سے گزرتے اور فرماتے: "الصلاة يا أهل البيت” اور یہ آیت پڑھتے: إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت۔
حضرت علی ؓ کے دل میں حسین ؓ کا کیا مقام تھا؟ یہ ان کے اپنے الفاظ سے سمجھیے جب انہوں نے فرمایا: "حسین میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور میری روح کا حصہ ہے”۔ اپنے دونوں بیٹوں کے بارے میں فرماتے: "میرے ان دونوں بیٹوں کو دیکھو یہ رسول اللہ ﷺ کی یادگار ہیں۔ ان سے محبت کرو کیونکہ ان سے محبت رسول ﷺ سے محبت ہے”۔ جب حضرت علی ؓ کا لشکر کربلا کی سرزمین سے گزرا تو آپ ؓ وہاں رک گئے، اس زمین کی مٹی کو ہاتھ میں لیا، آنسو بہائے اور فرمایا: "یقیناً یہاں ان کا خون بہے گا، یہاں ان کے خیمے نصب ہوں گے، اور یہاں رسول اللہ ﷺ کے خاندان کے بہترین افراد شہادت پائیں گے”، پھر حسین ؓ کی طرف دیکھ کر غمگین آواز میں پکارا: "صبراً یا ابا عبداللہ! صبراً یا ابا عبداللہ!”۔
زخمی حالت میں وصیت کے وقت فرمایا: "بیٹے! تم پر اللہ کی وصیت کرتا ہوں یعنی تقویٰ اختیار کرنا، نماز قائم رکھنا، زکوٰۃ دیتے رہنا، اور لوگوں سے میل جول رکھنا جیسا میں رکھتا تھا”۔ آپ ؓ فرماتے: "میرا بیٹا حسین شجاعت میں اپنے نانا رسول اللہ ﷺ کا وارث ہے، اور سخاوت میں ان کا آئینہ ہے”۔ اس طرح نہج البلاغہ میں ان کے الفاظ ہیں کہ دنیا میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے وہ میری اولاد ہے، اور حسن و حسین میرے دل کے دو ٹکڑے ہیں۔
حضرت فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار نے حسین ؓ کی ولادت پر فرمایا: "اے میرے لختِ جگر! اے میری آنکھوں کی روشنی! تم پر اللہ کی رحمت ہو، تم دین کی سربلندی کے لیے آئے ہو”۔ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں حسین ؓ کی شہادت کی خبر دی تو انہوں نے روتے ہوئے کہا: "بابا! میرا بیٹا حسین شہید ہوگا؟” آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں تو انہوں نے کہا: "اللہ انہیں شہادت کا اعلیٰ مقام عطا فرمائے”۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کے لیے دعا فرماتی تھیں: "اے اللہ! جس طرح تو نے انہیں رسول کریم ﷺ کا لختِ جگر بنایا ہے، اسی طرح انہیں اپنی محبت اور قرب عطا فرما”۔
حسین ؓ کی شخصیت کے بارے میں فرمایا: "حسین اپنے نانا کے ہمشکل ہیں اخلاق میں، چہرے میں، اور جرأت میں۔ جو حسین کو دیکھتا ہے گویا محمد ﷺ کو دیکھتا ہے”۔ وفات سے پہلے حسین ؓ کو سینے سے لگایا اور فرمایا: "بیٹے! تم میری اور اپنے نانا کی امانت ہو۔ تم پر اسلام کی ذمہ داری ہے۔ ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھنا”۔ پھر خوب روئیں۔
دو بھائیوں کا رشتہ جب روح کی گہرائیوں تک اترا ہو تو الفاظ ایسے نکلتے ہیں جیسا کہ حضرت حسن ؓ نے فرمایا: "حسین میرا بھائی نہیں، میری روح کا دوسرا حصہ ہے۔ جب میں حسین کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے نانا ﷺ یاد آتے ہیں”۔ آپ ؓ نے اپنے بھائی کی شجاعت کے بارے میں فرمایا: "میرا بھائی حسین اپنے والد علی ؓ کا شیر ہے۔ میں نے کبھی اسے باطل کے سامنے جھکتے نہیں دیکھا، نہ بچپن میں، نہ جوانی میں” اور امت کو بتایا:”اللہ نے حسین کو ایک خاص مقام دیا ہے۔ وہ اس امت کے لیے چراغ ہے۔ جب اندھیرا چھائے گا تو حسین کی یاد راستہ دکھائے گی”۔
وفات سے پہلے وصیت کی: "میرے بعد حسین تمہارا سردار ہے۔ اس کی اطاعت کرو، اسے تنہا مت چھوڑنا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی امانت ہے تمہارے درمیان”، اور آخری سانسوں میں حسین ؓ کا ہاتھ تھامے فرمایا: "بھائی! میں جا رہا ہوں۔ صبر کرنا، ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنا، ہم جلد جنت میں ملیں گے”²³ .
حضرت حسین ؓ نے مدینہ چھوڑتے وقت اپنے مقصد کو ان الفاظ میں بیان کیا: "میں اپنے نانا محمد ﷺ کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے، اور نانا و والد کی سیرت پر چلنے کے لیے”۔ یہ وصیت نامہ انہوں نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو لکھا۔ کربلا کے آخری لمحات میں جب ہر طرف سے تنہائی نے گھیر لیا تو پکارے: "اے نانا! آپ کے لشکر آسمان پر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں جلد آپ سے ملوں گا”۔
اپنے والد حضرت علی ؓ کی شہادت پر روتے ہوئے فرمایا: "آج رات ایسا شخص شہید ہوا جس نے رات کو عبادت میں گزارا، دن کو روزہ رکھا، اور اپنے ہاتھوں سے جہاد کیا۔ اللہ کی قسم! ان کا مقام اس سے بلند ہے جو کوئی بیان کر سکے”۔ کربلا کے میدان میں للکار کر فرمایا: "میں علی کا بیٹا ہوں، میں فاطمہ کا بیٹا ہوں کیا تم جانتے نہیں کہ میرے والد کون تھے؟ وہ جنہوں نے اسلام کو اپنے خون سے سینچا”۔ اپنی والدہ کا ذکر کرتے تو آنکھیں بھر آتیں اور فرماتے: "میری ماں کو میں نے بہت کم دیکھا لیکن ان کی محبت میرے رگ رگ میں ہے۔ وہ اللہ کے نبی کی بیٹی تھیں اور میری پرورش کرنے والی”۔ اور جب کربلا میں مصائب ٹوٹے تو پکار اٹھے: "اے میری ماں فاطمہ! اے میرے نانا محمد ﷺ! دیکھیں آپ کے حسین پر کیا بیت رہی ہے”۔
اپنے بھائی حسن ؓ کی وفات پر فرمایا: "آج میرا سہارا چھن گیا۔ بھائی کے بعد میں اس دنیا میں اکیلا ہوں”۔ اور جب لوگوں نے حسن ؓ کی صلح پر اعتراض کیا تو دفاع کیا: "میرے بھائی نے جو فیصلہ کیا وہ سوچ سمجھ کر کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کا خون بچایا، یہ ان کی عظمت ہے، کمزوری نہیں”۔ کربلا کے میدان میں بھائی کو یاد کیا: "اے حسن بھائی! کاش تم آج یہاں ہوتے لیکن تم پہلے چلے گئے اور میں بھی جلد آ رہا ہوں۔
ہم دونوں نانا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے”۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کا سب سے بڑا فخر کیا ہے؟ تو فرمایا: "میرا سب سے بڑا فخر یہ ہے کہ میں محمد ﷺ کا نواسہ ہوں، علی ؓ کا بیٹا ہوں، اور فاطمہ ؓ کا لختِ جگر ہوں یہ تین نسبتیں کافی ہیں”۔ کربلا جاتے وقت آخری بات یہ کہی: "میں اپنے نانا محمد ﷺ کا راستہ، اپنے والد علی ؓ کی جرأت، اور اپنی والدہ فاطمہ ؓ کا صبر لے کر جا رہا ہوں یہ تینوں میرے ساتھ ہیں اور اللہ پر میرا بھروسہ ہے”۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: "حسین ابن علی اس امت کے سردار ہیں جو انہیں چاہتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کو چاہتا ہے اور جو ان سے دشمنی رکھتا ہے وہ اللہ سے دشمنی رکھتا ہے”۔ جب حسین ؓ کربلا کی طرف روانہ ہوئے تو ابن عباس ؓ روتے ہوئے انہیں روکنے آئے اور فرمایا: "اے میرے چچا کے بیٹے! میرا دل گواہی دیتا ہے کہ تم واپس نہیں آؤ گے یہ سفر شہادت کا سفر ہے”۔ حسین ؓ نے فرمایا: اللہ کی مرضی پوری ہو کر رہے گی، اور ابن عباس ؓ بہت دیر تک روتے رہے۔ آپ ؓ نے یہ بھی فرمایا: "میں نے حسین ؓ جیسا عابد نہیں دیکھا، وہ رات کو اٹھتے، روتے، تلاوت کرتے اور صبح تک اللہ سے لو لگائے رکھتے”۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے حسین ؓ کو دیکھ کر کھڑے ہو کر فرمایا: "یہ وہ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے محبت کی، جنہیں گود میں بٹھایا، جن کے لیے دعا کی، ان کی عزت کرنا ہم سب پر واجب ہے”۔ اور کربلا کی خبر آنے پر فرمایا: "إنا للہ وإنا إليه راجعون آج اسلام کا سب سے بڑا نقصان ہوا۔ آج رسول اللہ ﷺ کا لختِ جگر شہید کیا گیا” اور بہت دیر تک روتے رہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو حسین سے زیادہ نبی ﷺ سے مشابہ ہو۔ چہرہ، گفتار، چال ڈھال سب نبی ﷺ جیسا تھا”۔ شہادت کا ذکر آتا تو روتے اور فرماتے: "مجھے اس دن پر بہت افسوس ہے جس دن نبی ﷺ کا نواسہ پیاسا شہید کیا گیا۔ اس دن آسمان بھی رویا”۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسین ؓ کو کندھے پر بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: اے لوگو! اس سے محبت کرو — جابر! اس لمحے کو کبھی مت بھولنا”۔ یہ پہلے صحابی تھے جو کربلا کی زیارت کے لیے تشریف لائے اور قبر پر پہنچ کر فرمایا: "اے حسین! تم نے وہ کیا جو ایک سچے مسلمان کو کرنا چاہیے۔ تم نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ السلام علیک یا ابا عبداللہ”۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا: "میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ حسن اور حسین ؓ کو گود میں لیے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: یہ دونوں میرے پھول ہیں” اور فرمایا کہ حسین ؓ کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ کوئی ان کے دروازے سے خالی نہیں گیا، یہ خصلت انہیں اپنے نانا ﷺ سے ملی تھی۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسین ؓ کو چوم رہے تھے اور فرما رہے تھے: یہ میرابیٹا ہے۔ اے ابو ہریرہ! جو اسے چاہے وہ مجھے چاہتا ہے” اور شہادت کی خبر سن کر فرمایا: "إنا للہ آج اسلام یتیم ہو گیا۔ آج وہ شہید ہوا جس کی خوشبو جنت کی خوشبو تھی”۔
حضرت ام سلمہ ؓ ام المؤمنین نے بیان کیا: "رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک شیشی میں کربلا کی مٹی دی اور فرمایا: جب یہ خون بن جائے تو سمجھ لینا حسین شہید ہو گیا میں نے وہ شیشی سنبھال کر رکھی اور محرم 61 ہجری کو وہ خون بن گئی”۔ آپ ؓ فرماتی تھیں: "حسین جب بھی میرے پاس آتے تو نبی ﷺ کی یاد تازہ ہو جاتی ان کی چال، ان کی گفتگو، ان کی مسکراہٹ سب نبی ﷺ جیسی تھی”۔
حضرت سلمان فارسی ؓ نے فرمایا: "میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں اے سلمان! اس بچے کو یاد رکھنا، یہ امت کا چراغ ہے”۔ حسین ؓ کی ولادت کے دن کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا: "میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جو میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی”۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حسین ؓ کو گھر آتے دیکھا تو خود باہر آ گئے اور فرمایا: "نبی ﷺ کے بیٹے کو میرے گھر آنا پڑا؟ مجھے آنا چاہیے تھا آؤ بیٹے، یہ گھر تمہارا ہے” اور منبر پر ارشاد فرمایا: "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں یہ بات نبی ﷺ نے فرمائی اور میں اسے لوگوں تک پہنچاتا ہوں”۔
حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے فرمایا: "حسین کو دیکھو یہ نبی ﷺ کا ہمشکل ہے، نبی ﷺ کی یادگار ہے۔ اس سے محبت کرنا دین کا حصہ ہے”۔ اور ایک بار حسین ؓ کو گود میں بٹھا کر فرمایا: "یہ نبی ﷺ کا بیٹا ہے اے لوگو! اپنے بچوں کو ان سے محبت سکھاؤ”۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: "میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو حسن اور حسین سے زیادہ پیار کیا ہو، وہ جب آتے تو آپ ﷺ سب کام چھوڑ دیتے” اور شہادت کی خبر سن کر فرمایا: "إنا للہ آج میرا دل پھٹ گیا۔ حسین کی شہادت سے بڑا غم میں نے نہیں دیکھا” اور بہت دیر تک روتی رہیں۔
حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان کیا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ حسین ؓ کو سینے سے لگائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اس دن کے بعد میں نے حسین ؓ کو اللہ کے نزدیک ترین سمجھا”۔
حضرت حسین ؓ سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور یہ محبت نبی ﷺ کی محبت کا تسلسل ہے۔ پوری امت مسلمہ ان کی عظمت پر متفق ہے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حوالہ جات ملاحظہ کریں
¹ (ترمذی 3775 — مسند احمد — بحار الانوار 43/261)
² (صحیح بخاری 3753 — صحیح مسلم 2422 — الکافی 1/461)
³ (ترمذی 3768 — ابن ماجہ 118 — مسند احمد — بحار الانوار 43/264)
⁴ (ابن ماجہ 143 — مسند احمد 2/288 — عیون اخبار الرضا 2/58)
⁵ (صحیح مسلم 2424 — ترمذی 3205 — بحار الانوار 35/207)
⁶ (صحیح مسلم 2408 — ترمذی 3786 — مسند احمد 3/17 — الکافی 2/415)
⁷ (مستدرک حاکم 3/166 — بحار الانوار 43/285)
⁸ (ترمذی 3206 — تفسیر ابن کثیر، سورہ احزاب 33 — تفسیر عیاشی 2/217)
⁹ (تفسیر طبری، سورہ شوریٰ 42:23 — مستدرک حاکم 3/172 — تفسیر قمی 2/274)
¹⁰ (مستدرک حاکم 3/177 — بحار الانوار 43/285)
¹¹ (مسند احمد 1/98 — بحار الانوار 43/261)
¹² (تاریخ طبری 5 — مستدرک حاکم 3/192 — ارشاد مفید 228 — بحار الانوار 44/258)
¹³ (تاریخ طبری 5/147 — بحار الانوار 42/256)
¹⁴ (بحار الانوار 43/261 — مقتل حسین، خوارزمی 1/88)
¹⁵ (بحار الانوار 43/238 — مستدرک حاکم 3/165)
¹⁶ (مستدرک حاکم 3/176 — کنز العمال — بحار الانوار 44/223)
¹⁷ (الکافی 6/33 — کنز العمال 13/674)
¹⁸ (مستدرک حاکم 3/177 — انساب الاشراف — بحار الانوار 43/261)
¹⁹ (بحار الانوار 43/191 — کشف الغمہ — تاریخ ابن عساکر 14)
²⁰ (مستدرک حاکم 3/166 — بحار الانوار 43/318)
²¹ (بحار الانوار 44/26 — کامل الزیارات — مقتل حسین، خوارزمی 1/144)
²² (تاریخ طبری 5/158 — انساب الاشراف — ارشاد مفید 170 — بحار الانوار 44/1)
²³ (تاریخ طبری 5 — البدایہ والنہایہ، ابن کثیر — بحار الانوار 44/141 — ارشاد مفید 172)
²⁴ (تاریخ طبری 5/403 — بحار الانوار 44/329)
²⁵ (بحار الانوار 45/51 — مقتل حسین، خوارزمی)
²⁶ (تاریخ طبری 5/147 — البدایہ والنہایہ — بحار الانوار 42/285 — ارشاد مفید 23)
²⁷ (تذکرۃ الخواص 148 — بحار الانوار 45/7 — لہوف، ابن طاؤس)
²⁸ (امالی صدوق 191 — مقتل حسین، خوارزمی 1/87)
²⁹ (تذکرۃ الخواص 148 — لہوف 113 — بحار الانوار 45/46)
³⁰ (تذکرۃ الخواص 200 — انساب الاشراف — بحار الانوار 44/141 — کامل الزیارات 52)
³¹ (تاریخ طبری 5/162 — انساب الاشراف — بحار الانوار 44/21)
³² (تذکرۃ الخواص 148 — بحار الانوار 45/46 — لہوف، ابن طاؤس)
³³ (تذکرۃ الخواص 233 — بحار الانوار 44/191 — احتجاج طبرسی)
³⁴ (تاریخ طبری 5 — البدایہ والنہایہ — بحار الانوار 44/367 — لہوف)
³⁵ (مستدرک حاکم 3/177 — بحار الانوار 44/203)
³⁶ (تاریخ طبری 5/383 — البدایہ والنہایہ — بحار الانوار 44/364 — لہوف)
³⁷ (حلیۃ الاولیاء، ابو نعیم 2/39 — بحار الانوار 44/191)
³⁸ (صحیح بخاری، ادب المفرد — مستدرک حاکم 3 — بحار الانوار 43/264)
³⁹ (تاریخ طبری 5 — انساب الاشراف — بحار الانوار 45/197)
⁴⁰ (ترمذی، مناقب — مستدرک حاکم 3/177 — بحار الانوار 43/261)
⁴¹ (مسند احمد 3 — طبقات ابن سعد — بحار الانوار 45/201)
⁴² (مستدرک حاکم 3/166 — مسند احمد — بحار الانوار 43/285)
⁴³ (تاریخ طبری 5 — انساب الاشراف — کامل الزیارات 115 — بحار الانوار 65)
⁴⁴ (صحیح بخاری، ادب المفرد — مسند احمد 3 — بحار الانوار 43/285)
⁴⁵ (ترمذی 3775 — مسند احمد 2 — بحار الانوار 43/261)
⁴⁶ (تاریخ ابن عساکر 14 — بحار الانوار 45/197)
⁴⁷ (مستدرک حاکم 3/176 — مسند احمد — بحار الانوار 44/225 — کامل الزیارات)
⁴⁸ (طبقات ابن سعد 5 — تاریخ ابن عساکر — بحار الانوار 43/261)
⁴⁹ (کنز العمال 13/674 — بحار الانوار 43/264 — امالی طوسی)
⁵⁰ (بحار الانوار 43/238 — مستدرک حاکم 3/165)
⁵¹ (تاریخ ابن عساکر 14 — انساب الاشراف — بحار الانوار 44/203)
⁵² (مستدرک حاکم 3 — کنز العمال — بحار الانوار 43/264)
⁵³ (مستدرک حاکم 3/168 — انساب الاشراف — بحار الانوار 43/285)
⁵⁴ (طبقات ابن سعد 5 — تاریخ ابن عساکر — بحار الانوار 43/285)
⁵⁵ (مسند احمد 6 — صحیح بخاری، ادب المفرد — بحار الانوار 43/285)
⁵⁶ (تاریخ طبری 5 — البدایہ والنہایہ — بحار الانوار 45/197)
⁵⁷ (ترمذی 3775 — مسند احمد — بحار الانوار 43/261)