۷ اور ۸ محرم ؛ فرات کے کنارے خیموں کی داستان
میرے لیے "اسفارِ حسین” کی اقساط لکھتے ہوئے اتنے مشکل اوقات نہیں آئے جتنے محرم کے دنوں کے بارے میں لکھتے ہوئے آ رہے ہیں۔
پہلے خود تاریخ کے صفحے کھولتا ہوں، اندر سے ہل جاتا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ یہ محرم کی کربلا کی داستان کیسے لکھی جائے؟ ہر لفظ کے ساتھ دل بیٹھ جاتا ہے اور غم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اپنی بساط، اوقات اور ظرف کے مطابق ان احوال کو بیان کر سکوں جو ۷ اور ۸ محرم کو رونما ہوئے تھے، اور ساتھ میں یہ بھی بیان کر سکوں کہ کربلا میں امام کے قافلے کے خیمے کہاں تھے، کون کون ساتھ تھا اور ان کی ذمہ داریاں کیا تھیں، امام کے مخالف کون تھے، اور آپؑ کی حکمتِ عملی کیا تھی۔
میرے لیے ذاتی طور پر بھی محرم کا مہینہ بہت غم بھرے تجربات رکھتا ہے۔۔۔ میری ماں بی بی 7 محرم الحرام کو اس دنیائے فانی سے سفر فرما گئی تھیں۔
غمِ والدہ اور غمِ حسین کے ساتھ ساتھ گزرتا ہے محرم میرا۔
میرے لیے دونوں کرب بہت عظیم ہیں، میری بی بی کا بھی اور میرے حسین کا بھی۔
پھر دعا کرتا ہوں۔
اللہ پاک بی بی کو حضرت فاطمہ و زینب و سکینہ و نفیسہ و عائشہ و اہل بیت و انبیاء کی خواتین کی جوار میں جنت میں رکھنا۔
میں ان سے بہت پیار کرتا ہوں۔ آپ بھی ان سے پیار کرنا۔۔۔
تاریخ کے صفحے پلٹتے ہوئے جب ۷ اور ۸ محرم کے احوال سامنے آتے ہیں تو قلم رک جاتا ہے۔ الفاظ بھاری ہو جاتے ہیں۔ سینہ بھر آتا ہے۔ یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ یہ انسانی تاریخ کا وہ باب ہے جہاں ظلم اپنی انتہا کو پہنچا اور حق اپنی معراج کو۔ جہاں ایک باپ نے اپنے بچوں کی پیاس دیکھی، ایک بہن نے بھائی کی شہادت کا یقین کیا، اور ایک امام نے موت کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا۔ یہ قسط ان دو دنوں کی مکمل تصویر ہے۔ خیموں کے اندر کی داستان بھی، باہر کی جھڑپ بھی، اور رات کے اس تاریخی اجتماع کی روداد بھی جس نے دنیا کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
کربلا کا میدان عراق میں دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع ایک کھلا صحرائی علاقہ تھا۔ کوفے سے تقریباً پچہتر کلومیٹر کے فاصلے پر۔ ایک طرف فرات کا نیلا پانی تھا، دوسری طرف ریت کے اونچے ٹیلے، اور درمیان میں وہ زمین جہاں امام حسین (ع) کے قافلے نے پڑاؤ ڈالا۔ تاریخی روایات کے مطابق مجموعی طور پر بیس سے پچیس خیمے نصب تھے۔ سب سے درمیان میں امام حسین (ع) کا مرکزی خیمہ تھا۔ یہاں مشورے ہوتے، فیصلے ہوتے، اور رات کو اجتماعات ہوتے۔ اس کے بائیں جانب خواتین اور بچوں کے خیمے تھے جن کی نگرانی بی بی زینب (س) کرتی تھیں۔
دائیں جانب حضرت عباس (ع) اور جنگجو صحابہ کے خیمے تھے۔ سامنے کی طرف باقی صحابہ کے خیمے تھے اور پچھلی جانب ریتکے ٹیلے تھے جو قدرتی حفاظتی دیوار کا کام کرتے تھے۔ امام (ع) نے خیموں کے عقب میں خندق بھی کھدوائی تھی اور اس میں لکڑیاں ڈال کر آگ لگانے کا انتظام کیا گیا تھا تاکہ دشمن پیچھے سے اچانک حملہ نہ کر سکے۔ یہ امام (ع) کی فوجی دور اندیشی کی دلیل ہے۔
اب ذرا ان لوگوں کو سمجھتے ہیں جو ان دو دنوں میں اس میدان میں موجود تھے۔ اپنے اپنے کردار کے ساتھ، اپنے اپنے درد کے ساتھ۔ امام حسین (ع) رسول اللہ (ص) کے نواسے، حضرت علی (ع) اور بی بی فاطمہ (س) کے بیٹے پورے قافلے کے روحانی اور فوجی قائد۔ ہر فیصلہ ان سے مشورے کے بعد ہوتا۔ وہ نہ صرف جنگی حکمتِ عملی بناتے بلکہ خواتین اور بچوں کا بھی ذاتی خیال رکھتے۔ دن میں کئی بار خیموں کا چکر لگاتے اور ہر ایک کا حال پوچھتے۔
ان کے پہلو میں تھے حضرت عباس (ع) سوتیلے بھائی، حضرت علی (ع) کے بیٹے، لقب قمرِ بنی ہاشم۔ وہ لشکر کے علمدار یعنی جھنڈا اٹھانے والے اور پورے کیمپ کے سپہ سالار تھے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ دشمن کی حرکات پر نظر رکھیں، صحابہ کا حوصلہ بلند رکھیں اور خیموں کی بیرونی حفاظت کریں۔ دشمن بھی ان کی بہادری کا لوہا مانتا تھا۔
خیموں کے اندر بی بی زینب (س) تھیں۔ حضرت علی (ع) اور بی بی فاطمہ (س) کی بیٹی، امام حسین (ع) کی بہن۔ وہ خیموں کی مکمل نگران تھیں۔ عورتوں، بچوں اور زخمیوں کی دیکھ بھال ان کے ذمے تھی۔ لیکن اس سے بڑھ کر وہ امام (ع) کی قریبی مشیر بھی تھیں جب بھی کوئی اہم فیصلہ ہوتا، زینب (س) کو ضرور بتایا جاتا۔ ان کے ساتھ تھیں بی بی ام کلثوم (س) امام (ع) کی دوسری بہن جو بیمار اور کمزور عورتوں کی دیکھ بھال میں مصروف رہتیں اور رات کو عبادت میں گزارتیں۔ امام (ع) کی اہلیہ بی بی رباب (س) اپنے چھ ماہ کے شیر خوار بیٹے علی اصغر (ع) کے ساتھ تھیں اور دوسری اہلیہ بی بی ام لیلیٰ (س) اپنے اٹھارہ سالہ جوان بیٹے علی اکبر (ع) کی والدہ تھیں جو شکل و صورت میں رسول اللہ (ص) سے مشابہ تھے۔
یہاں ایک اہم اور اکثر کم بیان کی جانے والی بات کا ذکر ضروری ہے۔ بی بی زینب (س) کے شوہر عبداللہ ابنِ جعفرِ طیار تھے۔ حضرت جعفرِ طیار کے بیٹے جو رسول اللہ (ص) کے چچا زاد تھے۔ کربلا کے وقت وہ بیمار تھے اس لیے خود نہ آ سکے۔ لیکن انہوں نے اپنے دونوں بیٹے عون اور محمد کو زینب (س) کے ساتھ روانہ کیا۔ انہوں نے امام (ع) کو خط بھی لکھا: "یا ابا عبداللہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ واپس آ جائیں۔” امام (ع) نے جواب دیا کہ رسول اللہ (ص) نے خواب میں اس راستے پر چلنے کا حکم دیا ہے۔
عبداللہ ابنِ جعفر کا دل بھاری تھا۔ وہ جانتے تھے کہ بیوی اور بیٹے کہاں جا رہے ہیں۔ قافلے میں امام حسن (ع) کے بیٹے قاسم (ع) بھی تھے۔ تیرہ چودہ سال کی عمر، باپ کی وصیت لے کر آئے تھے کہ چچا کا ساتھ دینا ہے۔ اور تھے زہیر ابنِ قین پہلے معاویہ کے حامی، لیکن راستے میں امام (ع) سے ملاقات نے انہیں مکمل بدل دیا اور حبیب ابنِ مظاہر امام (ع) کے قدیمی صحابی، بوڑھے لیکن حوصلے میں جوانوں سے بڑھ کر تھے۔
اب دوسری طرف نظر ڈالتے ہیں۔ یزید ابنِ معاویہ اموی خلافت کا حاکم تھا جس نے امام حسین (ع) سے بیعت مانگی اور انکار پر یہ سب کچھ ہوا۔ اس کا کردار شرابی، فاسق اور اسلامی اصولوں کے منافی تھا، یہ بات سنی اور شیعہ دونوں مکاتبِ فکر کے مؤرخین نے لکھی ہے۔
کوفے میں اس کا گورنر عبیداللہ ابنِ زیاد بیٹھا تھا ظالم، چالاک، اور یزید کا سب سے وفادار آلہ کار۔ اسی نے پانی بند کرنے کا حکم دیا۔ میدان میں لشکر کا سپہ سالار عمر ابنِ سعد تھا جسے ری کی گورنری کا لالچ دیا گیا تھا۔ دل میں کشمکش تھی لیکن دنیا کے لالچ نے اسے روک لیا۔ اور سب سے سخت دل کمانڈر شمر ابنِ ذی الجوشن تھا جو جب بھی عمر ابنِ سعد کا دل ڈولتا، اسے سختی پر آمادہ کرتا۔
امام حسین (ع) کی حکمتِ عملی کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ بہت لوگ یہ سوچتے ہیں کہ وہ یہاں لڑنے آئے تھے۔ درحقیقت امام (ع) کے سامنے تین اصول تھے۔ پہلا جنگ کی ابتداء ہم نہیں کریں گے، تاکہ تاریخ میں ظالم اور مظلوم ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائیں۔ دوسرا مذاکرات کا دروازہ آخری لمحے تک کھلا رکھو۔ تیسرا کمزوروں کی حفاظت ہر چیز سے پہلے۔ خندق کھودنا، خیموں کی ترتیب، پانی کا انتظام — یہ سب اسی اصول کے تحت تھا۔
پھر آئی ۷ محرم کی وہ صبح جس نے سب کچھ بدل دیا۔ کوفے سے ابنِ زیاد کا سخت فرمان آیا کہ فوری طور پر فرات کا پانی بند کر دو، حسین اور ان کے ساتھیوں کو ایک قطرہ بھی نہ ملے۔ عمر ابنِ سعد نے پانچ سو سواروں کو فرات کے کنارے تعینات کر دیا۔ یہ خبر جب خیموں میں پہنچی تو ایک سکتہ چھا گیا۔ بچے پیاسے تھے، عورتیں پریشان تھیں اور مرد غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ لیکن امام حسین (ع) بالکل پرسکون رہے۔ انہوں نے فوری طور پر حضرت عباس (ع) کو بلایا اور تیس سوار اور بیس پیادہ دے کر پانی لانے بھیجا۔ حضرت عباس (ع) نے نکلتے وقت کہا: "یا حسین! میرے ہوتے ہوئے آپ کے خیموں میں پیاس رہے، یہ ممکن نہیں۔” دشمن کے پہرے داروں سے سخت جھڑپ ہوئی، نافع ابنِ ہلال نے دشمن کو للکارا اور بہت مشکل سے کچھ مشکیزے بھر کر خیموں تک پہنچائے یہ پانی بہت کم تھا لیکن اس وقت سونے سے زیادہ قیمتی تھا۔
اسی دوران خیموں کے اندر ایک اور دردناک منظر تھا۔ چھوٹی سکینہ بنتِ حسین (س) جو پانچ سال کی تھیں، "ابا! پانی” کہہ کر رو رہی تھیں۔ امام (ع) نے انہیں گود میں اٹھایا، سینے سے لگایا اور اپنی انگلی ان کے ہونٹوں پر رکھ دی۔ امام (ع) کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن وہ بیٹی کو دیکھ کر مسکراتے رہے تاکہ وہ مزید نہ روئے۔ بی بی رباب (س) اپنے چھ ماہ کے علی اصغر (ع) کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں وہ خود پیاسی تھیں اور بچہ بھوکا پیاسا تھا، علی اصغر (ع) پیاس سے اتنا روئے کہ آواز بیٹھ گئی۔
بی بی زینب (س) نے جیسے ہی یہ سب دیکھا، فوری خیموں کا چکر لگایا، بچوں کو جمع کیا اور کہا: "صبر کرو میرے بچو، اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔” پھر بیمار عورتوں کے پاس بیٹھ کر قرآن کی آیات سنائیں تاکہ ذہن پیاس سے ہٹے۔ زینب (س) خود ٹوٹ رہی تھیں لیکن کسی کو ٹوٹنے نہیں دے رہی تھیں۔ بی بی ام کلثوم (س) نے علی اصغر (ع) کو گود میں اٹھا لیا اور گھنٹوں سینے سے لگائے بیٹھی رہیں۔ بی بی ام لیلیٰ (س) اپنے جوان بیٹے علی اکبر (ع) کو دیکھتی رہیں دل بھاری تھا لیکن بیٹے کے سامنے کمزوری نہیں دکھائی۔
پھر آئی ۸ محرم کی صبح۔ امام (ع) نے زہیر ابنِ قین کو عمر ابنِ سعد کے پاس بھیجا یہ آخری مذاکرات کی کوشش تھی۔ زہیر عمر کے خیمے میں گئے اور کہا: "عمر! تم جانتے ہو یہ کون ہیں؟ یہ رسول اللہ (ص) کے نواسے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے اس لشکر کو چھوڑ دو۔ اللہ کے حضور کیا جواب دو گے؟”۔ عمر ابنِ سعد خاموش رہا، پھر بولا: "میں سمجھتا ہوں جو تم کہہ رہے ہو لیکن میرا گھر، جائیداد، گورنری، سب خطرے میں آ جائے گی۔” زہیر نے آخری بات کہی: "عمر! دنیا کی گورنری کے لیے آخرت برباد کر رہے ہو؟” اور واپس آ گئے۔ اگر عمر ابنِ سعد اس لمحے مان جاتا تو شاید کربلا کا خون نہ بہتا لیکن لالچ کی زنجیر اسے جکڑے ہوئے تھی۔
پھر آئی ۸ محرم کی وہ رات جو کربلا کی سب سے اہم رات تھی۔ امام حسین (ع) نے تمام ساتھیوں کو جمع کیا اور چراغ بجھا دیے تاکہ جو جانا چاہے اندھیرے میں جا سکے، شرمندگی نہ ہو۔ امام (ع) نے فرمایا: "میں نے ایسے اصحاب کبھی نہیں دیکھے جو تم سے بہتر ہوں۔ لیکن میں تم سب کو اجازت دیتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں نکل جاؤ دشمن صرف مجھے چاہتا ہے۔” پھر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔
چند لمحوں بعد حضرت عباس (ع) سب سے پہلے اٹھے: "بھائی جان! کیا ہم آپ کو چھوڑ کر زندہ رہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!” علی اکبر (ع) بولے: "ابا جان! ہم پہلے مریں گے۔” قاسم (ع) اٹھے: "چچا جان! موت مجھے شہد سے بھی میٹھی لگتی ہے جب وہ آپ کے راستے میں ہو۔” پھر ایک ایک کر کے تمام صحابہ نے کہا: "ہم نہیں جائیں گے چاہے ہزار بار مریں!” بی بی زینب (س) خیمے کے پردے کے پیچھے کھڑی یہ سب سن رہی تھیں، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے لیکن ہونٹوں پر فخر کی مسکراہٹ تھی۔
اس رات امام حسین (ع) نے الگ الگ سب سے بات کی۔ حضرت عباس (ع) سے فرمایا: "عباس! کل تم پر سب سے بڑی ذمہ داری ہے خیموں کی حفاظت۔” عباس (ع) نے سر جھکایا: "جان حاضر ہے بھائی جان۔” علی اکبر (ع) سے فرمایا: "بیٹے! کل اذان کے وقت تم اذان دینا تمہاری آواز دادا کی آواز سے ملتی ہے۔” علی اکبر (ع) کی آنکھیں بھر آئیں۔ ³¹ بی بی زینب (س) سے فرمایا: "زینب! میرے بعد تمہیں مضبوط رہنا ہے۔ تم میرا پیغام دنیا تک پہنچاؤ گی، یہ تمہارا جہاد ہے۔
” زینب (س) نے روتے ہوئے کہا: "بھائی جان! آپ نے مجھے یتیم کر دیا!” امام (ع) نے انہیں سینے سے لگایا: "بہن! صبر یہ اللہ کی رضا ہے۔” بی بی رباب (س) سے فرمایا: "رباب! علی اصغر کا خیال رکھنا۔” یہ کہتے ہوئے امام (ع) کی آواز بھاری ہو گئی۔ عون اور محمد اپنی ماں زینب (س) کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے ماں کی طرف دیکھا تو زینب (س) نے خود ان سے کہا: "میرے بیٹو! تم اپنے ننھیال کی عزت ہو کل میدان میں جاؤ تو میں فخر کروں گی، گھبراؤ نہیں۔” یہ وہ ماں تھی جو اپنے بیٹوں کو موت کے لیے خود تیار کر رہی تھی لیکن آنکھ میں آنسو نہیں آنے دیا۔
اسی رات کے کسی پہر میں امام حسین (ع) نے اپنی تلوار صاف کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے جو تاریخ نے محفوظ کیے:
یا دَهرُ اُفٍّ لَکَ مِن خَلیلٍ کَم لَکَ بِالاِشراقِ وَ الاَصیلِ
مِن صاحِبٍ وَ طالِبٍ قَتیلٍ وَ اِنَّما الاَمرُ اِلَی الجَلیلِ
اے دنیا تجھ پر لعنت تو نے کتنے ساتھی قتل کیے اور تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
بی بی زینب (س) نے یہ اشعار سنے تو سمجھ گئیں کہ بھائی کو اپنی شہادت کا یقین ہو گیا ہے۔ وہ دوڑ کر بھائی کے پاس آئیں اور روتے ہوئے کہا: "بھائی جان! آپ نے مجھے یتیم کر دیا!” امام (ع) نے انہیں سینے سے لگایا اور فرمایا: "بہن! صبر یہ اللہ کی رضا ہے۔”
یہ تھی ۷ اور ۸ محرم کی داستان پیاس بھی، عزم بھی، محبت بھی، اور وہ صبر بھی جو صرف اللہ کے چنے ہوئے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ فرات کا پانی بند تھا لیکن ایمان کا دریا ان خیموں میں موجزن تھا۔ دشمن کے پاس تعداد تھی، ہتھیار تھے، طاقت تھی لیکن امام (ع) کے پاس وہ چیز تھی جو کوئی چھین نہیں سکتا: یقین، حق، اور اللہ کی رضا۔
حوالاجات
¹ ابنِ اثیر، الکامل فی التاریخ، جلد ۴، ص ۵۲
² طبری، تاریخ الامم والملوک، جلد ۵، ص ۴۰۸
³ مقتل ابی مخنف، روایت ۴۲
⁴ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۰
⁵ ابنِ اثیر، جلد ۴، ص ۵۳
⁶ لہوف، سید ابنِ طاووس، ص ۸۹
⁷ لہوف، ص ۹۶
⁸ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۹
⁹ ابنِ اثیر، جلد ۴، ص ۵۵؛ طبری، جلد ۵، ص ۴۰۳
¹⁰ مقتل ابی مخنف، روایت ۵۳
¹¹ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۵؛ ابنِ اثیر، جلد ۴، ص ۵۷
¹² طبری، جلد ۵، ص ۳۹۵
¹³ ابنِ اثیر، جلد ۴، ص ۴۸
¹⁴ طبری، جلد ۵، ص ۴۰۹
¹⁵ مقتل ابی مخنف، روایت ۳۹
¹⁶ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۱
¹⁷ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۲
¹⁸ مقتل ابی مخنف، روایت ۴۷
¹⁹ مقتل ابی مخنف، روایت ۴۸
²⁰ لہوف، ابنِ طاووس، ص ۹۸
²¹ مقتل ابی مخنف، روایت ۴۹
²² لہوف، ص ۹۵
²³ لہوف، ص ۹۶
²⁴ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۹
²⁵ طبری، جلد ۵، ص ۴۱۶
²⁶ ابنِ اثیر، جلد ۴، ص ۵۸
²⁷ طبری، جلد ۵، ص ۴۲۰
²⁸ مقتل ابی مخنف، روایت ۵۵
²⁹ لہوف، ابنِ طاووس، ص ۱۰۲
³⁰ طبری، جلد ۵، ص ۴۲۱
³¹ طبری، جلد ۵، ص ۴۲۲
³² لہوف، ص ۱۰۴
³³ مقتل ابی مخنف، روایت ۵۷
³⁴ مقتل ابی مخنف، روایت ۵۱
³⁵ مقتل ابی مخنف، روایت ۵۸؛ لہوف، ص ۱۰۵
³⁶ لہوف، ص ۱۰۶
اگلی قسط: عاشورہ پہلی اذان سے آخری سانس تک