خواجہ آصف صاحب کے بیان کے بعد: کشمیر، کشمیریت اور تاریخ کے چند ناگزیر سوالات

خواجہ آصف صاحب کے حالیہ بیان نے ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جس سے ہم طویل عرصے سے گریز کرتے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے شور اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اگر اس موضوع کو دیکھا جائے تو کچھ ایسے تاریخی حقائق سامنے آتے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا کشمیر کو صرف ایک جغرافیائی تنازع کے طور پر نہیں جانتی بلکہ ایک انسانی المیے کے طور پر بھی جانتی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے جس سطح کی قربانیاں دی ہیں، وہی دراصل عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کی شناخت کا بنیادی حوالہ بنی ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع، جبری گمشدگیاں، طویل نظربندیاں، سیاسی پابندیاں، انسانی حقوق کے تنازعات، مسلسل عسکری ماحول اور 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی جیسے واقعات نے وادی کشمیر کو عالمی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ دنیا جب کشمیر کا نام سنتی ہے تو اس کے ذہن میں سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کے وہی لوگ آتے ہیں جنہوں نے نسل در نسل اس تنازعے کی براہِ راست قیمت ادا کی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ وادی کشمیر صدیوں سے کشمیری زبان، تہذیب، ادب اور ثقافت کا مرکز رہی ہے۔ کشمیریت کا جو تصور دنیا میں معروف ہے، اس کی بنیاد زیادہ تر اسی خطے کی تاریخی، لسانی اور ثقافتی روایتوں پر قائم ہے۔

اس کے مقابلے میں آزاد جموں و کشمیر کی حقیقت نسبتاً مختلف ہے۔ یہاں کے عوام نے یقیناً کشمیر کے مقدمے کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے نے وہ اجتماعی تجربات براہِ راست نہیں دیکھے جو وادی کشمیر کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے اکثر خاندان نسلوں سے انہی علاقوں میں آباد رہے ہیں جہاں وہ آج موجود ہیں۔

ان میں سے بڑی تعداد نے نہ تو وسیع پیمانے کی بے دخلی دیکھی، نہ مستقل عسکری محاصرے کا سامنا کیا اور نہ ہی وہ روزمرہ پابندیاں برداشت کیں جو وادی کے لوگوں کے تجربے کا حصہ رہی ہیں۔

یہ بات بعض اوقات تلخ محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے ایک بڑے حصے کی شناخت تاریخی طور پر مقامی پہاڑی، پوٹھوہاری، گوجری اور دیگر علاقائی روایات سے جڑی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر ایک متنوع معاشرہ ہے جس کی تشکیل مختلف لسانی اور ثقافتی دھاروں سے ہوئی ہے۔ اس تنوع میں کوئی خامی نہیں، بلکہ یہی اس خطے کی خوبصورتی ہے۔ تاہم اس تنوع اور وادی کشمیر کی نسبتاً یکساں تہذیبی شناخت کے درمیان فرق کو تسلیم کرنا بھی تاریخی دیانت داری کا تقاضا ہے۔

شاید اسی لیے بعض اوقات یہ سوال اٹھتا ہے کہ دنیا جب “کشمیری” کہتی ہے تو اس کے ذہن میں زیادہ تر وہ لوگ کیوں آتے ہیں جو سری نگر، بارہ مولہ، اننت ناگ، شوپیاں، کپواڑہ اور وادی کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں؟ اس کی وجہ کسی کو کم یا زیادہ کشمیری قرار دینا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ عالمی شعور میں کشمیری شناخت گزشتہ کئی دہائیوں کی انہی قربانیوں، جدوجہدوں اور انسانی تجربات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جن کا مرکز وادی کشمیر رہی ہے۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کا کشمیر کے ساتھ تعلق کم ہے یا ان کی وابستگی کم تر ہے۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر اور وادی کشمیر کے تاریخی تجربات ایک جیسے نہیں رہے۔ ایک خطے نے تنازعے کے سیاسی اثرات زیادہ محسوس کیے، جبکہ دوسرے خطے نے اس کے انسانی، سماجی اور وجودی اثرات کو نسلوں تک اپنی زندگیوں میں برداشت کیا۔

لہٰذا اگر آج خواجہ آصف کے بیان نے اس بحث کا دروازہ کھولا ہے تو شاید اس موقع کو جذباتی ردعمل کے بجائے تاریخی فہم کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف زمین کا نہیں، بلکہ ان انسانوں کی تاریخ، شناخت اور قربانیوں کا مقدمہ بھی ہے جنہوں نے دہائیوں تک اس تنازعے کا بوجھ اٹھایا۔ ان قربانیوں کو تسلیم کرنا کسی اور کی شناخت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ تاریخ کے ساتھ انصاف کرنے کی ایک کوشش ہے.

خواجہ آصف صاحب کے بیان کا ایک اور اہم پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایک طرف مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے تاریخی وابستگی، جذباتی تعلق اور ان قربانیوں کا حوالہ دیا جو دہائیوں سے پاکستان کے پرچم، پاکستان سے الحاق کے نعرے اور مشترکہ جدوجہد کے تصور کے ساتھ جڑی رہی ہیں۔ دوسری طرف انہوں نے آزاد کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران سامنے آنے والی بعض ایسی شدت پسندانہ اور ریاست مخالف سوچوں پر بھی سوال اٹھایا جو بعض حلقوں کی جانب سے نوجوانوں میں پروان چڑھائی جا رہی ہیں۔ خصوصاً ایسے بیانات، جن میں پاکستان کی مسلح افواج کے بارے میں یہ کہا گیا کہ “بلوچستان سے تو ان کی لاشیں واپس آ جاتی تھیں، یہاں سے ان کی لاشیں بھی نہیں جانے دیں گے”، محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک خطرناک ذہنی رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایک وفاقی وزیرِ دفاع کی حیثیت سے خواجہ آصف کا سوال دراصل یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل اور بیانیے ہیں جو ایک ایسے خطے میں، جسے پاکستان نے دہائیوں سے خصوصی سیاسی، معاشی اور انتظامی سپورٹ فراہم کی، ریاستی اداروں کے بارے میں اس درجے کی تلخی اور محاذ آرائی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف غالباً کسی خطے یا عوام کی توہین نہیں بلکہ اس فکری تبدیلی پر تشویش کا اظہار ہے جس کے اثرات مستقبل میں پورے خطے کے استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے