اقبال حسین افکار اور نصف صدی کا ادبی سفر
دنیا کے مفکرین اور ادبی مکاتبِ فکر میں ادب کے مقصد کو لے کر ہمیشہ گہری بحثیں رہی ہیں۔ جمالیاتی مکتبِ فکر کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ادب کا کوئی سیاسی, اخلاقی یا سماجی مقصد ہونا ضروری نہیں؛ اس کا واحد مقصد خوبصورتی کی تخلیق اور جمالیاتی تسکین فراہم کرنا ہے۔ ان کے نزدیک اگر کوئی تحریر خوبصورت ہے، تو وہی اس کا سب سے بڑا مقصد ہے۔
دوسری طرف، کلاسیکی عہد میں افلاطون جیسا عظیم فلسفی ادب اور شاعری کے خلاف تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ یہ دنیا خود اصل حقیقت کی نقل ہے، اور ادیب یا شاعر اس دنیا کی نقل اتارتا ہے۔ یعنی ادب "نقل کی نقل” ہے، اس لیے یہ انسان کو سچائی سے دور کرتا ہے۔ لیکن جواب میں اس کے اپنے شاگرد اور مشہور مفکر ارسطو نے اپنے استاد کے نظریے کو رد کیا۔ ارسطو نے اپنی معرکہ آرا کتاب بوطیقا (Poetics) میں لکھا کہ ادب صرف نقل نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر دبے ہوئے جذبات کو باہر نکال کر روح کو پاک کرتا ہے، جسے اس نے "تطهیر” (Catharsis) کا نام دیا۔ بعد میں، 18ویں صدی کے آخر میں ابھرنے والے مغربی مکتبِ فکر کے نمائندوں ولیم ورڈزورتھ اور جون کیٹس نے عقل اور قوانین کے مقابلے میں جذبات، تخیل اور فطرت کو اولیت دی اور ادب کو انسان کے باطنی جذبات کا آزادانہ اظہار قرار دیا۔
ارسطو کا ایک مشہور قول ہے:
"شاعری تاریخ کے مقابلے میں زیادہ فلسفیانہ اور اعلیٰ چیز ہے، کیونکہ تاریخ صرف یہ بتاتی ہے کہ کیا ہوا، جبکہ شاعری یہ بتاتی ہے کہ کیا ہو سکتا ہے۔”
ارسطو بالکل بجا فرما رہا ہے، کیونکہ شاعری حقیقت سے اجتناب نہیں کرتی بلکہ آنے والے خدشات کا بھی تعین کرتی ہے۔ ادب جہاں امن اور محبت کا درس دیتا ہے، وہاں جنگ اور شدت پسندی کے نقصانات سے باخبر رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
انھی نظریات کی روشنی میں اگر میں اپنا نظریہ پیش کروں، تو میرا ماننا ہے کہ دنیا میں سب سے مشکل کام اپنے احساسات کی وضاحت کرنا ہے۔ اپنے اندر کے جذبات کو دبانے کے بجائے ان کو لفظوں کا روپ دینا ایک کٹھن فن ہے۔ معاشرے میں خدشات کا اظہار کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ آنے والی مشکلات کا سدِباب ممکن ہو سکے، اور محبت کا اظہار تو اس سے بھی زیادہ ضروری ہے تاکہ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور محبتوں کا وجود قائم و دائم رہے۔
جب ہم شعور، محبت اور تخلیق کے اس سفر کو اپنے خطے میں دیکھتے ہیں، تو خیبر پختونخوا کی زرخیز مٹی یاد آتی ہے جس نے ہر دور میں ایسے نامور شعرا اور ادیبوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے پشتو ادب کی خوبصورتی میں اپنے حصے کا کام انتہائی مخلصی اور ایمانداری سے سرانجام دیا ہے۔
تاریخ میں وہ لوگ ہمیشہ روشن ستاروں کی طرح چمکتے ہیں جو اپنے وجود سے زیادہ اپنا وقت اپنے اعلیٰ مقاصد کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔
پشتو ادب اور اسلام آباد (شہرِ اقتدار) کا تذکرہ ایک ایسی ہی عظیم شخصیت کے بغیر ادھورا ہے۔ پشتو ادب، اسلام آباد اور یہ شخصیت لازم و ملازم بن چکے ہیں۔ محترم اقبال حسین افکار خیبر پختونخوا کے ادبی، سیاسی، علمی اور ثقافتی لحاظ سے زرخیز ضلع مردان میں 1962ء میں پیدا ہوئے۔ لیکن ملازمت کے سلسلے میں اسلام آباد میں رہتے ہوئے وہ شہرِ اقتدار کے ایوانوں کے سامنے اور اختیارات کے میناروں کے نیچے، اپنی مٹی کے کچے کوچوں اور بے بسی کی داستانیں سناتے ہوئے نصف صدی سے پشتو ادب کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔
محترم اقبال حسین افکار سے میرا پہلا رابطہ آج سے بارہ سال پہلے فیس بک کے ذریعے ہوا تھا، کیونکہ اس وقت میری تعیناتی بھی شہرِ اقتدار ہی میں تھی۔ لیکن وہاں اٹھارہ سال گزارنے کے باوجود ہم اتنے بے اختیار رہے کہ ان سے بالمشافہ ملاقات نصیب نہ ہو سکی اور یہ آرزو، آرزو ہی رہی۔ لیکن آج جب دوبارہ ان سے رابطہ ہوا، تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔
ان کی زندگی اور خدمات پر اس ملک اور خاص کر خیبر پختونخوا کے مایہ ناز ادیبوں اور شاعروں نے اپنے اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ پشتو ادب کے جریدوں، کتابوں اور سوشل میڈیا پر ان کی زندگی، ادب اور قد و قامت پر سینکڑوں کی تعداد میں مضامین تحریر ہیں، جو پشتو ادب کے لیے کسی بیش بہا سرمائے سے کم نہیں ہیں۔ لیکن اس سرمائے میں جس ذات نے سب سے زیادہ محبت اور محنت سے کام کیا ہے، وہ پشتو ادب کی مایہ ناز خاتون شاعرہ اور ادیبہ محترمہ سارا خان ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی کتاب "ادبی جرنیل” اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کتاب میں محبت اور ادب دونوں جھلک رہے ہیں؛ حیا بھی ہے اور وفا بھی چمک رہی ہے، زندگی کا حسن بھی ہے اور آنے والے خدشات بھی نمایاں ہیں۔
چند دن پہلے اردو کی ممتاز شاعرہ اور ادیبہ محترمہ ڈاکٹر خالدہ نسیم صاحبہ نے ان کی کتاب ’د دردونو نغمہ گر‘ پر ایک جامع تبصرہ لکھا ہے، جس میں انہوں نے افکار صاحب کی شخصیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور انہیں "فطرت کا شاعر” قرار دیا ہے۔ محترمہ ڈاکٹر خالدہ نسیم صاحبہ نے اقبال حسین افکار کی مشہور نظم "ڈولفن آیان” کا اردو میں منظوم ترجمہ بھی کیا ہے، جو ان کے لیے اور مجموعی طور پر پشتو ادب کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ یہ نظم واقعی دل کو چھو لیتی ہے کیونکہ اس میں افکار صاحب ایک ایسے مظلوم طبقے سے مخاطب ہیں جسے دنیا نے نظر انداز کر دیا ہے، اور جنہیں احساسِ کمتری کا شکار کرنے میں اس سماج نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس نظم کا ترجمہ ڈاکٹر خالدہ نسیم صاحبہ نے کچھ یوں کیا ہے:
ڈولفن آیان۔۔۔۔ تری زندگی کی کہانی بہت تلخ ہے، تو بے کس ۔۔۔ درد اور غم کی تصویر ہے تیرے جذبات، تری آرزوئیں بہت سادہ اور حسین ہیں
تری زندگی ایک آئینہ ہے اس جنگل کے ہجوم کا اور میں اس ہجوم کا حصہ ہوں، اس سماج کا شناسا ہوں، میں اس ہجوم کے رویے پر بہت دکھی ہوں
تو قابلِ قدر ہے، تیرا جمال بھی خوبصورت ہے، اور تیرا کمال بھی عظیم ہے.
اقبال حسین افکار کی یہ نظم پشتو ادب میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ سب سے بہترین شاعری وہی ہوتی ہے جس کے الفاظ محبت، ہمدردی اور ایثار پر مبنی ہوں۔ یقیناً "ڈولفن آیان” کے نام سے منسوب یہ نظم انسانیت سے محبت اور ہمدردی کا ایک واضح اور آفاقی پیغام ہے۔
پشتو کے مشہور شاعر اور ادیب حکیم عبدالرحمان بیتاب نے محترم اقبال حسین افکار کو "ادبی جرنیل” جیسے معتبر خطاب سے نوازا، جو ان کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے اور اسی مناسبت سے محترمہ سارا خان کی کتاب کا نام بھی "ادبی جرنیل” رکھا گیا ہے۔ اقبال حسین افکار پشتو ادب کی کسی بھی قومی یا بین الاقوامی تقریب کی جان ہیں۔ کوئی بھی سیمینار ان کے نام کے ذکر سے شروع ہوتا ہے اور انھی کے نام پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ وہ ایک بہترین اینکر کے فرائض بھی خوب نبھاتے ہیں، چاہے وہ قومی و بین الاقوامی ٹیلی ویژن کے پروگرام ہوں یا سوشل میڈیا کے ادبی فورمز۔ گویا وہ پشتو ادب کا آغاز بھی ہیں اور انجام بھی۔
دنیا میں لکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، اور ستم ظریفی یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی روز بروز کمی آ رہی ہے۔ اب تو ادبی کتابیں پڑھنے والے بھی آٹے میں نمک کے برابر ہی رہ گئے ہیں۔ لیکن دنیا میں وہ شخصیات سینکڑوں سال زندہ رہتی ہیں جنہوں نے کچھ لکھا ہے، اپنے اور معاشرے کے احساسات کی وضاحتیں کی ہیں، ان کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالا ہے اور انھیں قلم کی نوک پر لا کر تحریر، شاعری اور تحقیق کا نام دیا ہے۔
"ادبی جرنیل” اقبال حسین افکار نے اپنی پچاس سالہ ادبی جدوجہد میں گیارہ بیش قیمت کتابوں سے پشتو ادب کو چار چاند لگائے ہیں، جن میں ’ہاشم بابر د خپل فن پہ آئینہ کی‘، ’خوشخال خان اور رحمان‘، ’د مارگلے لمن کے د پختونخوا زلے‘ اور ’د بیدیا سپرلے‘ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ’د وفا مینی خکلہ پہ لور‘، ’مارگلے نہ تر کابلہ‘, ’د جوند رنگونہ‘ اور ’گلورین یادونہ‘ کے علاوہ ’شملی او لوپٹے‘، ’د دردونو نغمہ گر‘ اور ’سیڑنہ او شننہ‘ جیسی تصانیف بھی ان کے قلم کا شاہکار ہیں۔ یہ تمام کتب یقیناً پشتو ادب کا انمول سرمایہ ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی پشتو ادب کا ذکر ہوگا، وہاں اس ادبی جرنیل اقبال حسین افکار کا تذکرہ ضرور آئے گا اور تاریخ کی کتابوں میں ان کا نام ہمیشہ ایک روشن ستارے کی طرح دمکتا رہے گا۔