ہمارے استادِ محترم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مدارس میں تعلیم تو دی جا رہی ہے لیکن تربیت کی کمی ہے؛ تو اسی طرح جو مدارس تعلیم کے ساتھ تربیت کا انتظام کرتے ہیں، ان میں جو گنے چنے مدارس ہیں، ان میں مدرسہ مظاہر العلوم حیدرآباد کا نام بھی نمایاں ہے، جہاں طلباء کی اصلاح اور تربیت پر ادارہ بھرپور اپنی صلاحیتیں خرچ کرتا ہے اور توجہ دیتا ہے۔
مدرسہ مظاہر العلوم حیدرآباد، قدیم حیدرآباد کا وہ قدیم ادارہ ہے جو عرصہ دراز سے دینی اور علمی خدمت سرانجام دے رہا ہے اور اس میں نمایاں مقام رکھنے والے حضرات مسندِ تدریس پر جلوہ افروز ہوتے رہے ہیں، جن میں مفتی محمد وجیہ صاحب کا نام نمایاں ہے، جن کی فقہ اور فتاویٰ کی خدمات سے ایک پوری دنیا واقف ہے۔ مدرسہ مظاہر العلوم سے سینکڑوں کی تعداد میں تشنگانِ علوم نے اپنی پیاس بجھائی ہے، اور اس وقت ان کے فیضیاب علماء اور صلحاء بڑی تعداد میں اپنے اپنے علاقوں میں دینِ متین کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ مظاہر العلوم بہت ساری چیزوں میں ہمارے لیے ایک مثالی ادارہ اور نمونۂ عمل ہے۔ خاص طور پر وہاں طلباء کی تربیت کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی اصلاح کا بھی زبردست انتظام ہے اور اساتذہ کی ہفتہ وار تربیتی مجالس ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے خود حضرت مہتمم صاحب نے فرمایا کہ "میں اساتذہ سے عرض کرتا ہوں کہ آپ کا تعلیمی ناغہ تو مجھے برداشت ہے، لیکن تربیتی نشست سے غیر حاضری مجھے قطعاً قابلِ قبول نہیں ہے”۔
اس کے علاوہ وہاں کی مالیاتی شفافیت اور دیانت داری بھی اپنی مثال آپ ہے۔ وہاں پر جو سالانہ اجتماعی قربانی کا نظم ہے، تو اس کی شفافیت کا ملک بھر میں چرچا رہتا ہے کہ پائی پائی کا حساب ہوتا ہے؛ یہ ایسا عمدہ نظام ہے کہ لوگ ان کو داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ملک بھر میں جو اجتماعی قربانیاں ہوتی ہیں، ان میں شاید پہلے یا دوسرے نمبر پر یہاں سب سے بڑی قربانی ہوتی ہے۔
مزید برآں، وہاں اساتذہ کو بھی بہت ساری سہولیات میسر ہیں؛ جیسے ادارے کی جو گاڑیاں ہیں، ان میں اساتذہ بہت رعایتی اور مناسب قیمت پر سفر کر سکتے ہیں اور ادارہ ان کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ ساری چیزیں ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہیں، جنہیں دیگر مدارس کے ذمہ داران اور اربابِ مدارس اپنا کر اپنے اپنے مدارس کے نظام کی بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔
کل اپنے رفقاء مولانا عبدالقیوم آرائيں ،مولانا لطف اللہ بروہی کے ساتھ مظاہر العلوم حیدرآباد میں یہ ہماری پہلی حاضری تھی، اس سے پہلے ہمیں حاضری کا اتفاق نہیں ہوا تھا، تو الحمدللہ کل یہ سعادت نصیب ہوئی۔ دفترِ اہتمام میں ہماری مفتی محمد فصیح صاحب سے ملاقات ہوئی؛انہوں نے پر تپاک انداز میں استقبال کیا اور والہانہ محبت دی۔
ان سے مدارس کی اصلاح اور مدارس میں تربیت کے نظم کی کمی کے حوالے سے بہت پر اثر اور مفید گفتگو ہوئی۔ خاص طور پر نوجوان علمائے کرام کی فکری، نظریاتی اور روحانی کمزوریوں پر بات ہوئی، جس پر حضرت نے نہایت دردِ دل کے ساتھ اپنی گزارشات پیش کیں۔ حضرت سے یہ ہماری پہلی ملاقات تھی؛ ان کا انداز، ان کی سادگی، ان کا طرزِ استدلال اور ان کی نسبت، یہ سب ہمیں بہت پسند آئیں اور ان کی محفل کی نورانیت اور روحانیت ہمیں محسوس ہوئی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ سب مدارس کے ذمہ داران کو ایسا نظام وضع کرنے کی توفیق عطا فرمائے جہاں سے راسخ العلم علماء، پختہ نظریات اور روحانیت والے علماء تیار ہوں، جو معاشرے کو اتباعِ سنت کا درس دیں اور ان خطوط پر استوار کریں جو قرآن و سنت کے خطوط ہیں اور اکابرینِ امت نے جن کا درس دیا اور جو خدمت سرانجام دی۔